گفتگو کا معیار، بیانیے کی سچائی اور موقف کا دم خم یہ تعارف کروانے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ کون مشنِ رضوی کا کتنا وفادار ہے یہاں کسی کو سرٹیفکیٹ دینے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔
بریکنگ نیوز: رضوی برداران کس کی تحویل میں؟ سوالات اٹھ گئے | لبیک کے کارکنان کا آنکھوں دیکھا احوال۔۔
اپنی نہیں امیر کی زیادہ فکر
مکمل وی لاگ کا لنک
👇
https://t.co/gu8Bduxja5
سعد ، انس کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوئی۔
تاہم، سماعت کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی، اور درخواست پر مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
20-10-26
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ایک بار پھر ملتوی
لاہور ہائیکورٹ میں حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر 50 روز کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔
جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی سماعت نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی جسٹس جواد ظفر کی چھٹیوں کے باعث درخواست کی سماعت 50 روز کے لیے ملتوی کی گئی تھی۔
ٹی ایل پی کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کے اہلِ خانہ اور جماعت کی جانب سے ان کی بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق دونوں بھائی 368 روز سے لاپتا ہیں۔
کیس کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر، بروز پیر، مقرر کی گئی ہے۔
درخواست ایک سال گزرنے اور جج کی چھ مرتبہ تبدیلی کے باوجود تاحال زیرِ التوا ہے۔
*لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس کی 50 دن کے تعطل کے بعد مقرر ہونے والی سماعت کو ایک دفعہ پھر ملتوی کردیا گیا*
جسٹس جواد ظفر رضوی برادران کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دن چُھٹی پر چلے گئے
لاہور ہائیکورٹ: سعد رضوی اور انس رضوی کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ایک بار پھر ملتوی
لاہور (کورٹ رپورٹر): لاہور ہائیکورٹ میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت، 50 روزہ تعطل کے بعد مقرر ہونے کے باوجود، ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق فاضل جج، جسٹس جواد ظفر کی عدم دستیابی کے باعث کیس کی باقاعدہ سماعت نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی مذکورہ جج کی رخصت کے باعث درخواست پر کارروائی 50 روز تک معطل رہی تھی۔ اب عدالتِ عالیہ نے کیس کی آئندہ سماعت 19 اکتوبر، بروز پیر مقرر کر دی ہے۔
اہلِ خانہ اور پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں بھائی گزشتہ 368 روز سے مبینہ طور پر لاپتا ہیں، جن کی باحفاظت بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے اور بینچ میں 6 مرتبہ جج کی تبدیلی کے باوجود یہ اہم آئینی درخواست تاحال حتمی فیصلے کی منتظر اور زیرِ التوا ہے۔