کب تک سڑکوں پر بہتا رہے گا بے گناہوں کا لہو؟
کب تک عدالتوں اور تھانوں کی دہلیز پر دم توڑتی رہے گی غیرت؟
جب سانس بھی ادھار کی ہو اور زندہ رہنا جرم بن جائے،
تو پھر خاموشی گناہ اور صدا بلند کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
ایسے ہی مرنا ہے یا جینا ہے ؛ فیصلہ اب تمہاری مٹھی میں ہے!
#ستمبر27_لانگ_مارچ_بالقسط
لاہور میں تحریک انصاف کے ورکر اشتیاق کی میت کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا، وہ صرف ایک سیاسی کارکن کی تذلیل نہیں بلکہ انسانیت اور ہماری دینی و روایتی اقدار کا جنازہ ہے۔ ایس پی اقبال ٹاؤن کی سربراہی میں بھاری پولیس نفری کا ایک جنازے کو گھیراؤ میں لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت کس قدر خوفزدہ اور حواس باختہ ہو چکی ہے۔
جنازہ اور تعزیت وہ لمحات ہوتے ہیں جہاں سیاسی اختلافات، دشمنیاں اور تعصبات ختم ہوجاتے ہیں اور کٹھور سے کٹھور دل بھی پگھل جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ طاقت کے نشے میں دھت پنجاب حکومت نے سیاسی انتقام کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔
اخلاقیات کی پامالی: میت کو محض دس منٹ کے لیے گھر کے باہر لانے کی اجازت دینا اور قریبی رشتہ داروں کو آخری دیدار تک سے محروم کرنا جبر کی بدترین مثال ہے۔
خوف کا ماحول: پولیس کی کڑی نگرانی میں جلدی جلدی تدفین کروانا اور ویڈیو یا تصویر بنانے والوں کو ہراساں کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو اپنے ہی رویے کے بے نقاب ہونے کا ڈر ہے۔
جو حکومتیں جنازوں، صفِ ماتم اور دکھی خاندانوں سے خوفزدہ ہو جائیں، وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر اپنی شکست تسلیم کر چکی ہوتی ہیں۔ اقتدار عارضی ہے، لیکن سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا جانے والا یہ بے حس رویہ تاریخ کے سیاہ اور شرمناک ابواب میں لکھا جائے گا..
بےشک خان صاحب کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کریں یا کر دیا گیا ہے
ہم نے اپنا فوکس 27 ستمبر پر رکھنا ہے اور 27 ستمبر بہت اہم ہے
27 ستمبر
27 ستمبر
27 ستمبر