🇵🇰 Former PM Imran Khan’s sons say they’re genuinely scared they could lose their father in prison.
Kasim and Sulaiman spoke to Sky Sports at Lord’s, with their father’s portrait hanging right behind them. They haven’t seen him since 2022 and haven’t even spoken to him since March.
And what they’re describing is brutal.
They say he now spends more than 23 hours a day alone in a small cell, has lost 80% of the vision in one eye and is struggling with his health.
Kasim: “They are just blatantly trying to kill him in there.”
Even after the Supreme Court ordered him moved to a private hospital, his sons say he was taken to a government facility for a few hours and then sent straight back to jail.
The government of course denies mistreating him and says he has food, books, TV and space to exercise.
And here’s where it gets even more frustrating. After his sons spoke about all of this, the Pakistan Cricket Board complained to Sky over the interview.
Forget the politics for a second. These are two sons who just want to see their dad, talk to him and know if he’s okay.
Source: The Telegraph / Writer: Daniyal
Pakistan threatened Lord’s Test boycott after broadcaster Sky Sports telecast interview with Imran Khan’s two sons which was actually recorded at the Lord’s Long Room a day before the Test. PCB wanted SKY not to air the interview during Lunch break else they wouldn’t take the field post Lunch.
The 18-min interview done by Michael Atherton (one of the 21 captains to sign the letter to Pak PM) was shown and Pak did take the field too
#PakvsEng
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
وقت نے ثابت کر دیا!
ایک وقت تھا جب خان صاحب کی اس بات کا مذاق اڑایا گیا کہ 13، 14 سال کے بچے اور نوجوان ان کا سہارا ہیں۔ لوگ کہتے تھے کہ اس سخت سیاسی ماحول میں یہ بچے آخر کیا کر لیں گے؟
لیکن خان صاحب نے کہا تھا: "یہ تو وقت بتائے گا!"
اور آج وقت نے بتا دیا ہے۔
وہی نسل، وہی نوجوان آج شعور، حوصلے اور نظریے کی ایک مضبوط آواز بن چکے ہیں۔ خان صاحب نے نوجوانوں پر جو اعتماد اور امید رکھی تھی، ان شاء اللہ ہم اس امید پر پورا اتریں گے۔ 💚
ہم عمران خان صاحب کو مایوس نہیں کریں گے۔ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ہم پُرامن اور جمہوری انداز میں عمران خان کے نظریے اور اصولوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
✊ ہمیں صرف جذبات نہیں، نظم و ضبط اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
ان شاء اللہ 5 اگست کے جلسے کو بھرپور اور پُرامن انداز میں کامیاب بنائیں گے، اور اپنی قیادت کی رہنمائی میں عمران خان کی رہائی کے لیے آئندہ کا لائحۂ عمل طے کریں گے۔
خان صاحب نے ہم نوجوانوں سے جو امید باندھی ہے، ان شاء اللہ ہم اس امید پر پورا اتریں گے۔ ❤️🔥
🔥 نوجوان جاگ چکے ہیں نظریہ زندہ ہے!
💚 عمران خان کی امید، نوجوانوں کا عزم!
PAKISTAN: Ahead of the third anniversary of former Prime Minister Imran Khan’s ongoing detention, Isabelle Lassee, Amnesty International’s Acting Regional Director for South Asia, said:
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025."
Read more: https://t.co/hc6eKnIITh
ایمنسٹی انٹرنیشنل!
تین سال سے پاکستانی حکام نے منظم انداز میں عمران خان کو منصفانہ ٹرائل کے حق سے محروم رکھا ہے، انہیں طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھا گیا ہے، اور طبی سہولیات اور اہلِ خانہ سے ملاقات کے حقوق تک ان کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ انہیں گزشتہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے اپنے خاندان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ اطلاعات کے مطابق ان کی بینائی بھی نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ دسمبر 2025 سے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خان، دونوں کو اپنے قانونی وکلا تک باقاعدہ رسائی سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
ہم پاکستانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بلاشرط اپنے اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کریں۔
دونوں کو مناسب طبی سہولیات تک مکمل رسائی فراہم کی جائے، اور ان کی غیر قانونی تنہائی میں قید (سولیٹری کنفائنمنٹ) کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے۔
🚨ہم نے پاکستان کا ویزہ لینے کی بہت بار کوشش کی ہے لیکن یہ ٹیکنیکل بنیادوں پر ہم بھائیوں کو ویزہ نہیں دے رہے یہ ہم سے ڈرتے ہیں یہ ڈرتے ہیں کہ ہم کسی احتجاج یا تحریک میں شامل ہو جائیں گے انہوں نے ایکس پر ہمیں دھمکی لکھی کہ اگر پاکستان آئے تو گرفتار کر لیے جاؤ گے یہ واضح طور چاہتے ہیں کہ ہم پاکستان نا آئیں ان کا ڈر واضح ہے لیکن اگر ہمیں موقع مل جائے کہ ہم اپنی آنکھوں سے عمران خان کو دیکھ لیں تو اس سے اچھا کیا ہو سکتا ہے ۔
قاسم خان کا انٹرویو
🚨سوال: قاسم میں دیکھ رہی ہوں کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے کہ عمران خان کو مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی عمران خان دیکھ نا سکے کوئی میڈیا بات نا کر سکے کوئی اخبار لکھ نا سکے ، اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے عمران خان کی قید کو ٹارچر قرار دیا منڈیلا رول کے تحت انسانی حقوق اور قیدی حقوق دینے کا مطالبہ کیا تھا آپ اس صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟
قاسم خان : قید تنہائی میں رکھنا ان کی بہت گھٹیا حکمت عملی ہے عمران خان سے کتابیں چھیننا ہر قسم کی سہولت چھیننا کوئی بھی ایسی چیز جو عمران خان کے لیے راحت کا باعث ہو اسے ان سے دور کر دیا جاتا ہے مثال کے طور پر ہم سے بات کرنا راحت کا سب ہو سکتا ہے میں عمران خان کی جسمانی صحت سے متعلق بہت فکر مند ہوں وہ 70s میں ہیں ان کو باقاعدگی سے ایکسرسائز کی ضرورت ہوتی ہے میرا نہیں خیال کہ عمران خان سے پہلے اس قسم کے ذہنی ٹارچر کا آج تک کسی کو سامنا کرنا پڑا ہے عمران خان کو 23 گھنٹے بغیر سورج کی لائٹ اور انسانی رابطے کے رکھا جا رہا ہے جو physically متاثر کر سکتا ہے
🚨یہ اے آئی جنریٹڈ تصویر سے ویڈیو بنی ہے
عمران خان کی اے آئی تصویر سے اتنا خوف ہے ان کو تو خو دسوچ لیں جب وہ باہر قدم رکھیں اور اڈیالہ روڈ تک آئیں گے تو یہ حکومت ختم ہوچکی ہونگی
*11 ہزار ہاتھ میں تھا سودا مکمل ہو چکا تھا لیکن ایک لمحے نے سب بدل دیا*
میری دکان کی ایک دراز میں ایک پرانا موبائل کافی عرصے سے پڑا ہوا تھا جو مجھے بھول چکا تھا نیو دکان سے سامان نکلتے وقت ملا تھا کبھی ارادہ بنتا کہ کسی کو دے دوں کبھی سوچتا OLX پر لگا دیتا ہوں شاید کچھ پیسے بن جائیں گے موبائل اگرچہ نیا نہیں تھا لیکن بالکل ٹھیک چل رہا تھا عید والے دن میں نے اس کی تصویر کھینچی اور 12 ہزار روپے قیمت لگا کر OLX اشتہار دے دیا۔
دو دن گزرے گئے آج ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی دوسری طرف ایک دھیمی سی آواز تھی بھائی جان موبائل ابھی موجود ہے؟ میں نے کہا جی بالکل موجود ہے
وہ تھوڑا رکا پھر بولا بھائی اگر موبائل چلنے مین ٹھیک ہے تو مجھے دے دو میرے پاس صرف دس ہزار ہیں اگر آپ دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی میرا بیٹا کافی دنوں سے ضد کر رہا ہے کہ ابو مجھے بھی موبائل لے دیں سکول کے باقی بچوں کے پاس ہے وہ اداس ہو جاتا ہے میں مزدوری کرتا ہوں بڑی مشکل سے پیسے جمع کیے ہیں اس کی آواز میں ایسی عاجزی تھی کہ کچھ لمحوں کے لیے میں خاموش ہوگیا لیکن پھر میں نے سوچا کہ کاروبار میں جذبات نہیں دیکھے جاتے میں نے کہا بھائی 12 ہزار کا لگایا ہوا ہے لیکن آپ 11 ہزار دے دیں تو لے جائیں وہ فورا مان گیا جیسے اس کے لیے یہی بھی بہت بڑی بات ہو آج دن کے وقت وہ میری دکان پر آیا دکان میں اس وقت کافی رش تھا لوگ آ جا رہے تھے کوئی چیز دیکھ رہا تھا کوئی قیمت پوچھ رہا تھا لیکن اس آدمی کی شخصیت سب سے الگ محسوس ہو رہی تھی۔
وہ دبلا پتلا سا شخص تھا عمر تقریبا 35 40 سال تک ہو گی کپڑے پسینے اور گردغبار سے بھرے ہوئے تھے جیسے سیدھا مزدوری سے آیا ہو چہرے پر تھکن صاف نظر آ رہی تھی لیکن آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی شاید اپنے بچے کی خوشی کی چمک تجی وہ آہستہ چلتا ہوا میرے کاؤنٹر تک پہنچا تب میری نظر اس کے ہاتھ پر گئی وہ ٹھیک سے سلام نہیں دے پا رہا تھا ہلکا سا پکڑ کر ہاتھ اونچا کیا شاید کوئی پرانی چوٹ تھی یا قسمت کی مار خیر اس نے جیب سے بڑی احتیاط سے نوٹ نکالے کچھ ہزار کے کچھ پانچ سو کے اور کچھ سو سو کے مڑے تڑے نوٹ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے ایک ایک روپیہ بڑی محنت سے جوڑا ہو کہتا بھائی موبائل پر بات ہوئی تھی اپنے 11 ہزار مانگے یہ لیں پیسے
پیسے دیتے ہوئے اس نے مسکرا کر کہا بھائی میرا بیٹا بہت خوش ہوگا کافی عرصے سے کہہ رہا تھا کہ ابو مجھے بھی موبائل لے دیں آج اس کی ضد پوری ہو جائے گی
میں نے موبائل اُس کے حوالے کیا اس نے موبائل ایسے پکڑا جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہاتھ آ گیا ہو
وہ واپس جانے لگا تو میری پھر نظر اس کے ہاتھوں پر گئی سخت کھردرے زخمی ہاتھ وہ ہاتھ جو شاید دن بھر اینٹیں اٹھاتے ہوں گے بوجھ کھینچتے ہوں گے معزوری کی حالت میں بھی مزدوری کرتا ہوگا دھوپ میں جلتے ہو گا صرف اس لیے کہ اس کے بچے کی خواہش ادھوری نہ رہ جائے
وہ دکان سے باہر نکل گیا مگر میرا دل عجیب بے چینی میں مبتلا ہوگیا میں سوچنے لگا
یہ موبائل تو میرے لیے صرف ایک پرانی چیز تھا اس کا تو علم بھی مجھے نہیں تھا لیکن اس باپ کے لیے یہ اس کے بچے کی مسکراہٹ تھی اس نے شاید کئی دن اپنی خواہشیں ماری ہوں گی شاید کئی بار تھکا ہارا گھر گیا ہوگا شاید اپنے لیے نئے کپڑے نہ لیے ہوں گے صرف اس لیے کہ اُس کا بچہ احساس محرومی کا شکار نہ ہو میرا دل بھر آیا
میں فورا دکان سے باہر نکلا اور اسے آواز دی بھائی ذرا ایک منٹ رکیے
وہ چونک کر واپس آیا شاید اُسے لگا کوئی مسئلہ ہوگیا ہے
میں نے اُس کے ہاتھ میں پورے 11 ہزار روپے واپس رکھتے ہوئے کہا یہ پیسے اپنے پاس رکھیں اور بچے کے لیے کچھ اچھا سا بھی لے جائیں
وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی ہونٹ کانپ رہے تھے مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے پھر اس نے بھری ہوئی آواز میں بس اتنا کہا
اللہ آپ کو خوش رکھے بھائی اور یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
وہ موبائل جیب میں ڈال کر چلا گیا میں بہت دیر تک دکان میں خاموش بیٹھا رہا تب مجھے احساس ہوا کہ دنیا میں سب سے مضبوط انسان ایک باپ ہوتا ہے
جو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے اپنی تکلیف اپنی تھکن اپنی مجبوری سب بھول جاتا ہے
واقعی ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ ان کی محبت اکثر خاموش ہوتی ہے مگر سب سے سچی ہوتی ہے.
💔خاموشی بھی کبھی کبھی غلط فہمی بن جاتی ھے 💔1
میرا سابقہ شوہر برسوں تک اُن بچوں کے اخراجات بھیجتا رہا جو اب بچے نہیں رہے تھے... میں جانتی تھی کہ وہ ضرورت سے زیادہ رقم ہے۔
پھر ایک دن اُس کی دوسری بیوی میرے آفس آگئی ۔۔ 💔🥹
میرا نام سارہ ہے۔
اور میں پچھلے پچیس سال سے امریکہ میں رہتی ہوں۔
میری شادی تقریباً اٹھارہ سال چلی تھی۔
پھر ایک دن ختم ہو گئی۔
نہ کوئی بڑی بے وفائی تھی۔
نہ کوئی فلمی ڈرامہ۔
بس وقت کے ساتھ ساتھ ہم دونوں ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے۔
اتنا دور کہ آخرکار طلاق ہو گئی۔ امریکہ آ کر یہ بات عام سی لگتی ہے۔۔
بس زندگی اپنے اپنے راستوں پر چل پڑی۔
ہمارے چار بچے تھے۔
عدالت نے بچوں کے اخراجات مقرر کر دیے۔
اُس وقت سب چھوٹے تھے۔
اور طلاق کے بعد ایک بات طے ہوئی تھی۔
جب بھی کوئی بچہ اٹھارہ سال کا ہو جائے گا، اخراجات کم کروانے کیلئے عدالت میں درخواست دی جائے گی۔
پہلی بار میں نے دی۔
کیونکہ میں ایک لا فرم میں پیرا لیگل تھی اور مجھے کاغذی کارروائی کا تجربہ تھا۔
رقم کم ہو گئی۔
سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا۔
پھر دوسرا بچہ اٹھارہ سال کا ہو گیا۔
میں انتظار کرتی رہی کہ اب اُس کے والد درخواست دیں گے۔
مگر اُنہوں نے نہیں دی۔
میں نے سوچا شاید مصروف ہوں گے۔
شاید بعد میں کر لیں گے۔
پھر تیسرا بچہ بھی بالغ ہو گیا۔
مگر پھر بھی کچھ نہیں ہوا۔
ہماری بات چیت اب بھی ہوتی تھی۔
بچوں کی یونیورسٹی۔
اُن کی نوکریاں۔
صحت۔
شادیوں کے منصوبے۔
ہر موضوع پر۔
مگر اس موضوع پر کبھی نہیں۔
اور میں نے بھی کبھی بات نہیں چھیڑی۔
وقت گزرتا گیا۔
گھر میں صرف ایک نابالغ بچہ رہ گیا۔
مگر رقم اب بھی تین بچوں کے حساب سے آتی رہی۔
ہر چند مہینوں بعد میں سوچتی:
"شاید مجھے یاد دلا دینا چاہیے۔"
پھر دل کہتا:
"وہ خود جانتے ہیں۔"
پھر ایک اور سال گزر جاتا۔
آخرکار ہمارا سب سے چھوٹا بیٹا بھی اٹھارہ سال کا ہو گیا۔
ہائی اسکول مکمل ہوا۔
اور چند دن بعد میرے سابق شوہر کاغذات لے کر آئے۔
"سارہ، بس یہاں سائن کر دو۔"
میں نے فوراً کر دیے۔
میرے لیے معاملہ ختم ہو چکا تھا۔
مگر اصل کہانی تو اُس کے بعد شروع ہوئی۔
اُن کی نئی بیوی بھی ساتھ تھی۔
میں اُسے پہلے بھی کئی بار مل چکی تھی۔
مہذب عورت تھی۔
مگر اُس دن اُس کی آنکھوں میں عجیب سا غصہ تھا۔
کاغذات سمیٹتے ہوئے اُس نے اچانک میری طرف دیکھا۔
اور پوچھا:
"آپ کو معلوم تھا نا؟"
میں چونک گئی۔
"کیا؟"
وہ بولی:
"کہ وہ برسوں سے زیادہ رقم ادا کر رہے تھے۔"
میں خاموش رہی۔
وہ آگے بولی:
"آپ جانتی تھیں کہ عدالت میں درخواست دینے سے رقم کم ہو سکتی تھی۔"
"آپ جانتی تھیں کہ وہ ایسا نہیں کر رہے۔"
"پھر آپ نے اُنہیں بتایا کیوں نہیں؟"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
میرے سابق شوہر نے بھی پہلی بار میری طرف دیکھا۔
میں جانتی تھی وہ کیا سوچ رہے تھے۔
شاید وہی جو میں برسوں سے سوچتی رہی تھی۔
میں آہستہ سے بولی:
"کیونکہ وہ جانتے تھے۔"
"ہم دونوں جانتے تھے۔"
اُس کی بیوی نے فوراً کہا:
"پھر بھی آپ نے کچھ نہیں کہا۔"
اور عجیب بات یہ تھی کہ اُس لمحے میرے پاس واقعی کوئی جواب نہیں تھا۔
قانونی جواب تھا۔
اخلاقی جواب نہیں۔
اُس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔
قانون میرے ساتھ تھا۔
یہ اُن کی ذمہ داری تھی۔
وہ بالغ آدمی تھے۔
اُنہیں معلوم تھا کیا کرنا ہے۔
میں کسی قانونی ذمہ داری کی پابند نہیں تھی۔
مگر ایک حقیقت اور بھی تھی۔
میں جانتی تھی۔
اور میں خاموش رہی تھی۔
شاید لالچ میں نہیں۔
شاید بدنیتی سے بھی نہیں۔
شاید صرف اس لیے کہ طلاق کے بعد انسان ایک وقت پر دوسروں کی ذمہ داریاں اٹھانا چھوڑ دیتا ہے۔
مگر بعض خاموشیوں کا حساب کتاب سالوں بعد ہوتا ہے۔
چند دن بعد میں نے اُنہیں فون کیا۔
بچوں کیلئے نہیں۔
کاغذات کیلئے نہیں۔
اپنے لیے۔
وہ خاموشی سے سنتے رہے۔
پھر میں نے پوچھا:
"تم جانتے تھے نا؟"
وہ ہنس پڑے۔
ایک تھکی ہوئی سی ہنسی۔
"ہاں۔"
میں خاموش ہو گئی۔
پھر وہ بولے:
"اور تم بھی جانتی تھیں۔"
"ہاں۔"
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر وہ بولے:
"سارہ، سچ بتاؤں؟"
"میں ہر بار سوچتا تھا تم مجھے یاد دلا دو گی۔"
میں مسکرا دی۔
"اور میں ہر بار سوچتی تھی تم خود کر لو گے۔"
کچھ لمحے دونوں طرف خاموشی رہی۔
پھر نہ جانے کیوں ہم دونوں ہنس پڑے۔
اتنے برس بعد۔
پہلی بار۔
کیونکہ اچانک ہمیں احساس ہوا کہ اس کہانی میں کوئی چور نہیں تھا۔
کوئی مظلوم نہیں تھا۔
کوئی سازش نہیں تھی۔
صرف دو لوگ تھے۔
جو اپنی اپنی جگہ کھڑے رہے۔
اور دونوں نے فرض کر لیا کہ دوسرا قدم اٹھا لے گا۔
فون بند ہونے سے پہلے اُس نے ایک بات کہی جو آج تک میرے دل میں محفوظ ہے۔
"سارہ، پیسوں کا افسوس نہیں۔"
جاری