ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں... 💫
اپنے مقصد کو ہمیشہ بلند رکھو، اپنے خوابوں پر یقین رکھو اور محنت سے کبھی پیچھے نہ ہٹو۔ ✨
راستے چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، مستقل مزاجی اور کوشش انسان کو منزل کے قریب ضرور لے جاتی ہے۔
قرآنِ پاک کا فرمان ہے:
"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔" 🤍
بس نیت صاف، حوصلہ بلند اور قدم مسلسل آگے بڑھتے رہنے چاہئیں۔
محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ 💯🙌
آج کا دن عمران خان کے نام! 🇵🇰💚
آج ہمارے قائد عمران خان کو ناانصافی کے ساتھ قید ہوئے تقریباً تین سال ہو چکے ہیں۔ تین سال سے ملاقاتوں پر پابندیاں، تین سال سے صحت کے حوالے سے تشویش، اور تین سال سے قوم اپنے قائد کی آزادی کا انتظار کر رہی ہے۔
لیکن آج پشاور میں ہم نے صرف ایک جلسہ نہیں کرنا آج ہم نے تاریخ بنانی ہے۔
جس طرح ہمارے کپتان نے کبھی ہمیں پکار کر کہا تھا:
"میرے پاکستانیوں!"
آج وقت ہے کہ ہم اپنے کپتان کو جواب دیں:
جی میرے کپتان! ہم حاضر ہیں۔
ہم آپ کی آواز بن کر حاضر ہیں۔
ہم آپ کے ساتھ کل بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔
آج پارٹی کے اندر جس سے بھی اختلاف ہے، جس کی کارکردگی سے شکایت ہے، سب اختلافات ایک طرف رکھ دیں۔
آج نہ گنڈاپور کا دن ہے، نہ سہیل آفریدی کا۔
آج نہ کسی فرد کی حمایت یا مخالفت کا دن ہے۔
آج صرف عمران خان کا دن ہے۔
آج صرف عمران خان کی رہائی کی آواز بلند کرنے کا دن ہے۔
آج جلسے میں موجود ہر شخص یہ ثابت کرے کہ عمران خان اکیلا نہیں ہے۔
آج ہمیں اپنی قیادت سے واضح لائحۂ عمل لینا ہے اور اتنا پُرامن عوامی دباؤ پیدا کرنا ہے کہ دنیا دیکھے:
قوم اپنے قائد کو بھولی نہیں۔
قوم اپنے قائد کے ساتھ کھڑی ہے۔
اور عمران خان کی رہائی تک یہ امید کا چراغ بجھنے نہیں دیں گے۔
آج ہمیں اپنے اختلافات نہیں، اپنا اتحاد دکھانا ہے۔
آج ہمیں مایوسی نہیں، حوصلہ دکھانا ہے۔
آج ہمیں خاموشی نہیں، اپنی آواز بننا ہے۔
ان شاء اللہ حق کی جیت ہوگی۔
ان شاء اللہ سچ کی جیت ہوگی۔
اور ان شاء اللہ میرے کپتان عمران خان کی جیت ہوگی۔ 🇵🇰💚
آج پشاور سے ایک ہی آواز آنی چاہیے:
عمران خان ہم آپ کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے!
عمران خان کو رہا کرو!
آج کا دن صرف عمران خان کے نام!
فوج کی طرف سے عمران خان کو گرفتار کیے گئے آج تین سال ہو گئے۔
مگر تین سال بعد بھی سوال وہی ہے:
کیا عمران خان ختم ہوا؟
کیا پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت ختم ہوئی؟
نہیں! بالکل نہیں۔
تین سال کی قید، دباؤ اور مشکلات کے باوجود عمران خان آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کا نظریہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
یاد رکھیں! کسی کے باپ میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے نظریے کو ختم کر سکے۔
اور خان نہ ڈیل کرے گا، نہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹے گا۔
یہ سفر ڈیل پر نہیں، فتح پر ختم ہوگا۔ ✊🔥