"غزہ میں شہید ہونے والی ننھی بچی کے اپنے والد سے آخری الفاظ:
'ابو! میں حوضِ کوثر دیکھ رہی ہوں، اور دو محلوں جیسے بہت بڑے، عظیم گھر بھی دیکھ رہی ہوں۔'"💔
اڈیالہ جیل میں بیمار قیدی کے ساتھ جیل حکام نے کیا کیا عجیب داستان سامنے آئی ہے پڑھیں سر پکڑ لیں گے
قیدی نے طبی بنیادوں پر ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا کہ اس کا علاج جیل میں نہیں ہو سکتا اسے ضمانت دی جائے تاکہ وہ علاج کرا سکے اس پر پہلی سماعت 8 دوسری 15 تیسری آج 24 جون کو ہوئی
جیل حکام سے میڈیکل رپورٹ منگوانے کے لیے اسلام آباد کو سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو شوکاز نوٹس جاری کرنا پڑا پھر میڈیکل رپورٹ سامنے آئی آج عدالت میں پیش کی گئی جس میں بڑا انکشاف ہوا کہ 14 مئی کو دو ڈاکٹرز نے تجویز کیا تھا کہ قیدی کی حالت خطرے میں ہے اس کو پمز منتقل کریں آج پھر جسٹس خادم حسین سومرو نے جیل حکام سے پوچھا آپ نے پھر کیا کیا ؟
اڈیالہ جیل حکام نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ 14 مئی کے ڈاکٹرز کے مشورے کے مطابق ہم نے قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کے لئے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو لکھ دیا عدالت نے پوچھا ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کیا کہا پھر ؟ جیل حکام نے کہا جواب کا انتظار ہے عدالت نے کہا آپ کو پتہ ہے 14 مئی کے بعد آج کیا تاریخ ہو گئی ہے ؟ ڈاکٹرز نے لکھا تھا قیدی کے آنکھ اور کان کو شدید مسئلہ ہے اگر قیدی کو کچھ ہو گیا تو ایف آئی آر آپ لوگ پر ہو گی اس کا کوئی جواب جیل حکام کے پاس نہیں تھا پھر عدالت نے کہا ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ لیکر عدالت کو بتائیں سماعت ملتوی ہو گئی قیدی ادھر کا ادھر رہ گیا
مطلب 14 مئی ڈاکٹرز نے مشورہ دیا قیدی کو ہسپتال منتقل کریں جیل حکام آج 24 جون کو ابھی ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب سے جواب کے انتظار میں بیٹھے ہیں ویسے حد ہی ہو گئی ہے انسانیت بھی کہیں گم ہو چکی ہے
صادق آباد کے علاقے کوٹ سبزل جو سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع ہے، وہاں جہانگیر ترین اور علی ترین کی جے ڈی ڈبلیو ایتھانول (Enthol) فیکٹری نے دو لاکھ سے زائد آبادی کی زندگی کو زہر آلود کر دیا ہے۔
اس فیکٹری سے نکلنے والا دھواں، کیمیکل، اور انتہائی تیز و ناقابلِ برداشت بدبو پورے علاقے میں پھیل چکی ہے۔ سانس لینا محال ہو چکا ہے، بچوں، بزرگوں اور خواتین کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بغیر کسی حفاظتی پلان کے گندہ پانی تالابوں میں چھوڑ رہی ہے، جس سے زیرِ زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں رہا اور علاقہ مکین سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔
اور یہ سب کچھ پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، مگر کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آ رہا۔
کیا مریم نواز کی حکومت صرف اشرافیہ کے مفادات کی محافظ ہے
کل خواجہ آصف صاحب نے میرے حوالے سے ایک بات کی تھی۔ میں صرف خواجہ آصف سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ کے ضمیر پر اتنا بوجھ تھا تو آپ صرف اتنا بتا دیں کہ 8 فروری کے الیکشن کے حوالے سے آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن آپ جیت چکے ہیں؟ جس طرح 8 فروری کے الیکشن کو رِگ کیا گیا، جس طرح الیکشن لوٹا گیا، جس طرح ہمارے لوگوں کو بٹھایا گیا، یہاں اسمبلی میں ہمارے 100 تک اراکین تھے، انہیں نااہل کرکے دوسرے لوگوں کو لایا گیا، عدالتوں کو منیج کیا گیا، الیکشن کمیشن کو منیج کیا گیا۔ ہمارے لوگوں کو اسمبلی سے نکالا گیا اور جعلی لوگوں کو لایا گیا۔ کیا اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ آپ کے اپنے ضلع کی ریحانہ ڈار کو پولیس نے سڑکوں پر گھسیٹا، اس وقت آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں تھا؟ گلگت بلتستان میں جو کچھ کیا گیا، کیا اس پر بھی آپ کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ اگر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا ہے تو استعفیٰ دیں اور الیکشن کروا دیں، پھر پتہ چل جائے گا کہ آپ کی کیا حیثیت ہے۔
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
یہ صرف جاہل نہیں بلکہ جاہلیت کے اعلی رتبے پر ہیں - یعنی 8,483 روپے ماہانہ اور روزانہ 282 روپے کمانے والا غریب نہیں ہے؟ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیئے اور غربت ختم کرنے کا دعوی کرنے کے لیئے ایک بیہودہ ترین فارمولہ لگا دیا ہے- انہتائی افسوسناک اور شرمناک
یہ کہتے ہیں کہ ہم عمران خان کے حق میں بات کرتے ہیں تو تحریک انصاف کی سیاست میں مداخلت کرتے ہیں اگر عمران خان کے حق میں بات کرنا تحریک انصاف کی سیاست میں مداخلت ہے تو ہم اب یہ مداخلت کریں گے ہم محمود اچکزئی کے پاس جاسکتے ہیں ہم وزیر اعلیٰ کے پی کے پاس جا سکتے ہیں ہم تحریک انصاف کے پاس جا سکتے ہیں ہمیں بتائیں آپ کے علاؤہ ہم کس کے پاس جائیں اور کہیں کہ عمران خان کے لیے کچھ کریں ۔
علیمہ خان
Today it’s 139 days of illegal incarceration for my children @ImaanZHazir & @AdvHadiali thru a sham trial & illegal conviction order without even veneer of due process. It has always been abt vengeance, never abt justice for Imaan & Hadi. So unlike speedy justice for some privileged children, for Imaan & Hadi no justice till appetite for vengeance has been satiated.
#FreeImaanAndHadi
یہاں پر ہر شخص فرعون بنا ہوا ہے ایک معصوم بچے کے سامنے اس کے والد کو اس طرح سے تھپڑ مارنا جب کوئی نقصان بھی نا ہوا ہو اور وہ شخص اپنی غلطی بھی مان رہا ہے ۔۔۔ ہر شخص بدمعاش بنا ہوا ہے ۔۔۔اور شریف انسان پس رہا ہے
”ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہئیے کہ اصل غدار تھا کون؛ جنرل یحیٰ خان یا شیخ مجیب الرحمٰن“ - بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان
#غدار_کون_تھا
آج میں سکردو جا رہا تھا، جہاں 7 جون کو انتخابات ہو رہے ہیں۔ وہاں حکومتی وزراء پہلے سے موجود ہیں، حالانکہ وزراء انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔ میری صبح ساڑھے 9 بجے فلائٹ تھی، مگر ایئرپورٹ جانے والی سڑک بلاک کر دی گئی۔ ڈی ایس پی سمیت پولیس کی بھاری نفری مجھے روکنے کے لیے تعینات تھی۔ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ پنجاب پولیس کیسے مجھے گلگت بلتستان جانے سے روک سکتی ہے؟ پنجاب پولیس نے انتہائی غیر اخلاقی حرکت کی۔ میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی ہوں، جبکہ یہ ایک وفاقی معاملہ ہے۔ بلاول بھٹو بھی وہاں گئے، وزیراعظم نے بھی وہاں جا کر اعلانات کیے، اور پیپلز پارٹی و ن لیگ کی پوری فوجِ ظفر موج وہاں بیٹھی ہوئی ہے، مگر پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ہمارے صوبائی صدر جنید اکبر کو صوبہ بدر کیا گیا۔ یہ کس قسم کا نقشہ پیش کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان الیکشن پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم سے پارٹی کا نشان چھین کر، ہمیں انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ گرفتار کیا جاتا ہے۔ چار سال گزرنے کے بعد بھی اگر یہ نظام وہاں ایک الیکشن کروانے کی ہمت نہیں کر پا رہا، تو یہ اس کی انتظامی ناکامی نہیں بلکہ تحریک انصاف کے عوامی سیلاب سے کانپتی ہوئی ٹانگوں کا ثبوت ہے۔ ہمیں گلگت میں روک کر گرفتار کرکے صوبہ بدر کیا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو VIP پروٹوکول اور مکمل سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔
آج فیصل آباد میں حال ہی میں آزادی پانے والے جنید ساہی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جیل میں ان سے روا رکھے جانے والے انسانیت سوز سلوک کی روداد سنی۔ گردن کے تین مہرے پھسل کر گرنے کی وجہ سے بری طرح متاثر ہیں۔ مہینوں متعلقہ ڈاکٹر کو رسائی نہ دی گئی۔ قابل علاج تکلیف مستقل ہو گئی ہے۔