عمران خان کی حکومت نے صحت انصاف کارڈ جو دیا ہے یہ بالکل یورپ کی طرز پر ہے اتنا بہترین اقدام کہ آپ 10 لاکھ روپے تک سالانہ اپنے گھر کی خواتین کا حاملہ ہونے کے بعد سی سیکشن تک کا علاج، کینسر گردوں سے لے کر ہر طرح کا علاج کروا سکتے ہیں ٹاپ ہسپتالوں سے
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا موت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
@BeingSalmanKhan
Dear Salman Apne Saudi Arabia mai ek event mai example daty huay kha k yanha Saudi Arabia mai Indian or Baluchistan se log kam karne atay hai phir kha k Pakistan se b atay hai apka Kia matlb k Pakistan Baluchistan alag hai bohat afsos hua ap b RSS k policy
“خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے مرحلے کے دوران سلمان اکرام راجہ نے میڈیا اور ہائی کورٹ میں بہترین کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے جس احسن طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (16 اکتوبر، 2025)
2/2
“میں سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ بننے پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی میرے آئی ایس ایف کے دیرینہ اور وفادار ساتھیوں میں سے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ وہ توقعات اور تحریک انصاف کے نظرئیے کے عین مطابق، بحیثیت چیف منسٹر خیبرپختونخوا میں انقلابی کام کریں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس موقع پر علی امین گنڈا پور نے نہایت باوقار طریقے سے حکومت کی منتقلی یقینی بنائی
میں گزشتہ دو سال میں ہونے والے قتلِ عام کے چار بڑے واقعات جن میں 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے قتلِ عام شامل ہیں، پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ دہراتا ہوں۔ ان تمام واقعات میں بڑی تعداد میں نہتے شہریوں کو شہید کیا گیا۔
9 مئی فالس فلیگ کے حوالے سے میرا شروع سے یہی موقف ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائے اور آزادانہ و شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ جس پر افسوس ہے کہ کوئی عملدرآمد نہیں ہوا بلکہ الٹا متاثرہ فریق کیخلاف ہی جھوٹے مقدمات بنا کر بغیر شفاف تحقیقات اور ثبوت کے ملٹری کورٹس اور کینگرو کورٹس سے 10، 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ حالانکہ اس دن نہتے شہریوں اور سپورٹرز کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا-
قتلِ عام کی یہی واردات 26 نومبر کو دہرائی گئی جب نہتے پرامن مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں۔ اگر 9 مئی کے حقائق سامنے آجاتے تو 26 نومبر اور اس جیسے واقعات نا ہوتے۔ پھر آزاد کشمیر اور اب مریدکے میں مظاہرین کو ریاستی بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر ہے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے اور قتلِ عام کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
اگر اب کی بار نہتے شہریوں کے قتلِ عام پر جوڈیشل کمیشن بنا کر شفاف تحقیقات نہ کی گئیں تو خدانخواستہ اگلا واقعہ اس سے بھی بڑا ہوگا کیونکہ ظلم و بربریت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
نماز جمعہ کے بعد خیبرپختونخوا میں ہمارے تمام کارکنان اور عوام مریدکے قتلِ عام کیخلاف نکلیں اور چاروں واقعات کے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کریں۔
آج ملک میں سب کچھ عاصم لاء کے تحت ہو رہا ہے- ساری عدالتیں فوجی عدالتوں میں بدل چکی ہیں، جیسے فوجی عدالتوں کو چلایا جاتا ہے ویسے ہی عام عدالتوں کو بھی چلایا جا رہا ہے۔
26ویں غیر آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں سے انصاف کی توقع تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑھتی لاقانونیت اور ناانصافی اسی ترمیم کا نتیجہ ہے- جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس امین الدین، جج عامر فاروق، اور جج ڈوگر سب کے پاس ہمارے کیسز اور پٹیشن گئیں مگر کہیں سے انصاف نہیں ملا۔
عاصم منیر، قاضی فائز عیسٰی اور سکندر سلطان راجہ نے ہمارا مینڈیٹ چوری کر کے فارم 47 کی نااہل اور ناجائز حکومت پاکستان پر مسلط کی جن کے پاس پاکستان کو درپیش مسائل سے نکالنے کا نہ ہی کوئی وژن ہے، نہ اہلیت ہے اور نہ ہی کوئی اختیار۔ ان کی دہشتگردی کے مسئلے، امن کے قیام اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی اپنی کوئی سوچ اور پالیسی نہیں ہے-
تاریخ سے ثابت ہے کہ ملٹری ڈکٹیٹرز کا صرف بندوق کے زور پر ہر چیز کا حل نکالنے کا فارمولہ کبھی دیرپا اور کامیاب ثابت نہیں ہوا۔ افغانستان کے ساتھ مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے۔ لہذا یہ سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ فہمی سے ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنائیں۔ فارم 47 کی جعلی حکومت کا نہ ہی استحقاق ہے اور نہ اہلیت کہ وہ قیامِ امن میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ ہمارے دور میں دہشتگردی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ مجھے پیرول پر رہا کیا جائے تو میں افغانستان سے تنازعات کے حل اور قیامِ امن کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے خصوصی پیغام (16 اکتوبر 2025)