2008 میں جب عافیہ صدیقی گرفتار ہوئیں، تب لوگ خوف کی وجہ سے بول نہیں سکتے تھے اور حکومت بھی انکار کر رہی تھی۔ تب عمران خان نے کہا، ‘عافیہ صدیقی کراچی سے اسلام آباد آ رہی تھیں، اور وہاں سے اٹھائی گئیں۔
میر رضا کی ہلاکت!!
نوجوان اج بھی کراچی میں احتجاج کر رہے ہیں!!
اج۔میر رضا تو کل ہم بھی ہو سکتے ہیں, میر رضا کو انصآف دلانے تک ہم احتجاج کرینگے!!
سارے لوگو سے درخواست ہے, ہر احتجاج کو سپورٹ کرے!!
جس دن عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا،
تو تحریک انصاف کے ایم این ایز افسردہ تھے، سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے آرام سے، یہاں تک کہ عمران خان بھی اپنے گھر آرام کر رہے تھے،
لیکن پورے پاکستان میں عوام عمران خان کے حق میں بہت بڑی تعداد میں باہر نکل آئی،
اس رات کے بعد سے عمران خان کی سیاست کا منظر نامہ بدل گیا تھا، شہزاد اقبال
ہم اب تک تقریباً سو شہداء کے جنازے اٹھا چکے ہیں، ہزاروں زخمیوں کا دکھ دیکھ چکے ہیں ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے شدید حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آج بھی اپنی پُرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد کے اصول پر قائم ہے اور بامعنی مذاکرات، سنجیدہ بات چیت اور سیاسی حل کے لیے تیار ہے۔
یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ سمجھ لی جانی چاہیے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پالیسی کسی جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ، غیر مصدقہ پوسٹ، انفرادی رائے یا اشتعال انگیز بیان سے طے نہیں ہوتی۔ تحریک کا پالیسی مؤقف صرف مرکزی قیادت اور اس کے مستند ذرائع سے جاری ہونے والے بیانات کے ذریعے سامنے آتا ہے۔
ہم نے نہ کبھی مسلح جدوجہد کی حمایت کی ہے، نہ اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کسی ایسی سرگرمی کی حمایت کریں گے۔ ہماری جدوجہد عوام کے بنیادی، سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ہے۔
بدقسمتی سے بعض عناصر ایک منظم انداز میں ہماری پُرامن عوامی تحریک کو مسلح جدوجہد یا تشدد سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسی کوششیں نہ صرف حقائق کے منافی ہیں بلکہ اس تحریک کے حقیقی، عوامی اور جمہوری کردار کو مسخ کرنے کی کوشش بھی ہیں۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی فرد، گروہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے تشدد، اسلحہ یا اشتعال انگیزی پر مبنی مؤقف کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسوب نہ کیا جائے۔
تقریباً سو جانوں کی قربانی کے بعد بھی اگر ہم مذاکرات، مکالمے اور پُرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں تو یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ ہمارے اصولی مؤقف، سیاسی سنجیدگی اور عوام کے سامنے ہماری ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
سردار عمر نذیر کشمیری
کور ممبر، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
مطیع اللہ جان کا عمران خان کو خراج تحسین
عمران خان سیاسی طور پر امر ہو چکے ہیں ۔۔۔ بہت سے لوگ مر کر امر ہوتے ہیں مگر عمران خان وہ واحد سیاست دان ہیں جو زندہ ہو کر بھی امر ہو چکے ہیں ۔۔
وقار صاحب، آپ غلط کہہ رہے ہیں! یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نہیں ہو سکتے! یہ تو کسی مجرم مافیا کے سپاہی ہی ہونگے؟ بھلا قانون کے محافظ کیسے اتنی دیدہ دلیری سے قانون کی دھجیاں اڑا سکتے ہیں؟
ہم نے مقبول بٹ کو نہیں دیکھا
ہم نے سبز علی خان ملی خان کو نہیں دیکھا
لیکن ان کی بہادری کے قصے سنے تھے
ہم نے ڈاکٹر اسامہ جمیل شہید کی بہادری کو دیکھا تھا
صدیوں بعد اسامہ جمیل جیسے بچے جنم لیتے ہیں
اللہ پاک ہمارے بھائی کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے امین ثم امین
جناب فیلڈمارشل
غدار ساز فیکٹری کے انتہائی خطرناک نتائج نکل رہےہیں ہماری اس بیٹی کےکرب تکلیف دُکھ اور شکوے کو سنیں یوتھ پاکستان سےمحبت کیلیےبہت حساس ہے وہ غداری کے الزامات پر چُپ نہیں رہےگی بلکہ اصلی غداروں کو اور جھوٹےبیانیہ سازوں،بیانیہ بازوں کاپیچھا کرے گی
اٹھہتر سال سے جس کشمیر کو شہہ رگ کہہ رہے تھے، آج اسے ہی غدار قرار دے دیا، یہ سوال کرنا ہمارا حق ہے کہ ہماری حفاظت کون کرے گا۔ یہ سوال کرنے پر بھی یہ غدار قرار دے دیتے۔ میرے خاوند بھی اور میری بہن کے خاوند بھی ائیرفورس میں تھے۔ میرے شوہر کو تمغہ بسالت ملا ہوا ہے۔ آج ہم سارے غدار ہو گئے، میں تو ڈھونڈ رہی ہوں سب غدار ہیں تو وفادار کون ہے؟ علیمہ خان
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan #ImranKhan #AleemaKhan
@Aleema_KhanPK
عمران خان نے علیمہ خان کی ریلیوں کو لیڈ کرنے کی تربیت نہیں دی تھی مگر پھر بھی وہ اپنے بھائی کے لیے ہمت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ انکا گلا بیٹھ گیا ہے۔
ڈوب مرنا چاہیے تحریک انصاف کی قیادت کو جو وزارتوں کے مزے لے رہے ہیں جو دن رات عمران خان کے ساتھ کنٹینرز پر چڑھے رہے آج دمُ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
ہمیں اپنا بھائی اور آپ کو اپنا لیڈر رہا چاہیے!
آج آپ کا پورے دن کا جنون کوہاٹ سے شروع ہو کر، کرک پھر ،بنو پھر سرائے نو رنگ پھر لکی مروت آخری سٹاپ اور یہ رش جو آپ دیکھ رہے ہیں کہ مجال ہے کہ کوئی میڈیا دکھا دے کہ ہمارے لوگوں کی کیا ڈیمانڈ ہے پر ہم پھر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔
پیارے Gen-Zee تیاری پکڑو۔۔۔،اب راولاکوٹ پر جا کر رکیں گے،ان شاءاللہ۔
پیر،3 اگست کو صبح 10 بجے تاریخی انسانی امدادی قافلہ، امن کے سفید جھنڈوں کیساتھ ایف 10 مرکز اسلام آباد سے راولاکوٹ جائے۔ گا اور محاصرہ توڑے گا،ان شاءاللہ۔۔