Your Highness, Sheikh Muhammed bin Rashid Al Maktoum @HHShkMohd,
Justice remains the cornerstone of Islamic governance and international law. Junaid Jahangir and Syed Salman Raza have committed no infraction against the laws or sovereignty of the United Arab Emirates, yet their families continue to endure profound distress due to external political grievances.
We respectfully appeal to your leadership, adherence to the principles of divine justice, and humanitarian compassion to review their case, hear the plight of their grieving families, and order their release.
#JusticeForJunaidAndSalman #ReleaseJunaidJahangir
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
The Pakistani government has blocked highways to the capital Islamabad and set up container barriers in preparation for a protest by the PTI party, which seeks ex-PM Imran Khan’s release from jail.
Read here: https://t.co/Q2u9ThzrL8
جنید جہانگیر کو بے جرم و خطا دیار غیر میں ظالمانہ اور بےبنیاد قید ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں قانونی طور پر مقیم، برسرِ روزگار اور ایک شاندار مستقبل کے حامل اس ہونہار نوجوان کو بغیر کسی جرم یا قصور کے دو سال سے اندھیری کوٹھیوں میں پاکستان میں موجود فاشسٹ رجیم کے ایما پر رکھا گیا ہے۔
اس دوران نہ صرف اسے دوران تحویل حراساں کیا گیا بلکہ طبی اور دیگر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا۔ بظاہر تو یہ حالات ملک میں موجود حالات سے مختلف نہیں لیکن ہزاروں میل دور پاکستان میں موجود ان کے اہل خانہ سے انہیں اس طرح کاٹ دیا گیا ہے کہ پچھلے دو سال سے انہوں نے اپنے کسی پیارے یا کسی بھی آشنا چہرے کا دیدار تک نہیں کیا۔
ایک ایسا باصلاحیت اور ذہین نوجوان جو پاکستان کا فخر اور اس کا قیمتی اثاثہ بن سکتا تھا، اسے اس بے حسی اور سسٹمک جبر کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ہم متحدہ عرب امارات کی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس انسانیت سوز صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور جنید جہانگیر کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
#JusticeForJunaidAndSalman
#TransnationalRepression
سیکسورٹی فورسز میرے گھر میرے بھائیوں، بھتیجوں کے گھر میں داخل ہو چکی ہے۔ گرانے کے لئے مشینری بھی ہمراہ ہے۔ کوئی ایک جواز دے دیں، گرانے کا۔ پورے پاکستان کو اپنی زمین ڈکلیئر کرو گے؟
اپنے آخری سانس تک نہیں جھکوں گا۔ یہیں بیٹھا ہوں۔ تمہاری دہشتگردی مجھے نہیں جھکا سکتی۔
Two years ago today, on 24 September 2024, Junaid Jahangir @M_Junaidd was detained in UAE at the behest of Pakistani intelligence agencies. He remains in Al Wathba Prison, Abu Dhabi, without access to his family, friends, or lawyers!!
I have known Junaid @M_Junaidd for 15 years, and we were roommates in UAE for nine months. One thing I remember clearly is his “trust in UAE and its rule of law”.
When I left UAE in April 2024, Junaid chose to stay. He had other options, but he believed UAE was a “safe and law-abiding country” where he could focus on his career and can build his future, away from the persecution of PTI supporters by Pakistani intelligence agencies.
That belief in the UAE’s safety and rule of law was one of the reasons he felt secure staying there. But….
Five months later, while returning from Umrah, he was detained at Dubai Airport. For around 8 months, he was held in undisclosed custody before eventually being transferred to Al Wathba Prison in Abu Dhabi, in May 2025.
For two years, none of us, his family, his friends, or his lawyers, has been able to sit across from him or see him. His family waits weeks for a brief and occasional phone call. That short call is their only connection with their son !!
Think about what two years mean to a family: two years of birthdays missed, Eids spent apart, parents growing older waiting to see their son, and every morning waking up with the same unanswered questions !!
Two years later, his family is still waiting for something painfully simple: to see him and hold him again.
We respectfully appeal to the UAE leadership @MohamedBinZayed@HHShkMohd@HamdanMohammed @HHMansour @HHShkDrSultan@LadyVelvet_HFQ and authorities to look into Junaid’s case with compassion and fairness. Two years have already been taken from his life and from his family. Please allow him to return to the people who have been waiting for him every single day.
@UAEmediaoffice@GovernmentUAE@mofauae@moiuae@DubaiPoliceHQ@ADPoliceHQ@MOHRE_UAE@uaeembassyisb@VisitAbuDhabi@mariammalmheiri@hrw@amnesty@AmnestyAR@amnestysasia
#ReleaseJunaidAndSalman #FreeJunaidJahangir #TransnationalRepression
کہتی ہے پنجاب کی ماں ہے
پنجاب میں اس کی پولیس جس کے بارے میں اس نے عوام کو ڈرامہ کیا تھا کہ یہ آپ جناب کرکے بات کیا کریں گے، وہی پولیس کی یونیفارم میں غنڈے بن کر راتوں کو عورتوں کا لحاظ کئے بغیر، پردہ کا لحاظ کئے بغیر کم سن بچوں کو اٹھا رہے ہیں۔
ان کے بارے بات بھی کریں تو عورت کارڈ لے کر رونا دھونا شروع ہوجاتا ہے۔ پنجاب کی ماں نہیں، ڈائن ہے یہ اور اسکو لانے والے آدم خور ہیں۔
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
Shocking revelation by @DropSiteNews: Pakistan’s illegitimate regime has told hospitals to clear bed space for “Mass Casualty Incident” ahead of PTI’s protest on Sunday, September 27th.
#PakistanUnderFascism
My mother, Aleema Khan @Aleema_KhanPK and my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK , remain behind bars.
Their only crime is refusing to abandon their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI throughout his imprisonment — a detention the UN Working Group on Arbitrary Detention found to be arbitrary and in violation of international law, and called for his immediate release.
For three years, they have stood outside prisons and courtrooms, enduring everything from scorching heat exceeding 45°C to near-freezing conditions, demanding justice and the rule of law.
They have endured tear gas, chemical-laced water cannons, repeated arrests and relentless intimidation. Yet no amount of pressure could silence them or force them to step aside. They stood their ground. They refused to abandon their brother.
Since their latest imprisonment, they have been denied access to their family and legal counsel. They spent three years demanding justice for their brother. Now, like him, they find themselves denied the very rights they are fighting for.
Standing by their brother is not a crime.
Raising their voice for him is not a crime.
Demanding justice and the rule of law is not a crime.
Their detention must end.
ایک اور انتہائی اہم وڈیو: اگر آواز نہ اٹھائی تو تم مرو گے!
تم مین ہولز میں گر کر مرو گے
ہسپتالوں میں جل کر مرو گے
غربت سے مرو گے، قرضوں سے مرو گے
لیکن اگر جینا ہے تو آواز بلند کرو!
27 ستمبر ۔ اپنی زندگی اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر نکلو!
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
“The abduction of our family members, including women and children, in the middle of the night, with no reasons given was absolutely disgraceful, and further evidence that this is a fascist regime,” Sulaiman Khan said speaking to @Independent.
"You can arrest families and threaten people with violence. But you cannot imprison 250 million Pakistanis or crush the will of a generation. No regime is more powerful than its people." — Kasim Khan
@Kasim_Khan_1999
پریس ریلیز
پاکستان تحریک انصاف
23 ستمبر 2026
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے وزراء کے گھروں پر چھاپوں اور ایم این اے زبیر خان وزیر کی گرفتاری کی مذمت کرتی ہے
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے دو بیٹھے ہوئے صوبائی وزراء کے رہائش گاہوں پر کیے گئے چھاپوں اور صوبے سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن کی بعد ازاں گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے۔
گزشتہ رات ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے وزیر سید فخر جہاں کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ الگ کارروائی میں پولیس کے ایک بھاری دستے نے بنوں میں آبپاشی کے وزیر ریاض خان کے گھر پر چھاپہ مارا۔
علاوہ ازیں، این اے-42 جنوبی وزیرستان اپر کم جنوبی وزیرستان لوئر سے قومی اسمبلی کے رکن محمد زبیر خان وزیر کے گھر کو کئی گھنٹوں تک نامعلوم افراد نے گھیرے میں رکھا۔ گھر میں موجود خاندان کے افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ ان کے گھر پر دوبارہ پولیس کے بھاری دستے نے چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
عوام کے منتخب نمائندوں کے خلاف یہ اقدامات جمہوری روایات، پارلیمانی استحقاق اور قانون کی حکمرانی پر سنگین حملہ ہیں۔ بیٹھے ہوئے وزراء اور ایک ایم این اے کو نشانہ بنانا اور ان کے خاندانوں کو یرغمال بنانا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستان تحریک انصاف مطالبہ کرتی ہے کہ ان غیر قانونی چھاپوں میں ملوث تمام پولیس افسران کی فوری شناخت کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ صوبائی حکومت کو حقائق معلوم کرنے، ان چھاپوں کے پیچھے کارفرما افراد کو بے نقاب کرنے اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری تشکیل دینی چاہیے۔
متعلقہ حکام کو متاثرہ نمائندوں کے خاندانوں کی حفاظت، وقار اور بہبود فوری طور پر یقینی بنانی چاہیے۔ پی ٹی آئی مزید متعلقہ اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق عمل کریں اور منتخب نمائندوں اور ان کے خاندانوں کے خلاف طاقت اور دھمکیوں کے استعمال سے اجتناب کریں۔
جاری کردہ:
سینٹرل میڈیا ڈپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف
Pakistan already builds its own drones and buys more from China and Turkiye.
So why turn to a year-old US firm backed by two of President Donald Trump's sons, linked to Israel and selling drones to India?
Read more: https://t.co/aJ6IInYmOp
This is what my sons are up against- acid attacks & beatings by goons IN THE UK against outspoken critics of the current Pakistani government / Army. Trial next year.
https://t.co/PY2dvCyXUR
𝗜𝘀 𝗸𝗼 𝗽𝗮𝗸𝗿𝗼, 𝗽𝗵𝗲𝗻𝗸 𝗸𝗲 𝗱𝗮𝗮𝗹𝗼 𝗶𝗻 𝗸𝗼” (𝗚𝗿𝗮𝗯 𝘁𝗵𝗲𝗺 𝗮𝗻𝗱 𝘁𝗵𝗿𝗼𝘄 𝘁𝗵𝗲𝗺 𝗶𝗻)
Details shared by Imran Khan’s family on the arrest of sisters and their kids show gross human rights violations. #AsimLaw is destroying the moral fabric of Pakistan everyday!
- Officers in charge behaved aggressively and were heard instructing their men, “Is ko pakro, phenk ke daalo in ko” (Grab them and throw them in).
- Officers remained inside both family homes for approximately 40 minutes, during which they were loud, insulting, and intimidating, showing little regard for the family’s privacy, dignity, or the sanctity of their homes.
This all happened around 4am.
”وردى صرف اختيار نہیں، اک بھاری ذمہ داری ہے!"
جب طاقت اور اختیار مل جائے تو ضمیر کی آواز سننا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔ ایک باپ کی اپنے بیٹے کو وہ نصیحت جو ہر عہدے دار کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
طاقت عارضی ہے، لیکن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا اور اپنے بچوں کے لیے عزت کی میراث چھوڑنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
اگر کبھی کوئی حکم آئین، قانون، اور آپ کے ضمیر کے خلاف ہو... تو ایک بار ضرور سوچیں: کیا آپ اس کا جواب اللہ کو دے سکیں گے؟
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا