Two Pakistan Navy personnel were killed in an armed attack in Ormarah, Gwadar district. The deceased personnel have been identified as Shoaib-ur-Rehman (PMA-IV) and Ghufran (PMT-II).
My Land
My Homeland
From your sacred soil to every grain of dust,
From the mountains to the valleys,
From the trees to the forests,
From the sea to its waves—
I would sacrifice myself for every inch of you.
You are my existence.
If you are, I am.
Without you, I am nothing.
Mahir and Jamsher, two alumni of Uthal University, were forcibly disappeared from Aapsar Turbat last night (Sep 8) by security forces from their home. Despite continuous degradation of the EDs, the forces continue to arrest and disappear Baloch youths. How bright minds but caged.
بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں قومی آزادی و دفاعِ وطن میں شہید ہونے والے ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی جنگِ آزادی میں قوم اور وطن کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے ساتھی سرمچاروں شہید کپٹن اختر داؤد، خلیل احمد، عمران آجو، حاصل، عنایت اللہ، اسد رحیم، مجیب الرحمان، ساحل ارمان، جاوید اور محمد یونس کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید ساتھیوں نے خون کے آخری قطرے تک قومی جدوجہد سے منسلک رہتے ہوئے اپنا قومی فرض ادا کیا اور دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ بلوچ قوم اپنی قومی آزادی، بقا اور شناخت کے لیے بغیر کسی سمجھوتے کے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
#SangarNews #dailysangar #Balochistan #PakistanArmy #BalochWarriors #BLF
https://t.co/tMC1XLV4Ci
صوبوں کی تقسیم خصوصاً بلوچستان کو تقسیم کرنے کی تجویز پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان ہمارا دل، جان، عزت اور فخر ہے۔ شاید ان کی طرف سے واضح پیغام یہی ہے: بلوچستان کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں۔۔۔
The #Pakistan Army claims that three militants were killed in an intelligence-based operation (IBO) in Patak, #Washuk. Meanwhile, local sources reported clashes after #Baloch militants allegedly blocked the CPEC highway in #Basima.
گزشتہ روز آواران کے علاقے پیراندر میں پاکستانی فورسز پر حملے کے بعد گزشتہ شب ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس دوران بزرگ خواتین اور بچوں سمیت دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ خواتین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی
بلوچستان کی مٹی آج پھر خون سے رنگین ہے۔
مردوں کے بعد اب عورتوں کی لاشیں بھی تشدد کی کہانی سناتی ہیں
آنکھیں نکال دی گئیں، جسم زخموں سے بھرا ہوا۔
یہ ظلم صرف جسموں پر نہیں، ایک پوری قوم کے دل پر ہے۔
کتنی ماؤں کی آہیں، کتنی بیٹیوں کی خاموشیاں اب قبروں میں دفن ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔