مولانا سرخرو
وہ آیا، اس نے دیکھا اور وہ چھا گیا.
ہر کج فہم، بدذوق اور بدتہذیب کی دشنام کا نشانہ بنا لیکن ماتھے پر ردعمل کی سلوٹ تک نہ ابھرنے دی.
بدنسل حریفوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگالیا لیکن ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہ کرسکے.
ایک مؤقف اپنایا اور اس پر حسینی کردار کی طرح ڈٹ گیا.
ابن حنبل کی استقامت، مجدد الف ثانی کی جرات اور شیخ الہند محمود الحسن کا سیاسی تدبر اس مرد قلندر کے زاد راہ رہے.
عطاء اللہ شاہ بخاری کی طرح زلفیں لہرا کر فرنگی سامراج کے خلاف باہر نکلا اور اس کے ایجنٹوں کو سسٹم سے باہر لا پھینکا.
دکھوں، مصائب اور تکالیف پر مسکراتا رہا.
اپنوں کی بے وفائی، غیروں کی سازش اور دشمنوں کی ہٹ دھرمی بھی مولانا کے عزم کو رتی بھر ہلا نہ سکی.
تاریخ لکھی جاچکی ہے. جمہوریت، پاکستان اور عوام کیلئے مولانا کا کردار ہمیشہ اجلا اور چمکدار رہے گا.
مولانا ہم آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے ہمیں اپنا حق مانگنے کا سلیقہ سکھایا.
(کپتان کے پچھواڑے پر لات مار کے اسمبلی بدر کرنے پر یک سالہ قدیم خراجِ عقیدت)
(شیخ نوید)