𝗠𝗮𝗸𝗲 𝗬𝗼𝘂𝗿 𝗩𝗼𝗶𝗰𝗲 𝗖𝗼𝘂𝗻𝘁. 𝗦𝗶𝗴𝗻 𝘁𝗵𝗲 𝗽𝗲𝘁𝗶𝘁𝗶𝗼𝗻.
The imprisonment of human rights defenders and lawyers for peaceful advocacy is an attack on justice itself.
We demand the immediate release of detained BYC leaders including Dr Mahrang Baloch, Beebagr Zehri, Sibqatullah Shahji, Beebow Baloch, Gullzadi Baloch and lawyers Imaan Mazari, and Hadi Ali Chattha.
Raise your voice. Sign the petition.
https://t.co/f1usEOgq1Q
ہدہ جیل کے سامنے جاری پُرامن احتجاج میں شریک اسیر رہنماؤں کے لواحقین کو پولیس کی جانب سے ہراساں اور گرفتار کرنے کی کوششوں کی جارہی ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ پُرامن احتجاج کے حق کے بھی منافی ہے۔
اہلِ خانہ اپنے پیاروں سے ملاقات اور ان کی خیریت سے آگاہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر ان کے جائز مطالبات سننے کے بجائے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لواحقین کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی ناقابلِ قبول ہوگی۔
We reject the manner in which the court proceedings against Dr Mahrang Baloch and other detained BYC leaders are being conducted. For the past one week, the state has appointed lawyers to represent the accused without their consent and without any valid power of attorney signed by Mahrang Baloch or the other detainees. The accused and their chosen legal team have repeatedly objected to this arrangement and have refused to recognize these lawyers as their representatives.
The right to legal representation is a fundamental component of a fair trial. Legal counsel must act on the instructions of the accused and derive their authority from the informed consent of the person they represent. However, in this case, the proceedings have been conducted against the expressed wishes of the detainees.
For days, Mahrang Baloch and the other detainees have protested what they describe as a faceless and unfair trial. Yet, despite these objections, the proceedings have continued with state-appointed lawyers purporting to act on their behalf. This manner of proceeding raises serious concerns that the outcome of the case is being decided through representatives imposed by the very authorities responsible for prosecuting and detaining them.
If convictions or sentences are handed down under these circumstances, responsibility for such an outcome would not rest only with the government of Balochistan overseeing and influencing the proceedings. Those lawyers who continued to represent the detainees on behalf of state without the accused consent, despite clear objections and the absence of any authorization, would also bear serious professional and ethical responsibility for participating in a process that the accused themselves have consistently rejected.
We call on the Supreme Court of Pakistan and the Balochistan High Court to intervene and immediately uphold the detainees’ rights to fair trial, recognize their chosen legal representatives, ensure full access to independent counsel, and guarantee that any proceedings meet the standards of justice required under national and international human rights principles.
@EUPakistan@KaroblisR@HRCP87@UNinPak@amnestysasia@MunizaeJahangir@TIME@UNHumanRights@BBC100women@AusHCPak@NLinPakistan@MJibranNasir
Sentencing life imprisonment to Mahrang Baloch along with other political workers is an attack to peaceful political activism. It’s a very serious and shameful act. This attempt to silence the peaceful voices will have severe consequences on Balochistan’s political arena.
اس بزرگ خاتون کو کراچی پولیس، پریس کلب کے سامنے سے صرف اسلئے زبردستی گاڑی میں دھکیل کر اور گھسیٹ کر لے جارہی ہے، کیونکہ ان کا نوجوان بیٹا داد شاہ گزشتہ چار دنوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا جاچکا ہے،اس ماں کا جرم اپنے بیٹے کیلئے بولنا
#ReleaseDaadShahBaloch
Families deserve answers, yet DaadShah Baloch has been disappeared again and Fozia Baloch is detained for seeking truth, reflecting a system that punishes those who speak.
#ReleaseDaadShahBaloch
Social Media Campaign
Today marks three days since Dad Shah Baloch was forcibly disappeared, and his whereabouts remain unknown. A social media campaign will be launched tomorrow, April 25, against the enforced disappearance of Dad Shah Baloch.
We urge all political and human rights organizations, activists, and concerned individuals to take part in this campaign and raise their voices for the safe release of Dad Shah.
Time: 6:00 PM to 12:00 AM
Date: 25 April 2026
#ReleaseDaadShahBaloch
#EndEnforcedDisappearances
لائبریریاں علم و دانش کے مراکز ہوتی ہیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق میں شمار کی جاتی ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں ہم سے یہ بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
آپ سے گزارش ہے کہ قلات پبلک لائبریری کی بحالی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور کتابوں پر لگے تالوں کو کھلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
The PPL library in Kalat has been dis-functional for years while the students are facing difficulties in their study. There are thousands of libraries built but never been functioned.
We demand the concerned authorities to take notice and make the libraries functional.
ہرا وخت کہ سیاسی کارکُن ئس کہ او غیر ئنا تِروکا نفسیات ء شکست تِس گڑا نفسیات نا بنیات اوڑان بندات مریک ،دا نفسیات نا عمل ٹی بلوچ اینو ہرہر غیر ئنا ہٹکل ء شکست تِسونے انتکہ بلوچ نا سیاسی کارکن اتو نفسیات نا کُڑمبی ارے او کُڑمبی نظریہ ءِ
مھکم مریس سنگت
@SabihaBaloch_
مصنف جان اسٹین بیک اپنی کتاب شکست ناتمام میں دشمن کی ذہنیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ دشمن ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ مزاحمتی تحریک کو جڑ سے کمزور کرنے کے لیے اس کی قیادت کو ختم کر دیا جائے، تاکہ اس کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ لیکن ایک مزاحمتی قوم کی حیثیت سے ہمارے اتنے ہی لیڈر ہیں جتنے ہمارے عوام ہیں، اور ضرورت کے وقت ہمارے درمیان لیڈر اسی طرح پیدا ہو جائیں گے جس طرح زمین کے سینے سے پودے اُگ آتے ہیں۔
مصنف جان اسٹین بیک اپنی کتاب شکست ناتمام میں دشمن کی ذہنیت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ دشمن ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ مزاحمتی تحریک کو جڑ سے کمزور کرنے کے لیے اس کی قیادت کو ختم کر دیا جائے، تاکہ اس کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ لیکن ایک مزاحمتی قوم کی حیثیت سے ہمارے اتنے ہی لیڈر ہیں جتنے ہمارے عوام ہیں، اور ضرورت کے وقت ہمارے درمیان لیڈر اسی طرح پیدا ہو جائیں گے جس طرح زمین کے سینے سے پودے اُگ آتے ہیں۔
Hakim Majeed Baloch, Dawood Baloch, and Usman Baloch were forcibly disappeared on 2 November 2025. Since that day their families have received no information about their fate. Months have passed and the silence from authorities continues.
This case reflects a wider pattern in Balochistan. Baloch students face systematic targeting. Young people who pursue education and awareness face enforced disappearance. This practice aims to silence knowledge and intimidate an entire generation.
Their families continue to wait for answers. Enforced disappearance is a serious human rights violation under international law. Authorities must end impunity, disclose their whereabouts, and ensure their safe and immediate release.
#ReleaseHakimMajeedBaloch
#ReleaseDawoodBaloch
#ReleaseUsmanBaloch
#SaveBalochStudents
My brother is a simple and introverted person who keeps to himself. He goes to work and comes home, doesn't socialize much, and lives a quiet life. Despite this, he's been picked up by the authorities and is currently being held in detention. I'm really worried about him.
بلوچستان بار کونسل، کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے پریس کلب میں پولیس کی مداخلت اور بی وائی سی کے رہنماؤں کے خاندانوں کو ہراساں کرنے کے خلاف مشترکہ طور پر شدید الفاظ میں مذمت ایک ٹھوس قدم ہے جو ریاستی جبر اور ظلم کو عیاں کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 2 مارچ کو ہم پریس کلب میں جیل میں بند ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے اور بی وآئی سی کی باقی رہنما جن میں بیبرگ بلوچ ، شاہ جی بلوچ ، گلزادی اور بیبو بلوچ کے کیسز کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے جا رہی تھیں مگر پولیس نے عین اسی وقت پریس کلب پر دھاوا بول کر نہ صرف پریس کانفرنس کو روکا بلکہ بلوچ خواتین اور وہاں موجود تمام حاضرین، بشمول میڈیا پرسنز اور دیگر کارکنوں کو بھی ہراساں کیا۔ تاہم ہم نے بعد ازاں اپنی پریس کانفرنس پریس کلب کے باہر کرنے کا فیصلہ کیا مگر وہاں بھی ہمیں شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ بلوچوں کو اظہار رائے، احتجاج کے حق اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے سے روکا گیا ہو بلکہ بلوچ قوم گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے انہی مظالم اور جبر کا سامنا کر رہی ہے۔ بلوچستان میں پریس کلب اظہار رائے کی آزادی کے مراکز ہونے کے بجائے مظلوموں کی آواز دبانے کے ریاستی آلے بن چکے ہیں جہاں بلوچ قوم کو نہ پریس کانفرنس کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی میڈیا پرسنز کو ہماری آواز دنیا تک پہنچانے کی آزادی دی جاتی ہے۔ اگر اب بھی کوئی یہ دعویٰ کرے کہ بلوچ قوم کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں تو یہ ہمارے لیے باعث تعجب ہوگا۔
میری بہن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کی دیگر کارکنان انہی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج تھیں جنہیں تقریباً ایک سال سے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت پابندِ سلاسل رکھا گیا ہے۔ آج جب ہم ان کی رہائی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں تو ہمیں بھی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ڈرایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج اور اظہارِ رائے پر عملا کرفیو نافذ ہے جہاں کسی کو بھی ریاستی ظلم و جبر کے خلاف کسی قسم کی جدوجہد کرنے کی آزادی نہیں دی جا رہی۔ اس دوران بلوچستان بار کونسل، کوئٹہ پریس کلب اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کا مشترکہ مذمتی بیان مظلوم قوم کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم ہے جسے ہم سراہتی ہیں۔
ریاستی میڈیا ایک جانب بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم پر پردہ ڈالتی ہے تو دوسری جانب ڈس انفارمیشن کے ذریعے مسائل کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہے اور بلیک پراپیگنڈے کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہم ایک بار پھر تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔
ہم واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ریاست چاہے ہم پر ظلم کے پہاڑ کیوں نہ توڑے ہم اپنی انسانی اور بنیادی حقوق کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھیں گی۔ اور جب تک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بی وائی سی کی دیگر کارکنان کو باحفاظت رہا نہیں کیا جاتا ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
#ReleaseBYCLeaders
آج ہی وہ دن ہے جب سرفراز بلوچ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اور اب اس ایک سال کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے۔
سرفراز جس کی جبری گمشدگی سے دو مہینے پہلے شادی ہوئی تھی، شادی جو خوشیوں کی ایک تہوار ہے جہاں دو مہینوں سے دعوتیں ہوتی ہیں مگر سرفراز بلوچ پوسٹر میں مقید ہوکر ایک یاد بن گئے۔
سال بھر کا درد، بلوچ ماؤں کی اذیت اور وہ احساس جو ہم سب کو جھنجھوڑتا ہے جس سے نہ جانے کتنے لواحقین ذہنی ڈپریشن جیسی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
جبری گمشدگیاں صرف انفرادی تکلیف نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کے لیے اجتماعی درد اور زخم کا موجب ہے۔