میرے والد عبدالحمید زہری تاحال لاپتہ ہے جبری گمشدگی کے بعد سے ابتک ہم اہلخانہ کو انکے بارے میں کوئی خبر نہیں دی گئی ہے یہ دنیا میں کہاں ہوتا ہے (پاکستان کے علاوہ ) جہاں گھر کا سرپرست لاپتہ کیا جائے اور اسکے بارے میں گھر والوں کو نہ بتایا جائے کہ اسکا جرم کیا ہے اسے کہاں رکھا ہے؟
Our family has been protesting for 4 year’s our only demand from abductors to bring my Brother in court of justice but UAE where my brother Rashid was abducted and shifted to Pakistan & Pakistan courts are fail to provide justice to us.
#SaveRashidHussain
The book stall organised under the banner #BalochistanKitabKarwan at Saryab Quetta by Baloch Students Action Committee Saryab Unit continues.
#Gaam Magazine is exhibited & Awareness campaign on Baloch Literacy Campaign also held.
کمیشن کا لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملنا ان کو سننا خوش آئند ہے۔ بس اتنی سی گزارش ہے کہ ہمارے ماؤں کے آنسوؤں کا مذاق نہ اڑایا جائے، ان کی سسیکوں کو اپنی تفریح کا سامان مت بنائیے۔ کیونکہ پچھلے دو دہائیوں سے صرف ہماری ماؤں کی آنسوؤں کو اپنی سیاسی قد بڑھانے کیلیے استعمال کیا گیا ہے
جاوید شمس کے والدہ کا کہنا ہے کہ اسکے بیٹے کو اسکے سامنے سے اٹھا کر لے گئے بیٹے پر کوئی الزام ہے عدالت میں پیش کیاجائے ہمارا خاندان شدید زہنی اذیت میں مبتلا ہے انہوں نے اپیل کی کہ انکے بیٹے جاوید شمس کو بازیاب کیاجائے
بلوچ راج تونسہ زون کی طرف سے 13 نومبر 2022 بروز اتوار کو کوہ سلیمان کے علاقے لری، تمن قیصرانی میں ڈاکٹروں کے تعاون سے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مختلف امراض کے مریضوں کا مفت علاج و ادویات تقسیم کی گئی۔
گزشتہ دس دنوں سے منان اور سرفراز خفیہ اداروں کے ذیر حراست جسمانی و ذہنی سائنٹفکل تشدد کے مراحل سے گزار کر کل رات #CTD نے ان پر جھوٹا کیس دائر کیا آج منان کی والدہ پریس کانفرنس کے دوران بات بھی نہیں کرسکی وہ پچھلے ایک ہفتے سے شدید ذہنی کرب میں مبتلا ہے۔
#ReleaseMananandSarfaraz
I’ve been struggling for 8years for the safe recovery of my brother Azeem dost he is still missing He was abducted on 3 July 2015 from TTC colony Gwadar.I appeal to @UNHumanRights break Ur silence and raise ur voice for safe recovery of my brother Azeem dost and others.
بولان میں بلوچ عورتوں بچوں کی جبری گمشدگی بلوچستان میں جاری آپریشن ماروائے آئین انکاونٹر بلوچ نوجوانوں بزرگوں کی جبری گمشدگی کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔
بلوچ عورتوں کی تذلیل جس طرح سے انھیں اٹھایا گیا اس طرح کوئی کسی کے مال مویشیوں کے ساتھ بھی نہیں کرتا مگر ہم بلوچ