“بیرسٹر گوہربلے کا نشان چھیننے کی ساری ملی بھگت میں شامل تھا آج بھی پولیٹیکل کمیٹی کی ساری باتیں محسن نقوی کو پہنچائی جاتی ہیں۔
عمران خان نے علی امین سے کہا تھا 26 نومبر کی FIR محسن نقوی کے خلاف کٹواؤ علی امین نے عمران خان کی حکم عدولی کی الٹا محسن نقوی کے گھن گاتا رہا ۔عادل راجہ “
اور آج بھی یہی ہو رہا ہے گوہر نے 26 نومبر کے کیس سے فرار حاصل کیا۔ کیونکہ یہ مسلسل سیکٹر کمانڈر سے ہدایات لے رہا ہے ۔
عمران خان 1952 میں پیدا ہوئے، اور 1971ء میں کرکٹ کھیلنا شروع کی،
عمران خان کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ 70 اور 80 کی دہائی میں پاکستان میں بے شمار بچوں کے نام عمران رکھے گئے،
عمران خان 1982 میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے،
اور 21 سال کرکٹ کھیلنے کے بعد 1992ء میں پاکستان کو آج تک کا واحد ورلڈ کپ عمران خان نے جتوایا،
اور ایک ہیرو کی طرح کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی، عمران ریاض
فیملی کے 3 بنیادی مطالبات: 🚨
عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر کے مکمل اور معیاری علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی بلاجواز قیدِ تنہائی کو فی الفور ختم کیا جائے۔
عمران خان پر قائم تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو فوراً ختم کیا جائے۔
"یہ جج لائے ہی عمران خان کو سزائیں سنانے کے لیے گئے ہیں اور آئینی عدالت کے قیام کا مقصد بھی صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی کو نشانہ بنانا ہے۔" — علیمہ خان
یہ بے ہودہ شخص دین کو بدنام کر رہا ہے مگر مجال ہے کسی عالم کی غیرت جاگی ہو ۔ مجال ہے اس شو میں بیٹھنے والے اینکر نے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا ہو ۔۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں مفتی عبدالقوی ایک ٹی وی پروگرام "پبلک ڈیمانڈ" میں شریک ہیں۔ پروگرام کے دوران انہوں نے اپنے ساتھ بیٹھی خاتون کا ہاتھ پکڑ کر اس کا چومنا شروع کر دیا۔
خاتون کو جانو مانو سہاگ رات کی ٹائمنگ تک ڈسکس کی ساتھ یہ بھی بتا دیا ہر ہفتے میں اک رات سہرا بندی کیلے لازمی ہے ۔ پہلے جانو مانو والی باتیں ہونگی پھر جیسے جیسے باتوں میں شدت اے گی سہرا قریب اتا جاے گا اور پھر سہرا پہنا دیا جاے گا ۔
یہ دین اسلام کو بدنام کر رہا ہے اور اتنی گندے گفتگو نیشنل ٹی وی پر چل رہی ہے وہ بھی پرائم ٹائم پر ۔۔
اس پر 295 لگنی چاہیے ۔۔ اس شخص کے خلاف اواز اٹھائیں جو دین کو غلط طریقے سے نوجوانوں کے سامنے پیش کر رہا ہے اس کے ساتھ اینکر محسن عباس کو بھی لٹکائیں جو ایسے سوال پوچھ کر دین اسلام کو بدنام کروا رہا ہے ۔۔ ریحان طارق کو تو لٹکا دیا اس کے خلاف کیوں نہی لگ سکتی ۔
بیشرمو شوگر بے بیز ڈانسر کے ساتھ تمھارے ویوز کم پڑ گئے تھے جو لائیو شو میں کسنگ اور سہاگ رات اور زو معنی جملے فحش گفتگو شروع کی۔۔ اگر اس دین فروش ملا اور اینکر پر کوی کاروای نہی ہوتی تو ہم سبکو ڈوب کر مر جانا چاہیے ۔۔
ہر چیز انکے کیلے تماشا ہے ۔
یہ جو دانشوڑانِ ملت آپ کو بتاتے ہیں کہ فلاں ملک کی جین زی بھی نکل آئی، فلاں ملک کی جین زی بھی نکل آئی اور آپ کو (یعنی پاکستانی نوجوان نسل کو) ڈی گریڈ کرتے ہیں ۔۔۔ وہ آپ کو وہ حقائق کبھی نہیں بتائیں گے جو میں آج لکھنے جا رہا ہوں
پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلے پاکستانی نوجوان نسل نے عمران خان کی کال پر لبیک کہا۔ یہ لبیک کینسر ہسپتال کے چندے کی صورت میں بھی تھی اور سیاسی جدوجہد کی صورت، یعنی جلسوں اور ریلیوں میں شرکت کی صورت میں بھی تھی
تیس اکتوبر 2011 کو لاہور مینارِ پاکستان پر اس وقت کی نوجوان نسل نے عمران خان کی کال پر لبیک کہا اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ اس وقت زیادہ تر یہ نوجوان جین ایکس اور میلینیم تھے اور جن نوجوانوں نے چار سال پہلے زمان پارک میں عمران خان کے گھر، چاردیواری اور فیملی کا دفاع کیا تھا، اور شدید آنسو گیس کی شیلنگ میں لاہور کی سڑکوں پر دیوانہ وار قلندرانہ رقص کیا تھا، وہ جین زی تھی
چودہ اگست 2014 سے سترہ دسمبر 2014 تک الیکشن میں دھاندلی کے پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا اسی جین ایکس، وائی اور زی نے دیا تھا ۔
نو اپریل 2022 سے چودہ اگست 2022 تک پاکستان کی تاریخ کا سب سے کامیاب ٹیوٹر ہیش ٹیگ امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نام سے اسی جین زی اور وائی نے مسلسل ٹرینڈ چارٹ میں ٹاپ پر رکھا تھا
آٹھ فروری 2024 کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے مشکل الیکشن تقریباً ڈیڑھ سو مختلف نشانات کے ساتھ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے اسی جین زی نے لڑا تھا ۔
پاکستان میں ایک شخص کے عشق میں تین نسلیں باہر سڑکوں پر نکلی ہیں، جنہوں نے ڈنڈے لاٹھیاں بھی کھائی ہیں، آنسو گیس بھی برداشت کی ہے اور پھر عشق کی انتہا اور تین نسلوں کی وفاداری دیکھیے کہ ظالم فوج کی سفاک گولیاں کا بھی نشانہ بنے، اپنی جانیں دی، ان کی جبری گمشدگیاں کی گئیں، ان کے گھروں پر ریڈ ہوئے، ان کو گھروں سے اٹھا لیا گیا، ان کی بوڑھی ماؤں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا، ان کی بہنوں کے جہیز لوٹ لیے، ان کے باریش باپوں کی داڑھیوں کو نوچ لیا گیا لیکن وہ پھر بھی اس ظالم فوج کے خلاف لڑے
ان کے خلاف فوجی عدالتیں قائم کی گئیں، ان کو ناحق سزائیں دی گئیں، حتیٰ کہ دو مجاہدین سلمان رضا اور جنید جہانگیر کو امارات میں بھی قید کروایا گیا۔ جنریشن ایکس کے صحافیوں کو سفاکانہ طور پر ناصرف ق ت ل کیا گیا بلکہ کئیوں کو پاکستان سے جان بچا کر فرار ہونا پڑا
اور آج یہ عالم ہے کہ تیزی سے جوان ہوتی جین زی سوشل میڈیا پر انسانی حقوق اور اپنی حقیقی آزادی کا محاذ سنبھالے ہوئے ہے کیونکہ ان کو تعلیم ہی یہ دی گئی تھی کہ ہارتا وہ ہے جو ہار مان لیتا ہے، وہ آج بھی لڑ رہے ہیں۔ ان تین نسلوں نے مل کر فروری 2024 کے الیکشنوں میں فوج اور اس کے تمام سیاسی گماشتوں کو شکستِ فاش دی تھی
تو میرے بچو ۔۔۔ میرے نوجوانوں ۔۔ اپنا دل چھوٹا مت کرو، تم نے جو کیا ہے اور تم جو کر رہے ہو ۔۔ وہ سری لنکا ہو یا نیپال ، بنگلہ دیش ہو یا بھارت ہو یا کوئی اور ملک ۔۔۔ کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔۔ کچھ ملکوں میں جین زی نے صرف تخے الٹے اور کچھ مار کھا کر بھاگ گئے، جبکہ تمہاری تاریخ دو دہائیوں پر مشتعمل ہے اور تمہاری جدوجہد مسلسل جاری و ساری ہے
ہمت باندھو اپنی ۔۔ یہ بدمعاش اشرافیہ تم کو نیچا دکھانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرے گی لیکن تم نے میری باتوں کو یاد رکھنا ہے کہ اصل فاتح تم ہو، تم ہی اصل جنگجو ہو ۔۔ ان سب ملکوں کی جین زی کو تم نے انسپائر کیا ہے، تمہاری ہر جنریشن ۔۔ جین زی ہے ۔۔۔ ہماری تین نسلوں نے اپنے سیاسی حقوق کی سیاسی جنگ لڑی ہے، یہ کل کے بچے تمہارا کیا مقابلہ کریں گے
آؤ ہم سب ملک کر آج پاکستان کی جین ایکس، جین وائے اور جین زی کے لیے تالیاں بجائیں اور ان کو خراجِ تحسین پیش کریں اور اپنے لیڈر اور مرشد قیدی نمبر آٹھ سو چار جناب عمران خان کو سلام پیش کریں جنہوں نے ہماری نسلوں کو وہ شعور دیا جس سے آج پورا ایشیاء تھرتھرا رہا ہے۔۔۔!!
تحریر: عاشور ویوز
دو منٹ لگا کر ضرور پڑھیں پلیز 🙏
تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ اقتدار میں آنے والے لوگ اقتدار صرف خدمت کے لیے لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار ہمیشہ طاقتور کے پاس رہا ہے اور اسے بچانے کے لیے انسان نے اپنے سگے بھائی، بیٹے، باپ اور پورے خاندان تک کو قربان کر دیا۔
مغلوں کو دیکھ لیجیے۔ ہمایوں نے بھائی کو اندھا کروایا، اورنگزیب نے باپ کو قید کیا اور بھائیوں کو قتل کروایا، شاہ جہاں نے اقتدار کے دعوے داروں کو راستے سے ہٹایا۔ یہ سب مسلمان حکمران تھے۔
ذرا یورپ کی تاریخ بھی پڑھ لیجیے۔ انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ سوم پر اپنے بھتیجوں کے قتل کا الزام ہے۔ ہنری ہشتم نے اقتدار اور خواہشات کے لیے اپنی دو بیویوں کو قتل کروا دیا۔ روس کے زار پیٹر اعظم نے اپنے ہی بیٹے کو تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتروا دیا۔ سلطنت عثمانیہ میں تو باقاعدہ قانون بنا دیا گیا تھا کہ تخت سنبھالتے ہی بھائیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے تاکہ اقتدار کو خطرہ نہ رہے۔
تاریخ کے ہر دور میں ایک ہی اصول نافذ رہا ہے:
«"Power is never given up voluntarily."»
اقتدار کبھی خوشی خوشی نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ یا تو چھینا جاتا ہے یا چھین لیا جاتا ہے۔
اب اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ آج کے دور میں ایک آرمی چیف، بادشاہ، صدر، وزیراعظم یا کوئی بھی طاقتور شخصیت صرف اخلاقیات کا درس سن کر اقتدار چھوڑ دے گی تو اسے تاریخ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔
یہ اقتدار ہے جناب! اس کے لیے لوگوں نے بھائی قتل کیے ہیں، سلطنتیں جلائی ہیں اور خون کے دریا بہائے ہیں۔ آپ توقع کر رہے ہیں کہ چند ٹویٹس اور چند جذباتی تقاریر سن کر طاقت کے ایوان خالی ہو جائیں گے؟
تاریخ انسانوں کی نیتوں سے نہیں، طاقت کے اصولوں سے چلتی ہے۔ جو شخص اقتدار کی نفسیات کو نہیں سمجھتا، وہ سیاست کو بھی نہیں سمجھتا۔
عجیب بات ہے، لوگ 500 سال پرانی تاریخ پڑھ کر ہمایوں، اورنگزیب، ہنری ہشتم اور رچرڈ سوم کے اقتدار کی سیاست تو سمجھ لیتے ہیں، لیکن 2026 میں بیٹھ کر یہ توقع رکھتے ہیں کہ اقتدار کے مراکز صبح اٹھ کر کہیں گے:
"لو جی! قوم نے ایکس پر بہت برا بھلا کہا ہے، آئیں استعفیٰ دے دیتے ہیں۔"
جناب! تاریخ میں تخت دعاؤں سے نہیں، طاقت کے توازن سے بدلتے ہیں۔ اقتدار چھوڑنا انسان کی فطرت نہیں، اسے چھوڑوانا تاریخ کا کام ہوتا ہے۔
اس لیے سیاست کو ایکس یونیورسٹی کے جذباتی فارورڈز سے نہیں، تاریخ کی خون آلود کتابوں سے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھا شخص تسبیح کے دانے نہیں گن رہا ہوتا، وہ طاقت کے حساب کتاب کر رہا ہوتا ہے۔
میری بات کی سمجھ آ جائے تو ہمت کریں اور چھین لیں اقتدار پلیٹ میں رکھ کر آزادیاں نہیں ملتیں۔
یہ ہمارے ملازم عمران کا گھر ہے۔ کل نقاب پوش لوگ اس کے گھر گئے اور اس کے 2.5 سالہ بچے اور ماں کو اٹھانے کی دھمکی دی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ عمران سے کہو ہم سے مل کر ہم سے معافی مانگے۔
یہ تمام کام پولیس اور اسٹیبلشمنٹ کرا رہی ہے۔ اگر گرفتار کرنا ہے تو مجھے کرو! غریبوں پر کیوں ظلم کرتے ہو؟
آج کوئٹہ میں آرمی چیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا:
•“پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ پوری قوت سے جاری رکھے گا۔”
•“ریاست اپنی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھے گی۔“
جس وقت آرمی چیف مستونگ میں موجود ہے،پورے علاقے میں کرفیو نافذ ہے ۔ عین اسی وقت مستونگ میں سیشن جج کے گھر پر فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا گیا۔
یہ بلوچستان میں فوج کاکنٹرول ہے ؟!
@JimmyVirkk *اگر پاور شو کرنا ہی ہے تو وہ اڈیالہ جیل کے باہر ہونا چاہیے۔ اگر اجتماع کرنا ہی ہے تو وہ عمران خان کی رہائی، انکے طبی معائنے اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے ہونا چاہیے۔ اگر تصاویر بنوانی ہی ہیں تو وہ اپنے قائد کے دروازے پر ہر منگل کھڑے ہو کر بنوائی جائیں، اسٹیج سجا کر نہیں۔*
🚨جب بھی عمران خان کی رہائی کے لئے کسی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو دو چیزیں فورا شروع ہوجاتی ہیں:
1۔ تحریک انصاف میں کمپنی کا گروہ اپنا سائیڈ شو شروع کر دیتا ہے جس کس مقصد صرف مومنٹم کو توڑنا اور لوگوں کو کنفیوز کرنا ہوتا ہے۔
2۔ عمران خان سے کمپنی کے لوگوں کی ملاقاتیں کی جھوٹی کہانیاں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ کام اکثر ان صحافیوں سے لیا جاتا ہے جو تحریک انصاف کے قریب ہیں۔ اس کا مقصد بھی تحریک کو ناکام بنانا ہوتا ہے۔
🛑عمران خان سے نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں نہ کوئی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور نہ سہیل آفریدی جیسوں کے سائیڈ شو (جشن کہہ لیں) کا مقصد عمران خان کی رہائی ہے۔