Zakria Ismail a recent law graduate from the University of Karachi, was meant to sit for his GAT exam today, the next step in a journey toward justice, But last night, from Hazara Town in Karachi, he was forcibly disappeared by the Counter-Terrorism Department and Military Intelligence. No warrant. No accusation. Just the machinery of a state that disappears whenever they want.
Zakria Baloch is not a threat. He is a student, brilliant, committed. He is from Nasirabad, Kech, a region that knows too well what it means to be punished for existing.
#EndEnforcedDisappearnces
My sister Beebow Baloch was tortured in jail along with Dr. Mahrang and Gulzadi Baloch. she has now been forcibly taken by CTD. This cowardly state is using every tactic possible to silence Baloch voices.
معزز صحافی حضرات !
ہم تمام مکاتب فکر کے لوگوں، انسانی حقوق کے کارکن، اداروں اور بین الاقوامی قوتوں، مظلوم اقوام اور طلباء سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم اور جبر کے خلاف کھڑے ہوکر عملی طورپر ہمارا ساتھ دیں تا کہ ہم اس جاری بربریت سے چھٹکارا پا سکیں۔ اگر آج دنیا خاموش رہی تو کل تاریخ انکو مجرم ٹہرائی گی۔ اخلاقی اور انسانی وقار کو برقرار رکھتے ہوئے وہ اس ظلم کے خلاف بلوچ اور طلباء کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنی عملی ہونے کا ثبوت دیں۔ اور ہم بلوچ قوم اور طلباء قوتوں سے یہ اپیل اور امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا بھرپور ساتھ دیں گے ۔
اس پریس کانفرنس کی توسط سے ہم سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں، یونیورسٹی انتظامیہ اور سول انتظامیہ کو یہ الٹیمیٹم دیتے ہیں کے جلد از جلد سجاد اسحاق کو بازیاب کیا جائے اگر ان کو بازیاب نہیں کیا گیا تو ہم سخت سے سخت موقف اپنائیں گے اور عملی طورپر اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان بذریعہ میڈیا کریں گے۔ میڈیا اور صحافی حضرات سے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری آواز کو پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔
آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے بعد ہم ملک گیر احتجاجی دھرنا اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
#ReleaseSajjadIshaqBaloch
#BalochStudetsLivesMatter
بلوچستان میں اب تک جتنی بھی لڑائیاں یا جھڑپیں پاکستانی فوج اور بلوچ آزادی پسند سرمچاروں کے مابین ہوئی ہیں۔ ان میں حملہ آور بلوچ سرمچار رہے ہیں جنہوں نے پاکستان فوج کی چوکیوں پر حملے کئے ہیں۔ فوجی تنصیبات کے اندر گھس گئے یا ان پر جزوی طور پر قبضہ کیا ہے۔ اپنی آخری گولی اور آخری سانس تک لڑکر اپنی جانیں دی ہیں۔ اب تک کوئی بھی ایسی جھڑپ یا لڑائی کی کوئی خبر نہیں ہے جہاں بلوچستان میں پاکستانی فوج نے پیش قدمی کرکے سرمچاروں کے اڈوں پر حملہ کرکے قبضہ کیا۔ یا ان سے مڈبھیڑ ہوئی۔ کیونکہ پاکستانی فوج اپنی چھاؤنیوں سے باہر نہیں نکلتی اور نہ FC و دیگر فوجی اداروں میں اتنی قوت ہے کہ پہاڑوں داخل ہوکر سرمچاروں سے مقابلہ کریں۔ جب بھی بلوچوں کی لاشیں پاکستانی فوج نے گرائی وہ وہی ہیں جن کو اغواہ کرکے پھر قتل کیا۔
رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح گھروں میں داخل ہوکر معصوم اور بے گناہ بلوچ نوجوانوں کو ان کے ماؤں کے پہلو اور بچوں کے درمیان سے اُٹھاکر جبری اغواہ کرتے ہیں اور پھر اپنی جنگی بے بسی، بزدلی کی خفت مٹانے کیلئے ان معصوم بلوچ نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے جنگی جنون کی تسکین کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں خوف کی فضا کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ جس میں وہ کچھ حد تک کامیاب بھی رہے لیکن خوف کی بھی کچھ حدود ہوتے ہیں۔ نفسیاتی جنگ بھی ایک مقام پر آکر اپنی تمام صفات کھودیتی ہے اب بلوچستان میں پاکستان کی مسلط کردہ جنگ کی دونوں صورتیں یعنی نفسیاتی اور خوف کا عالم دم تھوڑ رہی ہیں مزاحمت، زندگی اور امن کی ایک نئی اور طاقتور صورت بلوچستان میں ظہورپذیر ہورہی ہے۔ جو جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل جیسے بھیانک جرائم جن کا پاکستانی فوج مرتکب ہورہی ہے عوامی سطح پر مقابلہ کررہی ہے۔
ایرانی حملے میں شہید ہونے والے دو خوبصورت معصوم بلوچ بچے جو ایرانی اور پاکستانی بلوچ نسل کشی کے بھینٹ چڑھ گئے۔ جن کی زندگی کا چراغ ایرانی میزائیلوں نے گُل کردیا
#StopBalochGenocide
ایرانی حملے میں شہید ہونے والے دو خوبصورت معصوم بلوچ بچے جو ایرانی اور پاکستانی بلوچ نسل کشی کے بھینٹ چڑھ گئے۔ جن کی زندگی کا چراغ ایرانی میزائیلوں نے گُل کردیا۔
نئے سال کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ کی جانب سے بلوچوں کے لئے اس پیغام سے لگتا ہے کہ اس سال بھی بلوچستان میں ریاست اپنے ظلم اور زیادتیاں جاری رکھے گی!
#EndEnforcedDisappearances#MarchAgainstBalochGenocide
کیا یہ انسانی وجود کو جنجھوڑنے والا درد نہیں ہے؟
کیا اس ماں کی تکلیف کو آپ اپنے اندر محسوس نہیں کررہے ہو؟
کیا اس ماں کی تڑپ دیکھنے کے بعد آپ کی ضمیر آپ کو ملامت نہیں کررہی ہے؟
کیا اب بھی آپ اس بربریت کے خلاف خاموش رہو گے؟
اب آپ کو نکلنا ہوگا، اس ظلم کے خلاف، اس جبر کے خلاف، وگرنہ کل ہم میں سے کوئی بھی اس ریاست میں محفوظ نہیں ہوگا۔
#StopBalochGenocide
#MarchAgainstBalochGenocide