سوشل میڈیا کی تمام خامیوں کے باوجود ایک فائدہ ضرور ہے؛ اب اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی بہت سی وارداتیں چھپانا آسان نہیں رہا۔ ورنہ ایک وقت تھا جب عوام کو لوٹا بھی جاتا تھا اور خبر تک نہیں ہونے دی جاتی تھی۔
پنجابی کا ایک مُحاورہ ہے؛
“شکل مُومناں، کرتوت کافراں”!
لب پہ نام آیا نظر میں کتنے منظر پھر گئے
بن گئی ہے سرخئ افسانۂ دل کربلا
اپنا جینا اپنا مرنا اپنا غم اپنی خوشی
زندگی کے ہر فسانے میں ہے شامل کربلا
ذرے ذرے میں ہے شامل فخرِ کعبہ کا لہو
اے جبیں پھر کیوں نہ ہو سجدوں کے قابل کربلا؟
عروج بجنوری
https://t.co/fAAyXQBUaT
تختی, قلم, دوات وی تُو
ذات دے اندر ذات وی تُو
تُو غوث, قطب, قلندر وی
تُو علی, حُسین, سکندر وی
تُو باہر تے تُو اندر وی
کاتب, کتاب تے بات وی تُو
تختی, قلم, دوات وی تُو
ذات دے اندر ذات وی تُو
سچّے منصور نوں سُولی چایا
ننھے اصغر تے تیر چلایا ..
گُھنگھرُو پَوا کے شاہ نچایا
ہُن دیندا اسمِ ذات وی تُو
تختی, قلم, دوات وی تُو
ذات دے اندر ذات وی تُو
قبر, قفس, کفن وی تُو
فاتحہ, قاری, دفن وی تُو
جِند, جان, عمر تے موت وی تُو
دل, دھڑکن تے جذبات وی تُو
تختی, قلم, دوات وی تُو
ذات دے اندر ذات وی تُو
تُو مشرق, مغرب, محور وی
راہی, رستہ, تے رہبر وی
حُب, مُحب, محبوب وی تُو
نفی وی تُو اثبات وی تُو
تختی, قلم, دوات وی تو
ذات دے اندر ذات وی تو
کسی چیز کو درحقیقت جاننا، خبر ہونا، ادراک رکھنا، پہچاننا، محسوس کرنا۔۔ "علم" کہلاتا ہے!!
علم دراصل "حکمت" کے تابع ہے عرف عام میں علم کا برمحل اور پختہ عدل سے استعمال "حکمت" کہلاتا ہے
دُنیا والو!
زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ایک حسین نعمت ہے۔ اِسے کسی سیاسی جماعت سے ذہنی جسمانی الفاظی و دیگر وابستگیوں میں ضائع نا کریں۔ شکریہ
اعلان ختم ہوا!
پڑوم
فعلِ تو وافی ست زاں کُن ملتحد
کاندر آید با تو در قعرِ لحد
(مولانا رومی)
تیرا عمل ہی وفادار ہے، اسی میں اپنی پناہ گاہ بنا لے۔ کیونکہ یہ تیرے ساتھ قبر کی گہرائی تک جائے گا۔
ساغر صدیقی کی بہت ہی عمدہ غزل
وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو
آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو
تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو
وقت کی چند ساعتیں ساغرؔ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو
کہانی کتنی سچ ہے تاریخ جانتی ہے لیکن طریقہ واردات اسرائیلی ہی ہے۔
ایٹم بن کیسے بنایا۔
ایک اور رپورٹ بتا رہی تھی کہ انہوں نے بم ساوتھ افریقہ کے اور دور دراز جزیرے پر ٹیسٹ کیا۔
اپنی جڑوں کو صرف ایسی جگہ گہرائی تک جانے دیا کریں جو پرسکون ہو جہاں آپکو اپنی شاخوں کی فکر لاحق نہ ہو۔جو جگہ ایسی نہ ہو اسے چھوڑ دیجئے!!
—————————————
♡ لا تدع جذورك تتعمَّق ...
إلّا في المكان الآمن الّذي لا تقلق فيه على أغصانك ...
و ودّع المكان الّذي لا يسعك♡
🌿 لونگ کے حیرت انگیز فوائد 🌿
ہر صبح سویرے ایک لونگ منہ میں رکھیں اور دیر تک رکھے رہنے دیں۔
ذائقہ آہستہ آہستہ نگلیں۔ شروع میں کڑوا محسوس ہوگا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ صحت کے لیے حیران کن فائدے دے گا۔
✨ فوائد:
1️⃣ یادداشت مضبوط کرتا ہے۔
2️⃣ دل کو طاقت دیتا ہے۔
3️⃣ کھانسی اور بلغم سے سینہ صاف کرتا ہے۔
4️⃣ معدہ و آنتوں کو جراثیم سے پاک کرتا ہے۔
5️⃣ دانتوں کا درد اور منہ کی بدبو ختم کرتا ہے۔
6️⃣ گردوں، جگر اور تلی کے امراض دور کرتا ہے۔
7️⃣ نظر تیز کرتا ہے اور آنکھوں کی روشنی بڑھاتا ہے۔
8️⃣ گلے کی سوجن اور درد ختم کرتا ہے۔
9️⃣ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے۔
🔟 شوگر (ذیابیطس) کو کم کرتا ہے۔
سقراط کے دس نکات
- ہر چیز پر شک کرنا۔
- ہمیشہ سچ کی تلاش کریں۔
- ریوڑ کی پیروی نہ کریں۔
- مفروضوں پر یقین کرنے سے گریز کریں۔
- بہت کچھ پوچھنا۔
- بہت پڑھنا۔
- نظریات پر تنقید کریں اور ان میں سے کسی کی تقدیس نہ کریں۔ - مزہبی پیشواؤں پر یقین نہ کریں۔
- جو چیز آپ کی منطق اور فکر سے متصادم ہو اسے ہمیشہ رد نہ کریں۔
- جو آپ سے متفق نہیں ہے اسے تکلیف نہ دیں۔
شمشیر گوندل سے ملے
قرۃ العین طاہرہ پیدائشی طور پر شیعہ علمی اور مشہور مذہبی خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں، لیکن ابتداء ہی سے انہوں نے ہر بات پر “کیوں“ کی جرح کرنے والا باغیانہ مزاج پایا تھا۔ شہر میں دینی مسائل پوچھنے کے لیے آنے والی خواتین سے انہوں نے علی محمد باب کے خروج اور تعلیمات کا سنا جس نے حال ہی میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ طاہرہ ان کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور باب سے خفیہ خط و کتابت شروع کر دی۔ وہ علی محمد باب پر ایمان لانے والے پہلے 18 لوگوں (جو بابی تاریخ میں “حروف حی“ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، میں سے واحد خاتون مبلغہ تھیں۔ سیّد کاظم رشتی نے انہیں “قرۃ العین“ کا لقب دیا اور بہاء اللہ نے انہیں “طاہرہ“ کا لقب دیا۔
قرۃ العین طاہرہ نے اپنے گھر کو خیرباد کہنے کے بعد شہر بہ شہر بابی مذہب کی تبلیغ شروع کر دی اور ہزاروں لوگوں کو اپنے نظریات سے متاثر کیا۔ وہ ایک بلیغ اور شعلہ نوا مقرر تو تھیں ہی، لیکن ان کے حسن کا یہ عالم تھا کہ وہ جب دوران تقریر اپنے چہرے سے نقاب گرا دیتیں تو مجمع میں موجود تمام حاضرین بابی مذہب کا کلمہ پڑھنے لگتے۔ بعد ازاں وہ بہاء اللہ کی تعلیمات کی بھی بہت بڑی مبلغ بنیں۔
27 اگست 1850ء میں بغاوت، دین میں فتنہ پھیلانے اور خواتین کے حقوق پر کچھ باغیانہ سوالات اٹھانے کے الزام میں ایران کے بادشاہ ناصر الدین قاچار نے انہیں اپنے دربار میں طلب کیا۔ انہوں نے بادشاہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:
تو و ملک و جاہ سکندری
من و رسم و راہ قلندری
اگر آن نکوست، تو در خوری
اگر این بد است، مرا سزا
(تیرے پاس ملک، جاہ اور بادشاہی ہے، میں ہوں کہ میرے پاس قلندرانہ اطوار ہیں۔
اگر وہ بھلی چیز ہے، تو تجھے مبارک، لیکن اگر یہ شے بری ہے، تو مجھے [یہ بدی] قبول ہے۔)
کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جو ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر پہلے ہی پگھلنے کے قریب تھا، ان کے اس بے ساختہ جواب پر ان کی ذہانت کا بھی قائل ہو گیا، اس خوف سے کہ ان کے مزید چند لمحے دربار میں رہنے پر مبادا وہ ان کو دل دے بیٹھے، جلد از جلد انہیں انجام تک پہنچا دیا جائے۔ اس نے ان کے بال ایک گھوڑے کے پیچھے باندھ کر اسے دوڑا دیا اور انہیں اذیتیں دے کر قتل کر دیا گیا۔ آج انکی 175 ویں برسی ہے-
نوشابہ شوکت کی تحریر سے اقتباس