تاریخ دانوں نے روایت کیا ہے کہ عمر بن خطابؓ، جنہیں ان کی سختی اور قوت کے لیے جانا جاتا ہے، ایک دن مدینہ میں لوگوں کے لیے کھانے کے دسترخوان لگا رہے تھے۔ انہوں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھا، تو پیچھے سے آ کر کہا:
"اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔"
اس شخص نے جواب دیا:
نیدر لینڈ، غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران جان سے جانے والے بچوں اور صحافیوں کی یاد میں 15,000 جوتوں کے جوڑے چوک میں رکھ کر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
These are the pants of the child, #Jawad Abu Nasser — a small piece of fabric that stands as powerful evidence of the crime.
They bear traces of his blood, reflecting the abuse he endured. A visible hole can also be seen, indicating the insertion of a sharp object, resembling a metal rod, into his foot, with a clear exit point through both the foot and the fabric.
The evidence does not end there; there are also marks that appear to be burns, likely caused by cigarettes being extinguished on them.
The pants of a child not yet a year and a half old… yet they tell a story that cannot be justified.
The Hindu–Arabic numeral system was invented between the I and IV centuries by Indian mathematicians. The system was adopted in Arabic mathematics by the IX century more widely known through the writings in Arabic of the Persian mathematician Al-Khwārizmī
ایک قاضی نے اپنے شاگردوں کا امتحان لینے کے لئے ان کے سامنے ایک مقدمہ رکھا اور ان کو اپنی رائے لکھنے کو کہا.
ایک شخص کے گھر مہمان آئے. اس نے ان کی خاطر مدارات کی. اپنے ملازم کو دودھ لینے بھیجا تاکہ مہمانوں کے لیے کھیر بنائی جائے. ملازم دودھ کا برتن سر پر رکھے آرہا تھا کہ اوپر سے ایک چیل گذری جس کے پنجوں میں سانپ تھا. سانپ کے منہ سے زہر کے قطرے نکلےجو دودھ میں جاگرے. مہمانوں نے کھیر کھائی تو سب ہلاک ہوگئے. اب اس کا قصوروار کون ہے.
پہلے شاگرد نے لکھا کہ یہ غلطی ملازم کی ہے اسے برتن ڈھانپنا چاہیے تھا. لہذا مہمانوں کا قتل اس کے ذمہ ہے اسے سزا دی جائے گی... قاضی نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ملازم کو برتن ڈھانپنا چاہیے تھا. لیکن یہ اتنا بڑا قصور نہیں کہ اسے موت کی سزا دی جائے.
دوسرے شاگرد نے لکھا اصل جرم گھر کے مالک کا ہے اسے پہلے خود کھیر چکھنی چاہیے تھی. پھر مہمانوں کو پیش کرنی چاہیے تھی. قاضی نے یہ جواز بھی مسترد کر دیا. تیسرے نے لکھا یہ ایک اتفاقی واقعہ ہے. مہمانوں کی تقدیر میں مرنا لکھا تھا. اس میں کسی کو سزا وار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے. قاضی نے کہا کہ یہ کسی جج کی اپروچ نہیں ہونی چاہیے. جج اگر مقدمات تقدیر پر ڈال دے گا تو انصاف کون کرے گا.
چوتھے نے کہا کہ سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ یہ سارا منظر دیکھا کس نے.کس نے چیل کے پنجوں میں سانپ دیکھا. کس نے سانپ کے منہ سے زہر نکلتا دیکھا. اگر اس منظر کا گواہ ملازم ہے تو وہ مجرم ہے. اگر گواہ مالک ہے تو وہ مجرم ہے.
اور اگر کوئی گواہ نہیں تو جس نے یہ کہانی گھڑی ہے وہ قاتل ہے. قاضی نے اپنے چوتھے شاگرد کو شاباش دی اور صرف اسے منصب قضا کا اہل قرار دیا.....
سبق: انصاف اور ذمہ داری صرف قیاس یا تقدیر پر نہیں دی جا سکتی، بلکہ شواہد اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
منقول