اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دعا فرمایئ
اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہو تیری محبّت کا اور اس شخص کی محبّت کا جو تجھ سے محبّت کرتا ہے
اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو تیری محبّت کے قریب کر دے
جامع ترمیزی ، جلد ٢، ١١٥٩-حسن
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کی ،میں مکہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۔ہم کسی بھی جانب سے نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی پہاڑ یا درخت آتا تو وہ کہتا السلام عليك يا رسول الله یعنی اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو۔
السلسلہ صحیحہ - ٣٥٤٤
رسول اللہﷺنے فرمایا:
ان فتنوں سے پہلے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح (چھا جانیوالے) ہونگے، (نیک) اعمال کرنے میں جلدی کرو (ان فتنوں میں) آدمی صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر یا شام کو مومن ہو گا توصبح کو کافر، اپنا دین (ایمان) دنیوی سامان کے عوض بیچتا ہو گا۔
{صحیح مسلم۔۳۱۳}
پیارے رسول کریم ﷺ نے فرمایا :
لوگو! سلام پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے۔
) سنن ترمذی - 2485 )
رسول اللہﷺکی دعا:
اے اللہ! میں تجھ سے جنت کاطالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے،اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سےقریب کر دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نےمیرےلیے فیصلہ کیاہے بہتر کر دے۔
(ابن ماجہ،۳۸۴۶)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا
لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ لَيْلَةٌ أَغَرُّ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمٌ أَزْهَرُ
جمعہ کی رات، چمک دار رات ہے اور جمعہ کا دن، ترو تازہ دن ہے۔
{مشکوۃ المصابیح۔۱۳۶۹}
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا:
*وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا*
”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی الله علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی الله علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“
تو اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دیے جائیں گے
جامع ترمذی جلد ۱ ۲۰۰
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار چیزیں خوشیوں کا حصّہ ہوتی ہیں (یعنی ان کی وجہ سے خشی حاصل ہوتی ہیں )۔ نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور اچھی سواری۔ اور چار چیزیں پریشانیوں کا حصّہ ہوتی ہیں (یعنی ان کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے)۔ برا پڑوسی، بری بیوی، بری سواری، اور تنگ مکان۔
السلسلہ صحیحہ ۱۹۰۳
جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نےایک انتہائی روشن چاندنی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، پھر آپؐ کو دیکھنے لگااور چاند کو بھی دیکھنے لگا ( کہ کون زیادہ خوبصورت ہے) آپؐ اس وقت سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے،اور آپؐ مجھے چاند سےبھی زیادہ حسین نظر آ رہےتھے۔
(ترمذی،۲۸۱۱)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا، اُس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی (شاخ) دیکھی تو اُسے ایک طرف ہٹا دیا. الله تعالیٰ نے اُسے اس کا انعام دیا اور اُس کی مغفرت فرما دی.
بخاری 652، 2472
(مسلم 6669، 4940؛ ترمذی 1958؛ موطا امام مالک 292؛ مشکوٰۃ 1904)
رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھ پر صبح ١٠ بار اور شام کو ١٠ بار دورود بھیجےگا تو اس کو قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی
صحيح الجامع ٦٣٥٧ - حسن
صحيح الترغيب والترهيب ٦٥٩ - حسن
*اللَّهُمَّ صلِّ وسلِّم علَى نبيِّنا مُحمّد*
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔
(سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہےگا تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن ( یعنی غلام ) آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
سنن ابو داوود - ٥٠٥٩ -صحیح
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"ظلم و سرکشی" اور "قطع رحمی" (رشتہ ناتا توڑنا) ایسے گناہ ہیں کہ اِن کے مرتکب کو الله دنیا میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ، اسے آخرت میں بھی ذخیرہ کر لیتا ہے.
مشکوٰۃ 4932
(ابوداؤد 4902؛ ترمذی 2511؛ ماجہ 4211)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ہر گناہ کی سزا الله تعالیٰ اگر چاہے تو قیامت تک مؤخر فرما دیتا ہے، مگر:
(1) ظلم و سرکشی،
(2) والدین کی نافرمانی، اور
(3) قطع رحمی،
کی سزا الله تعالیٰ موت سے پہلے دنیا ہی میں دے دیتا ہے.
الادب المفرد للبخاری 591