روزانہ مولانا فضل الرحمن کی کردار کشی میڈیا پر ہورہاہے
یہ میڈیا بلوچستان میں سڑکوں پر پڑے ہوئے پولیس شہداء کے لاشوں پر کیوں بات نہیں کر رہا؟مولانا صاحب کے خلاف 42 پریس کانفرنسز اور زیارت شہداء کے بارے میں خاموشی
کیا یہ شہداء کی توہین اور بے توقیری نہیں ہے
نہ کوئی شرم نہ کوئی حیا
ہمیں پرواہ نہیں کہ کتنے بیانات ہمارے خلاف دلوائے جائیں،یہ بیانات جبر کے سائے میں پیدا ہوئے ہیں،ان کی کوئی قدر نہیں،عوام اور تاریخ ہمارے ساتھ ہے،ہم کسی زبردستی کے بیانات کو اپنے مؤقف کے مقابلے میں تولنے کو تیار نہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ محرم صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ہوتا ہے لیکن گستاخیاں صرف پاکستان میں ہوتی ہیں، جہاں باقاعدہ قانون موجود ہے اس کے خلاف لیکن انتشار اور فساد برپا کرنے کیلئے ہر سال صحابہ کی شان میں گستاخیاں کھلے عام ہوتی ہیں، اگر ان کے خلاف کوئ بولے تو FIR ہوجاتی ہے، یہی وجہ ہے ان گستاخوں کی بدمعاشی بڑھ رہی ہے، آئے روز ملک میں فسادی ٹولہ ان کو سپورٹ کرتا ہے، قانونی ادارے ہوش کے ناخن لے اس ڈوبتے سسکتے ملک میں اور انتشار نہ پھیلا جائے۔۔
قومی اسمبلی سے پاس شدہ مبینہ ٹیلی کمیونیکیشن بل۔
مکان خالی کرو ٹاور لگانا ہے ورنہ مکان لیناہے، ساتھ 5 کروڑ روپے جرمانہ لگاناہے۔ قانون کے ذریعے شہریوں کو چھت سے محروم کرنا آئینی اور انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے۔
نیو یارک ٹائمز میں نکولس کرسٹوف نے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کی جنسی درندگی کی تفصیلات بے نقاب کی ہیں اسرائیلی فوجی صرف عورتوں کے ساتھ نہیں مردوں اور بچوں کے ساتھ لوہے کے راڈوں سے جنسی تشدد کرتے ہیں جنسی زیادتی کی فلمیں بناتے ہیں اور 57 مسلمان ممالک خاموش رہتے ہیں 🥲
بی بی سی نے غزہ میں 160 سے زائد فلسطینی بچوں کو جان بوجھ کر سر میں گولی مارنے کے شواہد جمع کیے ہیں۔ انہوں نے بدترین نتیجہ اخذ کیا:
“اسرائیلی یہودی تفریح کے لیے بچوں کا شکار کر رہے ہیں۔
غزہ کا ایک اور پھول بچہ غاصب مجرم صہیونی درندوں کے ہاتھوں شہید کردیا گیا
نام نہاد جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ظالم فلسطینی بچوں کو روز شہید کررہے ہیں۔
اسی لیے آج دنیا کا ہر انسان کہتا ہے کہ دنیا میں فساد دہشت گردی کی اصل جڑ اسرائیلی صہیونی ہیں