سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
The tyrannical crooks in charge of Pakistan continue to dismantle democracy, now arresting the elected chief minister of KPK.
The world must see what’s happening. Repeated disgraceful and cowardly acts from Munir to stifle the voice of the people to cling onto power.
Disgraceful .
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
جلسے بڑے ہوگئے تو کہا فوج نے کروائے ہیں
فوج کے خلاف ہوئے اور بہت بڑے ہوگئے تو کہا کلٹ ہیں
جلسے بہت زیادہ بڑے ہوئے تو کہا اصل چیز ووٹ ہے
بغیر جلسوں کے الیکشن جیت گئے تو کہا یہ ملک دشمن ہیں
نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کیے تو کہا یہ دہشتگرد ہیں
بندوق کے خوف سے خاموش ہیں تو کہا یہ باہر کیوں نہیں نکلتے
کہا سوشل میڈیا کے لائکس ویوز سے کچھ نہیں ہوتا
پھر کہتے ہیں اس ملک میں جو ہورہا ہے سوشل میڈیا وجہ ہے
بند محفلوں میں کہا ہم فیصلہ کریں گے کون ملک چلائے گا
عوام کے سامنے آگئے تو کہا ہمارا سیاست سے تعلق نہیں
اقتدار سے نکالا تو کہا اس نے معیشت خراب کردی
خود اقتدار میں آئے تو کہا اسکی وجہ سے ٹھیک نہیں ہورہی
شریف زرداری خاندان کو شکست دیکر اقتدار میں آگئے تو کہتے ہیں اسے فوج لائی
فوج نے شریف زرداری کو کٹھ پتلی بنایا تو کہا فوج کو سیاست میں واپس یہ لائے
پہلے طالبان کو واپس لائے۔ پھر دہشت گردی کروائی۔ پھر اس کے بہانے حکومت پر قبضہ۔ اب جنرلز اصل کام کی طرف آئیں گے۔ لائے ہوئے دشت گرد اب دہشت گردی کم کر دیں۔ جنرلز معدنیات نکال کر بیچیں گے۔ اور کہیں گے دیکھو صوبے میں امن ہو گیا۔
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
فوج نے کٹھ پتلیوں کی مدد سے مولانا فضل الرحمان کو مذاکرات کا کہا اور مولانا سے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کی متحرک قیادت وزیراعلی ہاوس پہنچ گئی۔ جہاں سے فوج نے انہیں حراست میں لے لیا۔ مولانا جس سٹیچر کا آدمی ہے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کرسکتا۔ لیکن بہرحال مولانا کو جھانسا دیکر استعمال کرلیا گیا اسی لیے مولانا استعمال ہوجانے کی شرمندگی کی وجہ سے غصے میں بھی تھے۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
بائیس گریڈ کے ذہنی مریض نے پاکستان کا امن، معیشت، حق آزادی رائے، عدلیہ، جمہوریت، آئین اور اخلاقیات کو صرف اپنی طاقت اور اقتدار کے لیے تباہ کر دیا ہے۔۔۔!!
#ذہنی_مریض_نامنظور
آج یوتھیوں نے دل جیتے ہیں۔ نا کوئی رو رہا ہے۔ نا کوئی افسردہ ہے۔ نا کوئی ہمت ہارنے دل توڑنے والے باتیں کررہا ہے۔ کوئی میلٹ ڈاون نہیں ہے۔ سب کی آنکھیں کھلی اوردشمن کے اندر پیوست ہیں۔ یہی بالکل یہی والا جذبہ چاہیے۔
غالب امکان ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں لگے گی۔ البتہ سہیل آفریدی کو متحرک کابینہ اراکین کیساتھ وزیراعلی ہاوس میں محصور رکھ کے لانگ مارچ پر کریک ڈاون کیا جائے گا۔
اب تحریک انصاف کے پاس دو آپشنز ہیں۔ لانگ مارچ از خود مردان سے صوابی پہنچے اور وہاں اس پر کریک ڈاون کردیا جائے یا پھر ملک بھر کے عوام کو جو کال صوابی کی دی گئی ہے وہ پشاور پہنچ جائیں اور لانگ مارچ بھی مردان سے پشاور کا رخ کرلے۔
آپشن دو زیادہ بہتر ہے۔
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
جنرلز کے نام پیغام :
پاکستانی جنرلز کو سمجھنا ہوگا۔ جنگیں اپنوں کے ساتھ نہیں لڑی جاتیں۔ آپکو جرنیل اس لئے نہیں بنایا تھا۔ جو آپ نے بلوچستان میں کیا آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جو آپ اس وقت کے پی میں کر رہے ہیں آپ اس کی تاب نہیں لا سکیں گے۔
پٹھان بہت چھتر ماریں گے۔ وہ پہلے ہی تنگ ہیں۔ حالات۔ کاروبار سے دہشت گردی سے۔ ڈرون سے۔ آپ کیوں انگلی کر رہے ہیں ایک اور صوبے کے ساتھ۔
یہ کھیلنا بند کریں۔ مت سب کو بے وقوف سمجھیں۔ جو تھوڑی بہت رہ گئی ہے۔ اس کو بچا لیں۔
بنگلہ دیش کی باری انڈیا آیا تھا۔ یہاں سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔ انڈیا نے 90 ہزار واپس کر دئیے تھے۔ افغانی مختلف کھیل کھیلیں گے۔
نہ کرو یار نہ کرو۔ نہ اپنا نہ ملک نہ ہمارا نقصان۔ عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔
بیعزتی محسوس کرنے سے ہوتی ہے
بقول خادم رضوی مرحوم مَردے اوہ جنا اچ غیرت ہووے
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں۔
حالانکہ ان کے وزیراعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں۔ بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا۔ چھوڑیں لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔
ڈاکٹر محسن زنگنه ایرانی پارلیمنٹ کا رکن