کل رات بھارت سے نہیں امریکہ سے نہیں بلکہ ہمارے اپنے اداروں کے کچھ لوگ نقاب پہن کر آئے اور پارلیمنٹ پر حملہ آور ہو گئے۔۔۔
اگر 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملہ تھا تو کیا کل رات کو پارلیمنٹ اور آئین پر حملہ نہیں ہوا ۔۔۔
علی محمد خان۔۔۔🔥
آپ فرعون سے طاقتور نہیں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرتا تھا۔ آپ بھی بسم اللہ کرئے۔ پارلیمینٹ میں کوئی بولتا ہے تو آپ گالیاں دینے شروع کر دیتے ہو۔ آج اُن تمام لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے۲۶ویں اور ۲۷ویں ترمیم میں وٹ دیا تھا۔ آج ایک اور شریف جج نے استعفی دیا
عبہر گل نامی اس جج کو نو مئی کے کیسز میں خواتین اور سیاسی کارکنان کو کئی کئی ماہ ضمانت نہ دینے کی وجہ سے بطور انعام ہائی کورٹ کا جج لگایا گیا
اب تحریک انصاف سے متعلقہ ہر کیس عبہر گل یا شہباز رضوی کے پاس لگایا جاتا ہے اور وہ تاریخ پر تاریخ دیتے رہتے ہیں اور پھر پٹیشنز خارج کردیتے
مولانا نے لائن عبور کر لی پی ٹی آئی نے لائن عبور کر لی تحریک لبیک نے لائن عبور کر لی سب نے لائن عبور کر لی لیکن ابھی تک فوج نے لائن عبور نہیں کی الیکشن میں ڈاکہ ڈالا مگر لائن عبور نہیں ہوئی 26 نومبر کو قتل عام کیا مگر لائن عبور نہیں ہوئی مریدکے میں قتل عام کیا لیکن لائن عبور نہیں ہوئی مخصوص نشستیں چھین لیں مگر لائن عبور نہیں ہوئی ۔۔۔
عدل و انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ تمام بے گناہ خواتین کو فوراً رہا کیا جائے۔ قوم کی بیٹیاں ہمارا مان اور عزت ہیں۔ ان کے حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
کچھ بھی کہیے، ہمارا ملک ایسا نہیں تھا یہاں ہمیشہ خواتین کا احترام کیا جاتا تھا
مگر جب سے یہ رجیم آئی ہے عورتوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے
نہ جانے انہیں معاشرے کے اس حصے کے جاگنے سے کیا ڈر ہے جو انہیں مسلسل دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
🚨ہمیں نہیں پتا کہ جیل کے اندر کیا ہو رہا ہے، اور اگر عمران خان کو کچھ ہوا یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تو ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
ہم عمران خان کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔
— ڈاکٹر عظمیٰ خان کی کچھ عرصہ قبل پریس کانفرنس
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
بغیر کسی سیاسی وابستگی کے مسن خواتین ہمدردی اور بنیادی انسانی حقوق کی حقدار ہیں۔ ہم عمران خان کی بہنوں کی فوری اور پرامن رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
نورین خان صاحبہ کی طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقلی، اور اس تشویش ناک صورتحال میں اہلِ خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، انسانی ہمدردی اور بنیادی انسانی حقوق پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 1، 5 اور 12 انسانی وقار، غیر انسانی سلوک سے تحفظ اور نجی و خاندانی زندگی کے احترام کے اصول بیان کرتے ہیں۔
کیا سیاسی اختلاف اس حد تک پہنچ سکتا ہے کہ ایک بیمار خاتون اپنے اہلِ خانہ کی قربت سے بھی محروم کر دی جائے؟
عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ متعلقہ حکام کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی اختیار انسانی وقار سے بالاتر نہیں۔ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا ناانصافی کو تقویت دیتا ہے؛ وقت کا تقاضا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف پوری قوت سے آواز اٹھائی جائے۔
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
پاکستانی عدلیہ اپنے حلف کی پاسداری کرتی تو آج ہمارے ملک میں اس طرح کی لاقانونیت نہ ہوتی،
جھوٹے کیسز پر مہینوں لوگ قید رہتے ہیں مگر مفاد پرست ججز ان کے کیس نہیں لگاتے۔۔
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو