ہار کر بھی مسکرانے والی لڑکی
نام تھا آمنہ
آمنہ لاہور کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہتی تھی۔ باپ درزی تھا، ماں بیمار۔ گھر میں غربت، لیکن آمنہ کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ۔
میٹرک میں فیل ہو گئی۔ محلے کی عورتوں نے کہا، "اب گھر بیٹھ، شادی کر لے۔"
آمنہ نے ہنس کر جواب دیا، "فیل تو پیپر میں ہوئی ہوں، زندگی میں نہیں۔ اگلے سال پھر دوں گی۔"
2. ہار کی عادت
اگلے سال پاس ہو گئی، مگر کالج کی فیس نہیں تھی۔ اس نے صبح اسکول میں بچوں کو پڑھایا، شام کو سلائی کی۔ 3 سال لگ گئے ایف اے کرنے میں۔
نوکر ی کے لیے اپلائی کیا۔ 12 جگہ سے ریجیکٹ ہوئی۔ وجہ؟ "انگلش نہیں آتی"، "قد چھوٹا ہے"، "تجربہ نہیں ہے"۔
ہر ریجیکشن لیٹر کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی، خود کو دیکھ کر کہتی، "آمنہ، ایک ہار اور سہی۔ مسکراہٹ ادھار نہیں ملتی۔" اور پھر ہنس دیتی۔
3. سب سے بڑی ہار
27 سال کی عمر میں رشتہ آیا۔ لڑکا بینک منیجر تھا۔ سب خوش تھے۔ منگنی ہو گئی۔ شادی سے 10 دن پہلے لڑکے والوں نے جہیز کی لسٹ بھیج دی: گاڑی، 5 تولہ سونا، فرنیچر۔
آمنہ کے باپ نے کہا، "بیچ دوں گا دکان، پر بیٹی کی عزت رکھ لوں گا۔"
آمنہ نے منگنی کی انگوٹھی اتار کر واپس کر دی۔ "ابا، جو رشتہ جہیز سے شروع ہو، وہ عزت پر ختم نہیں ہوتا۔"
بارات والے دن محلے والے افسوس کرنے آئے۔ آمنہ چائے بنا رہی تھی، مسکراتی ہوئی۔ "خالہ، رونا کیوں؟ میں تو بچ گئی۔"
4. جیت کا دن
30 سال کی عمر میں آمنہ نے اپنے محلے میں "مسکان اسکول" کھولا۔ 2 کمروں کا اسکول۔ فیس؟ "جو دے سکے۔ جو نہ دے سکے، وہ بھی پڑھے۔"
آج اس اسکول میں 400 بچیاں پڑھتی ہیں۔ آمنہ خود پرنسپل ہے۔ وہی لوگ جو کہتے تھے "فیل ہو گئی"، اب اپنی بیٹیاں اس کے پاس لاتے ہیں۔
پچھلے مہینے اسے "صوبے کی بہترین ٹیچر" کا ایوارڈ ملا۔ اسٹیج پر گئی، ایوارڈ پکڑا، اور کہا:
"میں 17 بار ہاری ہوں۔ 12 نوکریاں، 1 منگنی، 4 پیپر۔ اگر ہر ہار پر رونا شروع کر دیتی، تو آج آنسو ختم ہو جاتے۔ میں نے مسکرانا چنا، کیونکہ ہار وہی ہے جو آپ کو ہنسنا بھلا دے۔"
*5. آخری بات*
آج بھی آمنہ کی زندگی میں مسائل ہیں۔ ماں اب نہیں رہی، باپ بوڑھا ہے، اسکول کا کرایہ کبھی لیٹ ہو جاتا ہے۔
مگر اس کے چہرے کی مسکراہٹ لیٹ نہیں ہوتی۔ وہ کہتی ہے:
"زندگی نے مجھے ہرانے کی بہت کوشش کی۔ میں نے زندگی کو ہنس کر ہرا دیا
یہ بچہ جو کہ
محمد عدیل ولد لیاقت ہے ۔
دو دن پہلے مغرب کے وقت فیضان مدینہ شجاع آباد نماز پڑھنے گیا وقت گزر گیا جیسے تھوڑی دیر ہوئی تو تمام گھر والے تلاش کرنے لگے ۔
رات کے وقت ہی دروازہ بجا کہ حارث بھائی مدد کریں کیونکہ میرے گھر کے سامنے والا گھر ہے خیر ہم جب سے تلاش کرتے رہے ۔
پہلے لگ رہا تھا کہ شجاع آباد کے آس پاس میلہ لگا ہوا ہے وہاں جاکر دیکھا نہیں ملا اب نوری لعل تک جاکر دیکھ لیا ۔
ابھی تک عدیل کا کوئی نام و نشان نہیں ملا بچے کی عمر 13 سال ہے
پلیز اس کو وائرل کردیں تاکہ کسی غلط انسان کے ہاتھ میں نہ پہنچے
اب بہت سے خدشات ذہن میں آرہے ہیں جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے غلط سوچیں گھیر رہیں ہیں ۔
کیونکہ بچہ ہمارے سامنے ہی کھیلتا ہوا بڑا ہوا ہے اس لیئے دل پریشان ہے
گھر والوں کی کیفیت دیکھی نہیں جاتی اگر کسی نے اس بچے کو کہیں بھی دیکھا ہو تو پلیز مجھ سے رابطہ کریں
😪😪😪?
ہیرے جیسے لوگ :
40 اور 60 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ٹھکرا کر غریبوں کے مفت آپریشن کرنے والا پاکستانی ڈاکٹر ۔۔۔۔
ڈاکٹر محمد خان ببر نے 2015 میں گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس جوائن کیا تو لاہور سے ایک بڑے پرائیویٹ اسپتال کی جانب سے رابطہ کیا گیا کہ وہ ان کو ماہانہ چالیس لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں، وہ لاہور آجائیں۔
ڈاکٹر محمد خان نے انکار کیا کہ انہیں یہیں کام کرنا ہے۔ پھر دوسری بار 2017 میں ڈاکٹر محمد خان سے لاہور کے اسی اسپتال منتظم نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر سے مذاکرات کے دوران ساٹھ لاکھ روپے مہینہ دینے کی آفر کی۔
اس وقت لاہور میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے فی مریض تیس لاکھ روپے وصول کئے جاتے تھے۔ اور یہاں سندھ میں ڈاکٹر محمد خان یہ ٹرانسپلانٹ مفت کررہے تھے ۔
کسی نے ڈاکٹر صاحب سے گمبٹ انسٹیوٹ سے ملنے والی تنخواہ پوچھی تو کہنے لگے ، 4 لاکھ روپے ملتے ہیں لیکن ٹیکس وغیرہ لگ کر شکر الحمد للہ اخراجات کے لیے رقم بچ جاتی ہے ۔
ڈاکٹر محمد خان سندھ کے دور دراز علاقے جوہی سے تعلق رکھتے ہیں، بچپن سے مظلوم و محکوم عوام سے محبت اور انکی خدمت کے جذبے سے بھرا دل رکھتے ہیں ،
دعا ہے اللہ کریم ڈاکٹر محمد خان ببر کی جان مال میں برکت عطا فرمائے اور انہیں صحت و خوشیوں بھری لمبی زندگی دے۔
آمین ثم آمین
السلام علیکم بھائی جان یہ بچہ اسوقت دھپ سٹری کے مقام پر ہے اسکو ایک عورت پتہ نہیں کس جگہ سے اٹھا کر لیکر ساتھ لیکر جا رہی تھی تو وہ اسکو ادھر ہی چھوڑ کر بھاگ گئ اگر کسی بھائی کو اس کے ورثاء کا پتہ ہے تو پلیز اس نمبر پر رابطہ کریں اور مزید ڈیٹیل کے لیئے نیچے دیئے گئے نمبر سے لیں
0301 2402117
کراچی کے علاقے کراچی چڑیا گھر سے ملنے والا بچہ آپ کی مدد سے اپنے والدین تک پہنچ سکتا ہے۔
اس بچے کی عمر تقریبآ 8 سال ہے
اپنا نام فیاض جبکہ والد کا نام علی خان بتا رہا ہے۔
بچے کے مطابق اس کا گھر رشید آباد کوہاٹی محلہ نزد نورانی مسجد کی طرف ہے۔
بچے کو لاوارث حالت میں پاکر گارڈن پولیس اسٹیشن کی حفاظتی تحویل میں دے دیا ہے۔ جہاں سے یہ بچہ اپنے والدین اور ورثاء تک پہنچ سکتا ہے۔
اگر رشید آباد کی طرف رہنے والا یا سماجی کارکن اس بچے کو جانتے ہیں تو برائے مہربانی ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال سے رابطہ کریں۔
شئیر کریں تاکہ بچے کے ورثاء کی شناخت کے بعد ان کے حوالے کیا جاسکے۔
پکانے والا کہہ رہا ہے کہ وہ چکن پلاؤ بنا رہاہے جبکہ اس نے اسمیں چکن کے علاوہ انڈے اچار مصالحہ بریانی مصالحہ، ٹماٹر، کشمیری مرچیں، املی اور مزے کی بات یہ ہے کہ دس کلو چاول کیساتھ صرف تین کلو چکن ڈالا ہے۔ ادرک بھی جولین کاٹ کر ڈالی ہے۔ اسکو پلاؤ کہنا ہے پلاؤ کی توہین ہے۔
آپ کا ایک شیئر کسی ماں کی راحت کا سبب بن سکتا ہے
تلاش گمشدہ ۔۔
محمد حسنین ولد شہباز علی
گاوں ایاپور کا رہائشی ہے قوم آرائیں 7 ویں کلاس میں گورنمنٹ ہارون شھید پائلٹ سیکنڈری سکول شرقپورشریف میں پڑھتا ہے آج صبح گھر سے سکول آیا مگر ابھی تک گھر وآپس نہیں گیا ، والدین پریشان ہیں برائے کرم اگر کسی نے دکھا تو ہو اس نمبر پر اطلاع دیں۔
03484335668
یا اللہ ہم سب کو ہمارے والدین، عزیز و اقارب کو اپنے نیک بندوں میں شامل فرما، اور روز محشر سب سے درگزر والا معاملہ فرمانا۔ آمیـــن یاربـــُ العالمیـــن🤲
یہ بچی، جو اپنا نام کنزہ دختر جاوید بتاتی ہے،
23 فروری 2026 کو ہربنس پورہ، لاہور سے لاوارث حالت میں ملی ہے۔
اگر آپ اس بچی کو پہچانتے ہیں یا اس کی فیملی کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم 03090000015 پر فوری اطلاع دیں۔
Case ID: 284822831
آپکی توجہ کے لئیے
پوسٹ کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر ضرور کریں
یہ ویڈیو دیکھ کر انسان سکتے میں چلا جاتا ہے
معلومات کے مطابق یہ بچہ کراچی ایئرپورٹ سے افریقہ کے کسی ملک سمگل کیا جا رہا تھا لیکن اللہ کے فضل سے یہ کوشش ناکام ہو گئی
بچہ معصوم اور بہت چھوٹا ہے،سہما ھوا ھے،بول نہیں سکتا اور ظاہر ہے کہ اس کو والدین کا بھی کوئی علم نہیں ؟
آپ سب سے گزارش ہے کہ اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں،اپنے وٹس ایپ گروپس میں ڈالیں ، فیسبک پر شیئر کریں کیا پتہ ہماری مشترکہ کوششوں سے إن شاء اللہ
یہ معصوم اپنے والدین تک پہنچ جائے
صدق دل سے دعا ہے کہ اللہ کریم اس معصوم بچےسمیت سب کے بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین 🤲
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجیئے تاکہ یہ بچہ اپنے والدین تک بحفاظت پہنچ جائے
جزاک اللّٰہ
4 ماہ قبل موٹی موٹی آنکھوں والا یہ پیارا شہزادہ لاہور ہربنس پورہ کی حدود سے لاوارث ملا ۔
وہ دن 15 دسمبر 2025 کا تھا بہت انتظار کیا کہ اس معصوم پھول کی تلاش میں کوئی آجائے لیکن افسوس کوئی نہ آیا ۔
یہ اپنا نام سلیمان خان اور والد کا نام خالد خان بتاتا ہے پہلے اس کو ہرہنس پورہ کے آس پاس لے کر جایا گیا کہ شاید اس کو راستہ یاد آجائے لیکن
ایسا کچھ بھی ممکن نہ ہوا انتظار کیا گیا کہ اس کے والدین کوئی ایف آئی آر کروا دیں لیکن وہ بھی سامنے کچھ نہ آیا ۔
آخر کار تھک ہار کر شلٹر ہوم اس کو بھیج دیا گیا اب دوبارہ اس کی کمپین چلائی جارہی ہیں
ایک بات جو سامنے آئی ہے کہ یہ اپنا گاؤں جلو بتاتا ہے لیکن لاہور والے جلو پنڈ میں اس کے والدین کا سراغ نہ مل سکا
ہوسکتا ہے کہ یہ بچہ والدین کے ساتھ حسن ابدال کے پاس جلو گاؤں سے آیا ہو اور بچھڑ گیا ہو ۔
خیر ساتھ دیں ان شاء اللہ اس کے والدین مل جائیں گے
آپ بتائیں اگر آپ کو ایسا کیس ملتا جس میں صرف بچے کا نام معلوم ہوتا تو آپ کیسے اس کے والدین تک پہنچتے ؟؟؟
🌹🌹🌷
Share it
دو روز قبل جس بزرگ کی بیٹی کو اس کے داماد نے کراچی میں دفن کردیا تھا ۔
اس کے بعد جب بزرگ جہلم سے کراچی اپنی بیٹی کا پتہ کرنے آیا تو معلوم ہوا کہ بیٹی کو تو مرے ہوئے بھی دس دن گزر چکے ہیں
تب بیچارہ تھانے کے چکر لگا رہا تھا تو ان کی بیٹی کے لیئے آپ سب نے آواز اٹھائی کہ ایف آئی آر داماد کے خلاف درج ہونی چاہیئے ۔
تب جہلم کی معتبر شخصیت کی وساطت سے اس بزرگ کی مدعیت میں تھانہ اتحاد نگر میں سوشل میڈیا کے پریشر کی وجہ سے ایف آئی آر درج ہوچکی ہے اور داماد کو بھی گرفتار کرکے تفتیش جاری ہے ۔
یہ تماچہ ان کے لیئے ہے جو کہتے تھے کہ سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کیا ہوتا ہے۔
یہ لیں دیکھ لیں میرے ساتھ میرا اللہ ہے اور اس کے نیک بندے ہیں جو لوگ کومنٹ کرتے ہیں سپورٹ کرتے ہیں
یہ ان کی وجہ سے
اس بزرگ کی مرحوم بیٹی کو انصاف مل جائے گا جو کہہ رہے تھے کہ یہ صرف ایک کہانی ہے ایسا کیسے ہوسکتا ہے تو ایف آئی آر تصویر میں موجود ہے ۔
اب جتنا آپ ساتھ دیں گے اتنا ہی اس بچی کو انصاف ملنے کے چانسز زیادہ ہونگے ۔
❤❤❤❤
اللہ سے جب بھی دعا مانگو تو ایسے مانگو۔۔۔
1. مکمل سپردگی کی دعا:
"یا اللہ! میری پوری زندگی کو تیرے حوالے کرنے میں میری مدد فرمانا تاکہ میں وہ سب کچھ پا سکوں جو تو مجھے دینا چاہتا ہے۔"
2. گناہوں سے توبہ:
"یا اللہ! میری گزر چکی غلطیوں کو معاف فرما اور ان غلطیوں کو بھی جن کا ارتکاب میں آئندہ وقت میں کروں گا۔"
3. رحمتِ الہی پر بھروسہ:
"یا اللہ! مجھے ہمیشہ یاد دلاتے رہنا کہ تیری رحمت میری ہر غلطی سے بڑی ہے۔"
4. ہدایت اور نور کی طلب:
"یا اللہ! اپنی نور سے مجھے روشن کر دے، تاکہ میری آنکھیں تیرے حق کو پہچان سکیں اور میرا دل تیرے حسن کی روشنی سے منور ہو جائے۔"
5. والدین کے لیے دعا:
"رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا"
(اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔)
ایک اہم پیغام
"شیئر کریں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی کو ہدایت (سیدھے راستے) کی طرف بلاتا ہے، اسے اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا اس راستے پر چلنے والوں کو ملتا ہے، بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کچھ کمی کی جائے۔"