جب پٹرول 145 روپے لیٹر تھا تو اردلی عمران خان سے 70 روپے کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا لیکن خود 321 پر فی لیٹر لیکر گیا۔
یہ ویڈیو ہر زندہ پٹواری تک پہنچا دیں 🖐🏿
جب روس اور یوکرین کی لڑائی ہوئی تو اس سے تیل اور اوپر چلا گیا، میں جب روس گیا تو ہم طے کر کے آ گئے تھے میں نے صدر پیوٹن سے طے کر لیا تھا کہ جس طرح ہندوستان کو سستا تیل دے رہے ہیں ہمیں بھی وہ سستا تیل دے، یہاں واپس آئے تو ہمارا آرمی چیف کہتا کہ نہیں روس کی مذمت کرو کیونکہ انہوں نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے، میں نے اس کو سمجھایا کہ ہندوستان تو مذمت نہیں کر رہا وہ تو امریکہ کا سٹریٹیجک اتحادی ہے ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیئے جیسے ہندوستان رہ رہا ہے، دنیا میں تیل اوپر گیا، پاکستان میں افراطِ زر 12 فیصد تھی ہماری 12 فیصد سے افراطِ زر 30 فیصد پر چلی گئی کیونکہ ہم مہنگا تیل لے رہے تھے تیل کی قیمت اوپر چلی گئی۔ سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان
#ReleaseImranKhan
#FascismUnderAsimLaw
۹ جنوری بروز جمعہ!!!
کراچی، سندھ تیار ہو؟
انشاءاللہ عمران خان صاحب کا پیغام لے کر ہم آرہے ہیں۔ تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی۔ انشاءاللہ
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پ��ھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں��
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیق�� آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہ��ایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
الله أكبر، الله أكبر
الله أكبر، الله أكبر
أشهد أن لا إله إلا ال��ه، أشهد أن لا إله إلا الله
أشهد أن محمدًا رسول الله، أشهد أن محمدًا رسول الله
حي على الصلاة، حي على الصلاة
حي على الفلاح، حي على الفلاح
الله أكبر، الله أكبر
لا إله إلا الله
#مشن_نور_مجھے_ہے_حکمِ_اذان لا إله إلا الله
اسلامُ علیکم پاکستان،
موبائل گم ہُوا تو لگا اپنی غلطی سے کہیں رہ گیا۔ مگر اچانک آدھی رات ایک کے بعد ایک اکاؤنٹ ڈی ایکٹیویٹ ہُوا تو سمجھ لگی کہانی کوئی اور ہی ہے۔ خیر سِم دوبارہ نکلوانی پڑی دوسرا فون لینا پڑا اور اب اللّٰہ اللّٰہ کر کے جی میل اور تمام اکاؤُنٹس ریکور کر لئیے۔
پہلی بات تو یہ کہ میری آواز اکاؤنٹس بند کروا کر نہیں میرا گلا دبا کر ہی بند کی جا سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ جس نے بھی یہ کیا ہے اگلی بار ڈی ایکٹیویٹ نہیں سیدھا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا، میں دوبارہ اپنے اور اپنے لیڈر عمران خان کے نام کے ساتھ واپس آؤں گی اور پہلے سے بڑا اکاؤنٹ بنا کر دکھاؤں گی۔یہ چیلنج ہے۔
میں ٹھیک ہُوں خیریت سے ہُوں محبِ وطن پاکستانیوں۔♥️
پاکستان زندہ باد، عمران خان زندہ باد۔
جب چی گویرا کو ایک چرواہے کی اطلاع پر پکڑا گیا تو کسی نے چرواہے سے پوچھا:
"تم نے اس شخص کے خلاف کیوں اطلاع دی جو تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا تھا؟"
چرواہے نے جواب دیا:
"ان کی بندوق کی ٹک ٹک سے میری بکریاں ڈرتی تھیں!"
اسی طرح جب مصر کے عظیم مجاہد محمد کریم نے فرانسیسی افواج کے خلاف مزاحمت کی اور پکڑے گئے تو نپولین نے انہیں سزائے موت سنائی، مگر بعد میں بلوا کر کہا:
"مجھے افسوس ہے کہ میں تم جیسے بہادر مجاہد کو پھانسی دوں جو اپنے وطن کے لیے لڑا۔ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے ہیروز کے قاتل کے طور پر یاد رکھے۔ میں تمہیں معاف کرتا ہوں، بشرطیکہ تم میرے مارے ہوئے فوجیوں کے عوض دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو۔"
محمد کریم نے جواب دیا:
"میرے پاس اتنی رقم نہیں، لیکن تاجروں پر میرا ایک لاکھ سے زائد سونے کے سکوں کا قرضہ ہے۔"
نپولین نے انہیں مہلت دی کہ وہ رقم وصول کر لیں۔ محمد کریم ہتھکڑیاں پہنے اور فرانسیسی فوجیوں کے بیچ بازار گئے، مگر ان کے اپنے ہی لوگوں نے ان کی مدد نہ کی۔ کسی تاجر نے قرضہ ادا نہ کیا، بلکہ انہیں الٹا اسکندریہ کی تباہی اور معیشت کے گرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ مایوس ہو کر وہ نپولین کے پاس لوٹے، تو اس نے کہا:
"اب میرے پاس تجھے پھانسی دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ نہ صرف اس لیے کہ تم نے ہماری مزاحمت کی، بلکہ اس لیے بھی کہ تم نے اتنے بزدلوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی جو اپنی تجارت کو وطن کی آزادی پر ترجیح دیتے ہیں۔"
اس پر علامہ سید رشید رضا نے کہا تھا:
"جاہل معاشرے کے لیے قربانی دینا ایسے ہے جیسے کوئی اپنے جسم کو جلا کر راستہ روشن کرے، مگر سامنے اندھا کھڑا ہو۔"
پاکستان میں بھی ایک ایسا ہی سر پھرا اپنی قوم کیلئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شیطانی طاقتوں سے ٹکرا گیا مگر قوم اپنی مستی میں مست ہے اور اپنے اس محسن کو بھول بیٹھی ہے۔
اس وقت خان کے قافلے میں کچھ ہی لوگ ہیں جو وفا نبھا رہے ہیں اور جن کا کہنا ہے کہ:
ہٹ کر چلے وہ ہم سے جن کو ہو سر عزیز
ہم سر پھروں کے ساتھ تو کوئی سر پھرا چلے
اللّہ پاک عمران خان اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
آمین
پانچ دن سے قید تنہائی میں عمران خان کو ذہنی اذیت دی جارہی تھی ،اخبار اور ٹی وی بند تھے
تو بیرسٹر گوہر ،عامر ڈوگر اور دیگر فیصلہ ساز کس کے کہنے پر کمیٹی میں شرکت کے لیے نام دے رہے تھے ؟
صاحبزادہ حامد رضا کے علاؤہ کسی کا بیان نہیں آیا کہ وہ نہیں جارہا ،
اس لسٹ میں شامل تمام ناموں کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے
عمران خان نے اینا دا جعلی آپریشن رد کر دتا ہے جس نو بہانہ بنا کے پاکستانیاں دا خون بہایا جائے گا۔
عمران خان کدی وی اپنی قوم دا خون بہان دی اجازت نہی دے سکدا۔
خان سے ملاقات کروانے کی باضابطہ کاروائی اب شروع کی گئی ہے۔
خط بھی لکھا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہی کام پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔
خیر سوشل میڈیا زندہ آباد 🔥