اگر آپ فیروزپور روڈ کے ذریعے لاہور میں داخل ہوں، یعنی صوبے کے دارالحکومت میں قدم رکھیں، تو سب سے پہلے جس حلقے سے آپ گزرتے ہیں وہ شاید وزیراعلیٰ پنجاب کا حلقہ ہے۔
عام طور پر کسی بھی شہر کا داخلی راستہ اس کا پہلا تاثر دیتا ہے، لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ گزشتہ تقریباً دو سال سے معلوم نہیں کون سا تعمیراتی کام جاری ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ آپ کو کہیں سے بھی محسوس نہیں ہوگا کہ آپ لاہور جیسے بڑے شہر میں داخل ہو رہے ہیں۔
میں خود گزشتہ دو سال سے یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ جب بھی کلمہ چوک انٹرچینج سے اتر کر فیروزپور روڈ پر آتا ہوں تو ٹوٹ پھوٹ، گردوغبار اور بدنظمی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جگہ جگہ بدنظمی، ادھورے کام اور آگے میٹرو کا بے ہنگم غیر منظم رش۔ ٹریفک کی نگرانی کے لیے بھی شاذ و نادر ہی کوئی وارڈن نظر آتا ہے۔
یہ صورتحال نشتر چوک تک تقریباً مسلسل برقرار رہتی ہے، جو لاہور کے داخلی راستے کے لیے کسی طور مناسب نہیں لگتی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ شاید آپ تک یہ بات نہ پہنچتی ہو، لیکن براہِ کرم دو سال سے جاری اس تعمیراتی کام کو جلد مکمل کروائیں تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو اور لاہور کا داخلی راستہ بھی ایک منظم اور خوبصورت شہر کی عکاسی کر سکے۔
میری بہن اپنے بچوں کو صرف ایک گھنٹے کیلئے میرے پاس چھوڑ کر گئی پانچ گھنٹے بعد واپس آئی تو اُس کے بچے خوش تھے مگر وہ ناراض ہوگئ
میری بہن مجھ سے بڑی ہے
اور سچ کہوں تو میں نے ہمیشہ اُس کا ساتھ دیا ہے
بچوں کو اسکول سے لینا ہو ہسپتال جانا ہو
اچانک کوئی کام نکل آئے میں موجود ہوتا ہوں
شاید اسی لیے اُس دن بھی جب اُس نے کہا بس ایک گھنٹہ میں ابھی آتی ہوں
تو میں نے فوراً ہاں کر دی
حالانکہ میری اپنی بھی ایک اہم ملاقات تھی
میں نے صرف اتنا کہا ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں
اُس نے وعدہ کیا بالکل نہیں
مگر جاتے وقت ایک بات عجیب لگی
وہ اور اُس کے شوہر دونوں ایسے تیار تھے جیسے کسی شادی میں جا رہے ہوں
میں نے پھر بھی کچھ نہیں پوچھا
گھنٹہ گزر گیا پھر دوسرا
میں نے فون کیا کوئی جواب نہیں
پھر پیغام بھیجا خاموشی
میں نے اپنی ملاقات منسوخ کر دی
اور اُسی لمحے میرے اندر کچھ بدل گیا
میں نے بچوں کی نگرانی کرنا بند نہیں کی
مگر اُن کے والدین کی ذمہ داری اٹھانا بند کر دی
بارہ سالہ بھانجا فلم دیکھنا چاہتا تھا میں نے کہا دیکھ لو
دوسرا گیم کھیلنا چاہتا تھا کھیل لو
چھوٹا والا دیوار پر رنگ بھرنے لگا
میں نے صرف اتنا دیکھا کہ رنگ خود پر نہ گرائے بس
کیونکہ میں babysitter نہیں تھا
میں ایک دھوکے کھایا ہوا آدمی تھا جسے ایک گھنٹے کے نام پر پوری رات سونپ دی گئی تھی
رات ایک بجے دروازہ کھلا
میری بہن اندر آئی خوش ہنستی ہوئی
بالکل ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
پھر اُس کی نظر دیوار پر گئی پھر ٹی وی پر
پھر جاگتے ہوئے بچوں پر اور پھر مجھ پر۔
یہ کیا حال بنا رکھا ہے؟ میں نے پرس اٹھایا جیکٹ پہنی
اور پہلی بار بہت سکون سے جواب دیا
سب زندہ ہیں نا؟
وہ غصے سے لال ہو گئی تم ذمہ دار ہو
میں دروازے کی طرف بڑھ گیا "نہیں۔
میں ایک گھنٹے کیلئے ذمہ دار تھا
باقی چار گھنٹے تم تھیں
اگلے دن خاندان کے کئی فون آئے
کسی کو دیوار کی فکر تھی کسی کو اسکرین ٹائم کی
کسی کو بچوں کے سونے کے وقت کی
عجیب بات یہ تھی
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پانچ گھنٹے بعد آنے والوں کی ذمہ داری کہاں گئی تھی
قسم سے
بعض اوقات مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ لوگ آپ سے مدد مانگتے ہیں
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آپ کی محبت کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں
اور جب آپ حد کھینچتے ہیں
تو اُنہیں آپ ظالم لگنے لگتے ہیں
اُس رات بچوں نے شاید اپنی زندگی کی سب سے مزے کی شام گزاری تھی
اور میں نے اپنی زندگی کا ایک اہم سبق سیکھ لیا تھا
جو لوگ آپ کے وقت کی قدر نہیں کرتے
وہ آہستہ آہستہ آپ کی زندگی کی بھی قدر کرنا چھوڑ دیتے ہیں
عاقب ،یاسر، عاصم یثرب وہ مجاہد ہیں جو ساری رات کرور جنگہ میں لگی آگ بجھاتے رہے ۔ حکومت پنجاب کا کوئی عملہ مدد کو نہ آیا نہ آگ بجھانے ۔ پورا جنگل جل گیا ہے ۔ ایسے فروغ دیا جا رہا ہے کوٹلی ستیاں میں سیاحت کو 😭😭