@Radical_Baloch
السلام علیکم
آج میں ایک مجبور شہری کی حیثیت سے گزارش کرتا ہوں۔ میرا تعلق *ضلع خضدار* سے ہے اور *ہم ایک متوسط طبقے کا خاندان ہیں*۔
*گزشتہ دو سال سے ہمارا خاندان میرے بھائی کی بیماری کی وجہ سے شدید متاثر ہے۔*
میرے بھائی *انصاف الحق ولد محمد یعقوب* عمر 37 سال کو 2024 میں *کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں لمفوما کینسر کی تشخیص* ہوئی۔ وہ *5 چھوٹے بچوں کے کفیل* ہیں۔
*ایک تو موذی مرض کینسر خود موت کے مترادف ہے، دوسرا اگر مریض غریب ہو تو اس صوبے میں اس کی پریشانی اور تکلیف مزید کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔*
گزشتہ دو سال سے ہم نے علاج کے لیے اپنی *جمع پونجی، زیور اور جدی پشتی زمینیں فروخت* کر دیں۔ ایک سال تک *کراچی کے نجی ہسپتالوں* میں علاج کروایا لیکن بیماری برقرار ہے اور ہمارے وسائل ختم ہو گئے۔
ہم نے *لاہور شوکت خانم ہسپتال*، *کراچی انڈس ہسپتال* اور دیگر بڑے ہسپتالوں سے رجوع کیا لیکن *کہیں داخلہ نہ مل سکا*۔
*آغا خان ہسپتال کراچی* نے علاج کے لیے *50 لاکھ روپے* کا تخمینہ دیا ہے جو ہماری فیملی کی استطاعت سے مکمل طور پر باہر ہے۔
*بلوچستان میں کینسر کے علاج کے لیے کوئی مکمل فعال اور باقاعدہ سرکاری ہسپتال موجود نہیں ہے*۔ اسی وجہ سے ہمیں مجبوراً صوبے سے باہر جانا پڑتا ہے۔ کوئٹہ سینار ہسپتال میں چند کیمو تھراپی کے بعد مزید علاج کے لیے بھی کراچی ریفر کر دیا گیا۔
ہم نے *بلوچستان عوامی انڈومنٹ فنڈ* سمیت تمام متعلقہ فورمز پر درخواستیں دیں۔ *وزیراعلیٰ بلوچستان کو خصوصی درخواست بھی ارسال کی* لیکن شاید وہ ان تک نہ پہنچ سکی۔ ہماری اعلیٰ حکام تک کوئی رسائی نہیں ہے۔
گزشتہ *4 ماہ سے ہم بے بسی کی حالت میں اپنے مریض کو گھر میں رکھنے پر مجبور ہیں*۔ وہ شدید درد میں مبتلا ہیں۔ *ہمارا پورا خاندان ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہے*۔
اسی *مایوسی اور بے بسی کے عالم* میں آج ہم میڈیا کے ذریعے اپنی فریاد پہنچانے پر مجبور ہوئے ہیں۔
*ہماری دست بدستہ اپیل ہے:*
*وزیراعلیٰ بلوچستان جناب میر سرفراز بگٹی صاحب، وزیر صحت بلوچستان اور سیکریٹری صحت سے گزارش ہے کہ سرکاری سطح پر علاج کی فوری منظوری کا اعلان جاری کر کے ہماری دادرسی فرمائیں۔*
*میرے بھائی انصاف الحق کا علاج سرکاری خرچے پر کراچی آغا خان ہسپتال میں کروایا جائے* تاکہ ایک خاندان اجڑنے سے بچ سکے اور 5 معصوم بچوں کے سر سے باپ کا سایہ قائم رہ سکے۔
*ہم کوئی بڑا مطالبہ نہیں کر رہے کہ ہمارے بھائی کے گھر کا خرچہ برداشت کیا جائے یا ان کے بچوں کی کفالت کی جائے۔*
*ہمارا مطالبہ صرف ایک بنیادی حق ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرے۔*
*میں ایک بے بس، لاچار اور تنگدست بھائی کی حیثیت سے آپ سے اپیل اور درخواست کر رہا ہوں۔*
ہم بلوچستان کے شہری ہیں اور ٹیکس دہندہ بھی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کا سہارا بنے گی۔
صحافی حضرات سے گزارش ہے کہ ہماری آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں مدد فرمائیں۔
*بہت شکریہ*
*سائل: فضل یعقوب ساکن خضدار*
*مریض: انصاف الحق ولد محمد یعقوب*
*تاریخ: 21 اگست 2026*
*رابطہ نمبر: 03333552227*
میرا بھائی *انصاف الحق* ضلع خضدار، 37 سال، *لمفوما کینسر* کا مریض ہے۔
2 سال سے علاج کروا رہے ہیں، سب کچھ بیچ دیا۔
کوئٹہ سینار نے بھی کراچی ریفر کر دیا۔
*آغا خان ہسپتال: 50 لاکھ کا تخمینہ*۔ ہم غریب ہیں۔
بلوچستان میں کینسر کا کوئی سرکاری ہسپتال نہیں۔ ++
A grave human rights emergency is unfolding in Balochistan, Pakistan. Over the past months, the state has intensified its violent crackdown on peaceful Baloch voices through enforced disappearances, extrajudicial killings, and the systematic silencing of civil society.
Innocent civilians, including women and children, have been abducted, tortured, and killed. Peaceful protests are being crushed with tear gas, water cannons, and live ammunition. At least four protesters including a 12-year-old child have been killed since March. Over 200 activists have been arrested, including renowned human rights defenders like Dr. Mahrang Baloch, Sibghatullah Baloch, Beebarg Baloch, Gulzadi Baloch, and Beebow Baloch. Many remain in incommunicado detention, raising serious concerns of torture.
This violence has no justification. Even before the Jaffar Express incident (which the state now falsely uses as a pretext), the Baloch Yekjehti Committee (BYC) had already been facing a sustained campaign of intimidation, threats, and arrests. The state’s repression has only escalated since, aided by a calculated media disinformation campaign designed to link peaceful activism with militancy.
The situation has become so severe that much of Balochistan is under de facto curfew. Roads are sealed with containers and barbed wire. People cannot access hospitals in emergencies. Entire regions are being suffocated into silence.
The international community must not turn a blind eye.
We call on:
@UNHumanRights@amnesty@hrw@CIVICUSalliance@ICRC@UN_SPExperts
and democratic governments across the world to:
•Demand the immediate release of all unlawfully detained individuals
•Investigate enforced disappearances and extrajudicial killings through independent international mechanisms
•Pressure Pakistan to end its campaign of state violence and disinformation
•Protect the rights to freedom of movement, speech, and peaceful assembly in Balochistan
•Recognize this as a humanitarian and human rights emergency
This is not about politics. This is about basic human dignity, justice, and the right to live without fear.
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف کل، بروز اتوار، بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے ہوں گے۔
میں بلوچ عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ کل اپنے گھروں سے نکلیں اور اپنے رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف اس مزاحمتی جدوجہد کا حصہ بنیں۔
سائرہ بلوچ
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
I am humbled to receive this appreciation award from (HRCP).However, I dedicate it to the strong and resilient mothers of Balochistan,who have been suffering from the unbearable pain of their beloved sons' disappearances, yet continue to resist against the injustice
@HRCPakistan
@Naeem_H_Q@GFarooqi آپ لوگ عقل سے پیدل ہیں جناب اسلام آباد تو آئی تھی مگر سننے کے بجائے آپ بے غیرتوں نے انکے ساتھ کیا کیا امریکہ تو جائے گئی آپ لوگوں کے گند بتانے۔