ان چیزوں کی کبھی شکایت نہ کرو،
*اپنی قسمت کی-
*اولاد کے سامنے اپنے بڑوں کی-
*اپنا ذاتی مکان ہوتے ہوئے اس کی تنگی کی-
*بھول کر بھی اپنے ماں باپ یا استاد کی-
*غیر کے سامنے اپنے دوست کی-
*رخصت کرنے کے بعد اپنے مہمان کی-
جوشخص پاک اورصاف دل کا مالک ہوتا ہے،اللہ تعالیٰ اسےایسی بصیرت عطا فرمادیتاہےجس سےوہ گناہ کوپہچان لیتاہے،یہاںتک کہ اسکا نفس اس گناہ پرمطمئن اور پرسکون نہیں ہوتا۔اور یہ انسان پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
علامہ ابن عثیمین رح
[فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام (249/6)]
میں نے جب بھی کسی شخص میں کوئی غلطی یا عیب دیکھا، تو ہمیشہ اس پر پردہ ڈالا اور میری یہی خواہش رہی کہ میں اس کے معاملے کو سنوار دوں (اس کی ساکھ اچھی بنا دوں)۔
امام یحییٰ بن معین (رحمہ اللہ)
[طبقات الحنابلة (535/2)]
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
"اہلِ علم نے یہ بات نقل کی ہے کہ اہلِ مدینہ کا یہ معمول تھا کہ جب ان میں سے کوئی چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتا، تو وہ خود کو (یکسو ہو کر) عبادت کے لیے وقف کر دیتا تھا۔"
[رياض الصالحين: 84]
امام ابن تيمية (رحمه الله) کا قول ہے!!
"دلوں کے لیے کوئی حقیقی خوشی اور مکمل لذت ہے ہی نہیں، سوائے اللہ کی محبت اور اس کا قرب حاصل کرنے میں۔"
مجموع الفتاوى (28 /32)
حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ !!
"انسان کی اصل (بنیاد) اس کی عقل ہے، اس کا حسب و نسب (عزت) اس کا دین ہے، اور اس کی مروت (شرافت) اس کا اخلاق ہے۔"
📕 أدب الدنيا والدين
امام حسن بصریؒ کا قول ہے کہ !!
"قیامت کے دن ابنِ آدم (انسان) پر اس کی زندگی کی گھڑیاں (لمحات) پیش کی جائیں گی، پس جس گھڑی میں اس نے کوئی بھلائی کا کام نہ کیا ہوگا، وہ اسے دیکھ کر حسرت و افسوس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔"
📚 حفظ العمر از ابن الجوزي (63)
"تدبرِ قرآن سے بڑھ کوئی دوسری شے نہیں؛ جو آدمی کیلئے دنیا و آخرت میں نافع تَر ہو، اور اُس کی نجات کیلئے کارگر ہو!
امام ابن القيم رحمه الله
(مدارج السالكين : 154/2)
اے اللہ! میری کمر نہ توڑنا، میری عیب گیری نہ کرنا، میرے پوشیدہ امور کو ظاہر کر کے رسوا نہ کرنا۔
اے میرے رب! اگر تیری اعلانیہ نافرمانی کی تو میری بخشش فرما، اگر چھپ کر کی اس کی پردہ پوشی فرما۔
اے عیبوں کو چھپانے والے!
اے گناہوں کو بخشنے والے!
😭❤️🙏 https://t.co/c7TjjQolLu