آج مجھے اور ہادی کو ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا رہی ہے اس کے باوجود کے ٹرانسفر کی intimation دے دی گئی ہے۔ پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا - پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی- نا ہم نے دیکھی ہے اور نا ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ہمارے لیے یہ سزا اس بات کی recognition ہے کے ہم نے ظلم کے سامنے کلمہ حق بُلند کیا۔ ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائینگے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائینگے۔
ہمیں جیل میں ڈالنے سے آپ کے گندے کرتوت کوئی نہیں بھولے گا - اس ملک کو آپ نے توڑا، آپ نے ڈالروں کے لیے بد امنی اور خون خرابا کیا، بلوچ نسل کشی کی، پشتون نسل کشی کی، غریب عوام کے وسائل پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، الیکشن چوری کیا، پارلیمان اور عدالتوں کو ہائجیک کیا۔ ہمیں جیل بھیجنے سے آپ کے جرائم نہیں مٹ جائینگے۔ اور ہماری آواز آپ دبائینگے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نا رہے کہ کیونکہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہونگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔ لیکن جنہے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں، انہے ہم کیا سمجھائے؟
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ جو ہم کر سکے ہم کرے۔ لیکن یہ زمیداری ہم سب کی ہے۔ اندر جانے سے پہلے آپ سب سے بس ایک ہی ریکویسٹ ہے۔۔۔ یاد رکھے کہ ہماری جنگ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج آپ نہیں لڑینگے، باری باری ذلت والی موت کی تیاری کرے۔ اس ملک میں نا تو کوئی آئین ہے نا قانون نا پارلیمان نا عدالتیں اور نا ہی میڈیا۔
جب تک عوام کی dignity, life اور آزادی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا تب تک آج میں تو کل آپ اندر ہونگے۔ جو ہمیں سزا دے رہے ہے اور جن کی چابی پر دی جا رہی ہے، انہے یاد رکھنا چاہیے:
“آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز، یہ تنہا مِری آواز نہیں
اَن گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اِس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اِس میں
تہہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اِس میں
اِس کی یلغار مِری ذات پہ موقوف نہیں
اِس کی گردش مِرے دن رات پہ موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہّار خدائی کی نمائش کے لیے
مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ! یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انساں کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا”
SHC Bar Secretary called convention in SHC bar room to protest 27th Amdmt. President Sarfraz Metlo cancelled it. Then SHC Registrar issued notification barring convention from being held. When lawyers collected in bar room anyway, electricity disconnected. So they held it outside
سرکار نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مارشل کے ڈنڈے کو پالش کر کے اس کے اوپر آئینی کور چڑھا دیا گیا ہے۔ پہلے ہم کسی جنرل کی وردی اترنے کا انتظار کرتے تھے مگر اب تو فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی تاحیات ہے اور سات خون بھی معاف ہیں، محمد حنیف
The Chief Justice of Pakistan will soon be just the chief justice of no more Supreme Court. Justice Yahya Afridi will always be remembered as a Pater Familia who let the executive to demolish his own house and family in return for a position he never deserved.
🚨🚨
#Pakistan overtaking #Afghanistan as the primary source of the world’s opium. 8,100 hectares of poppy farms have been discovered in #Balochistan, higher than the 8,000 hectares found in Afghanistan.
Poppy farmers say that they pay “Pakistani militia”. https://t.co/tw3TTDWu0Q
@usembislamabad Minerals are the property of provinces, how come provincial government are not engaged, would you disclose the documents and agreement details
@gypsiez مان ان خيال جو آهيان هر ماڻهو کي قومي سياست ڪرڻ گهرجي، موجوده پارٽين مان ڪنهن سان به شروعات ڪجي،، ڪنهن به شخصيت پرستي ۾ نه اچجي، شخصيتون ضروري آهن پر اهي مري يا کپي سگهن ٿا تنهن ڪري پارٽي ۾ پڙهڻ، نظرياتي سياست کي فروغ ڏجي. معاشي سوال وڏو آهي اهي پارٽين ۾ شامل ٿي سمجه ۾ ايندو
تم مجھے سندھ کی زمینیں پانی اور وسائل دو - اور میں بلاول کو وزیراعظم بنا دونگا- پنڈی
لیکن پنجاب میں پی پی کیسے ؟ زرداری
ٹوکن منی پر یہ جہانگیر تمہارا ہوا - پنڈی
جہانگیر ترین کا جہاز پرواز کےلیے تیار۔۔۔
پنجاب سے 25 ایم این ایز اور ایم پی ایز کا گروپ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے جا رہا ہے۔۔اگر سیاست میں واپس آیا تو مخدوم احمد محمود کے ساتھ ملکر سیاست کروں گا ،اب پیپلزپارٹی کے ساتھ ملکر کام کرینگے، جہانگیر خان ترین