کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گے
کب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گے
بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میں
کب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گے
فیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی
تم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
ہم سے اس دیس کا تم نام و نشاں پوچھتےہو
جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے
اور یاد آئے تو محبوب گزشتہ یاد آئے
ہاں مگر جیسے کوئی
ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو
آ نکلتا ہے کبھی رات بتانے کے لیے
ہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہی
دل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیے
11/11 ہوتے۔
اویس کی کہانی صرف ایک فرد کی داستان نہیں، یہ اُن تمام لوگوں کے دکھ کی آواز ہے جو سیاست، جنگوں اور سرحدوں کے بیچ اپنے پیاروں سے بچھڑ کر جینے پر مجبور ہیں۔ ایسے لوگ زندہ تو رہتے ہیں، مگر ان کے دل کا ایک حصہ ہمیشہ سرحد کے اُس پار رہ جاتا ہے۔
1/11 سرحدیں صرف زمین کے ٹکڑوں کو تقسیم نہیں کرتیں، یہ انسانوں کے دل، رشتے، یادیں اور زندگیاں بھی بانٹ دیتی ہیں۔ تقسیم کا دکھ صرف تاریخ کی کتابوں میں درج ایک واقعہ نہیں بلکہ آج بھی بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں ایک زندہ اذیت کی صورت موجود ہے۔ ایسے ہی دکھ کی ایک تصویر ہمارے عزیز
10/11 جدا کر چکی ہیں۔ نہ جانے کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی راہ تکتے تکتے دنیا سے رخصت ہو گئیں، کتنے بھائی ایک دوسرے کے جنازوں میں شریک نہ ہو سکے، کتنی بہنوں کی دعائیں فضاؤں میں بکھر گئیں۔ سرحدیں شاید ملکوں کی ضرورت ہوں، مگر انسان کے جذبات، محبتیں اور رشتے کبھی سرحدوں کے پابند نہیں
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا نہ تھے
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے
جینےکا حق صرف انسان کا نہیں ہر اس مخلوق کا ہےجو اس زمین پر پیدا کی گئی، دنیا کےکئی ممالک میں آوارہ جانوروں کیلیے پناہ گاہیں، علاج اور خوراک کا انتظام ہوتا ہے،مگر یہاں ظلم کہ جیتے جاگتےکتوں کو زہر دیکر مار دیا جاتا
یہ جانوروں کی موت نہیں، بلکہ انسانیت کی بے حسی کا نوحہ ہے