نون لیگ کا اب اگر کوئی امیدوار اگلے الیکشن میں میرے حلقے میں ریلی نکالے گا تو میں نے اس پر ٹیرس سے کچرے کی تھیلیاں مارنی ہے
(انڈے ٹماٹر نہیں مارو گی وہ کونسے سستے ہیں یہ کچرے کی تھیلیاں کھانے کے قابل ہیں)
#PetrolPrice
دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہماری لٹ مار پروگرام حکومت نے قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ کردیا۔ ایک طرف ٹول ٹیکس بڑھا اور ساتھ ہی لیوی بڑھا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔
شہباز رانا کے مطابق پچھلے جمعے کو جو ریلیف دینا تھا اسے لیوی میں ڈال کر ستر کیا گیا اور اب دس روپے بڑھا کر 80 روپے لیوی کی گئی ہے
شہباز رانا کہتے ہیں آج لیوی 41 ہونی چائیے لیکن حکومت 40 اور ٹھوک کر ظلم کر رہی ہے اور آج پیٹرول کا ریٹ 270 ہونا چائیے تھا
یہ سراسر زیادتی ہے
پٹرول کی قیمتیں پورا ایک ماہ سے ذیادہ تاریخ کی کم ترین سطح پر رھیں لیکن اس حکومت نے عوام کو اس کا فائدہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے نہیں پہنچایا ،عوام انتظار کرتی رھی لیکن یہ انتظار کوئی ریلیف کی خبر نا لایا،اب جب جنگ شروع ھوئے دو ھی دن ھوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ،اس بڑھوتری کا دفاع ھم سے نا ھوپائے گا۔معذرت
عجیب بات ہے کہ سستا پیٹرول 4 ہفتے تک پاکستان نہیں پہنچ سکا ۔
مگر مہنگا پیٹرول دو دن میں پاکستان پہنچ گیا ۔۔۔
پاکستان کی عوام کو جتنا لوٹا جا سکتا ہے ۔ ن لیگ لوٹ رہی ہے ۔۔۔ انہیں نہ تو خوف خدا ہے نہ ہی شرم ۔۔۔۔ ان لوگوں کے پیٹ پتہ نہیں کب بھریں گے
سعودیہ نے اسی ہفتے تیل کی فئ بیرل قیمت گیارہ ڈالر کم کی ہے کل بھی عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہوا مگر شہباز شریف حکومت نے جنگ کا بہانہ بنا کر چودہ روپے لیٹر پیٹرول بڑھا دیا ہے پاکستان پہلے بھی سستے تیل کا فائدہ غریب عوام کے بجائے آئل مافیا کو پہنچا رہا تھا
شہباز شریف عوام دشمن اور الیٹ نواز ہیں
اس حکومت نے عوام کا سوچنے کا ڈھونگ رچانا بھی چھوڑدیا ہے۔ پہلے کم از کم ڈھونگ تو رچا لیتے تھے۔
اس اضافی رقم میں اضافی لیوی کے سوا نو روپے بھی شامل ہیں۔ غریب کا تیل نکال رہے ہیں یہ ۔
جو اکنامک ہٹ مین انھیں یہ مشورے دے رہا ہے وہ ان کا مستقبل کچل رہا ہے۔
تصویر بشکریہ @iffiViews
اب جو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے اس حکومتی فیصلے کو بھی ڈیفینڈ کریں گے ان کے
ضمیر کا کیا معیار ہو گا؟
جب تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں کم ہوں تو پاکستان میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے 4 ہفتے انتظار کرنے کا کہا جائے اور جب عالمی مارکیٹ میں بڑھیں تو ایک،دو دن میں قیمتیں بڑھا دی جائیں۔
حکومت سے بھی بڑے قوم کے اصل دشمن ایسے فیصلوں کو ڈیفینڈ کرنے والے "دانشوڑ"ہیں۔
(اسد آر چوہدری)
ماشاء اللہ
وزیراعظم نے اپنے دل سے پتھر اٹھا کر عوام کی تشریف پہ رکھ دیا ہے۔
دو ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل سستا رہا مگر وہ پ چ خام تیل پاکستان نہیں پہنچ سکا مگر وہی خام تیل تین دن پہلے عالمی منڈی میں مہنگا ہوا تو ڈھائی دنوں میں پاکستان پہنچ گیا۔
بس اتنی سی سائنس ہے۔
حکومت ہر وہ کام کر رہی ہے جس سے عام شہری کی زندگی متاثر ہو، نا قیمت قابو میں رکھتے ہیں اور نا ہی روزگار کے مواقع دریافت کر تے ہیں۔
بجلی، گیس اور پیٹرول بیچ کر حکومت چلا رہے ہیں۔
سیاسی سرمایہ ختم ہوا تو اخلاقی سرمایہ بھی ختم ہوگیا۔
@CMShehbaz
پہلے یہ تھا کہ اگر آپ نے 200 یونٹ سے ایک یونٹ بھی زیادہ استعمال کیا تو اگلے 6 مہینے آپکو اُسکا ٹیکہ لگتا تھا۔
اب اگر ایک بار بھی 200 یونٹ سے کراس کیا تو ہمیشہ کے لئے آپ پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے باہر ہو جائیں گے
نیازی کو تو خالی بدعائیں ملتی تھیں انکو ساتھ گالیاں بھی مل رہی ہیں🙌🏾
اس پر زیادہ سے زیادہ شور ڈالیں ورنہ یہ بہت بڑی واردات ہے چھ مہینے والی سزا تو پہلے نون لیگ نے مقرر کی تھی اب تو یوں سمجھ آ رہا کہ ایک دفعہ 201یونٹ استعمال کرنے پر ہمیشہ آپ کا بل زیادہ آئے گا
اس کی وضاحت آنا بہت لازم ورنہ غریب مکمل تباہ ہے
پہلے 1 یونٹ زائد استعمال کرنے کا جرمانہ 6 ماہ بھرنا پڑتا تھا ، اب اگر حد کراس کی تو ہمیشہ کے لیے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل جائیں گے ۔
200 یونٹس کا بل : 3600
201 یونٹس کا بل : 10,200
مبارک ہو
یہ وہ پانئ ہے پائپ لائن کے ڈریعے باآسانئ لوگوں کے گھروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن کراچی کی قسمت میں نااہل PPP لکھ دی گئی جو اس مسلے کو حل کرنے کے بجائے تقریبا سارا شہر ٹینکر مافیا کے حوالے کر کے کہہ رہی ہے کہ شہر ٹینکروں کے بغیر نہیں چل سکتا۔
عوام کے فائدے کا کون سوچتا ہے؟
لیکن شکر لریں کہ DHA کو DHA سے ملانا تھا تو اس پریشر میں شاہراہ بھٹو بن بھی گئی۔ ورنہ ریڈ لائن کے نامکمل کام کی وجہ سے یونیورسٹی روڈ کا حال 5 سال سے تو دیکھ ہی رہے ہیں۔
شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور سے ملحقہ لاء کالجز سے جاری کی گئی 1200 مشتبہ ڈگریوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اب ان وکلاء کا کیا کرنا ہے جو عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں؟؟
ہر کام میں دو نمبری چل رہی ہے!
کراچی اب وہ کراچی نہیں رہا۔ بدانتظامی، ٹوٹی سڑکیں، پانی و بجلی کے مسائل، آلودگی اور شہری سہولیات کی کمی نے اس شہر کا حسن ماند کر دیا ہے۔ افسوس کہ جس شہر نے پورے ملک کی معیشت کو سہارا دیا، آج وہ خود بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتا ہے۔
#SindhGovt
داغا صاحب کتنے بھی سوال پوچھ لیں، جس نے کام کرنا ہے وہ اور اس کے حواری کراچی کا مقابلہ سندھ کے باقی شہروں کی حالت زار سے کر کے کہتے ہیں سب تو ٹھیک ہے یہاں۔ ورنہ لوگ ادھر دوسرے شہروں سے کمانے کیوں آتے؟ فلحال جو حال یہاں ہے، سینکڑوں کراچی لے رہائشی لاہور شفٹ ہوچکے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں، اور یہ بیغیرتئ سے ہنس کے بولیں گے کہ کل کے جاتے آج چلے جاو، لیکن شہر کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ تو بیرونی سرمایہ آنے کا سوال تو فلحال آپ بھول ہی جائیں۔ یہاں تو رہائشی اپنی زندگی صرف ایک جماعت کی نااہلئ کی وجہ سے اجیرن کئے جانے سے پریشان ہیں۔