> تم حساب دانِ جمال ہو تو حساب ذرا دھیان سے کرنا
میں چاند جیسی نہیں، تمہاری ہوں، یہ احسان سے کہنا
تم قلم اٹھاتے ہو تو میں سوچ میں پڑ جاتی ہوں
اتنا حسن لکھو گے کیسے، یہ سوچ کر شرما جاتی ہوں
میں کائنات نہیں، بس تمہاری ایک دعا ہوں
تم مٹھی بند نہ کرو، میں خود تم میں سمٹ جاؤں گی
وہ چاند جیسا شخص!!!
قلم اٹھاتا تو لکھتا ۔۔۔۔۔کہ
میں اپنے وقت کا ، تنہا حِساب دانِ جَمال
تمہیں جو سامنے پاؤں ، تو سوچ میں پڑ جاؤں۔
کہ اِتنا حُسن ٫ میرے فَن سے کیسے سِمٹے گا ؟
میں کائنات کو مُٹھی میں ، کیسے بند کروں؟
💫☺️🫣🫴
> تمہیں دیکھا تو پھر کسی کو دیکھنے کی چاہ نہ رہی
> بہت چہرے حسین سہی، پر تم جیسی بات نہ رہی
> جادو نظروں کا تو زمانہ کرتا ہے
> میرا جادو تو بس تجھ پر چلتا ہے
🫀🫶🫀
> کہتا ہے چہرہ دیکھا نہیں، تو آنکھوں میں الجھا رہا
> ذرا سوچ، اگر چہرہ دیکھ لیتا تو کہاں جاتا؟
*ا
لکھتی ہے کہ تیری آنکھوں نے تو دیکھا ہی نہیں
ورنہ ان پانچ جھیلوں میں میرا سارا عشق ہے
تیرے لفظ گلاب ہیں، تیری بات مہک ہے
تیری زلف نہیں، یہ رات کا ایک حصہ ہے
🫀🫶🫀
وہ لکھتا ہے کہ تیرے چہرے کو تو ٹھیک سے دیکھا ہی نہیں۔ 🫴🏻
پانچ جھیلوں کے برابر تو فقط آنکھیں ہیں۔ 💫
تیرے ہونٹ گلابوں کی پنکھڑی سے🧡
تیری ذلفوں کی لٹووں میں قید ہر خواب ہے۔ 🌸
💫💙💛🩵🫴