بریکنگ نیوز
سوراب کے علاقے گدر میں گریڈ اسٹیشن کے قریب ایف سی کے قافلے پر حملہ۔
اطلاعات کے مطابق آج شام چھ بجے کے قریب ایف سی کے قافلے کو سوراب کے علاقے گدر میں اس وقت حملے کا سامنا کرنا پڑا جب قافلہ گریڈ اسٹیشن کے قریب سے گُزر رہا تھا۔
علاقائی زرائع کے مطابق
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے خاران اور واشک اضلاع میں 6 اور 7 ستمبر کو سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 11 مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ بیان کے مطابق واشک میں 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
#بریکنگ_نیوز
پنجاب کے ضلع تلہ گنگ (گاؤں پیڑا جانگلہ) کے رہائشی، پاک نیوی کے اہلکار شعیب الرحمٰن بلوچستان گوادر کے علاقے اورماڑہ میں مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف ) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں قومی آزادی و دفاعِ وطن میں شہید ہونے والے ساتھیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ قومی جنگِ آزادی میں قوم اور وطن کے دفاع کے لیے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اپنے ساتھی سرمچاروں شہید کپٹن اختر داؤد، خلیل احمد، عمران آجو، حاصل، عنایت اللہ، اسد رحیم، مجیب الرحمان، ساحل ارمان، جاوید اور محمد یونس کو سرخ سلام پیش کرتی ہے۔ شہید ساتھیوں نے خون کے آخری قطرے تک قومی جدوجہد سے منسلک رہتے ہوئے اپنا قومی فرض ادا کیا اور دشمن کو یہ واضح پیغام دیا کہ بلوچ قوم اپنی قومی آزادی، بقا اور شناخت کے لیے بغیر کسی سمجھوتے کے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔
#SangarNews #dailysangar #Balochistan #PakistanArmy #BalochWarriors #BLF
https://t.co/tMC1XLV4Ci
سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو مسلسل اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔ ڈاکٹر نسیم بلوچ
بلوچ نیشنل موومنٹ ( بی این ایم ) کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق وائس چیئرمین ڈاکٹر خدابخش بلوچ کے خاندان کو برسوں سے منظم اور مسلسل اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بڑے بھائی قادر بخش بلوچ کو تیسری مرتبہ جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔ یہ محض ایک شخص کا اغوا نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کو توڑنے، خوف زدہ کرنے اور خاموش کرانے کے لیے بار بار دہرایا جانے والا ریاستی جرم ہے۔
انھوں نے کہا کہ قادر بخش بلوچ اور ان کے بیٹوں کو ایک طویل عرصے سے پاکستانی ریاست کے ناقابلِ بیان ظلم و اذیت کا سامنا ہے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ خاندان کے سربراہ قادر بخش بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل انھیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر عقوبت خانوں میں منتقل کیا، جہاں انھیں شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد رہا کیا گیا۔ لیکن ان کی رہائی بھی آزادی نہ تھی؛ انھیں مسلسل خوف، نگرانی اور دوبارہ اٹھائے جانے کے سائے میں زندہ رہنے پر مجبور رکھا گیا۔ آج ایک مرتبہ پھر قادر بخش بلوچ کو ان کے گھر، خاندان اور زندگی سے چھین لیا گیا ہے—اور ان کے پیچھے رہ جانے والے اہلِ خانہ کو ہر لمحہ اس اندیشے کے ساتھ زندہ رہنا پڑ رہا ہے کہ معلوم نہیں ان کا پیارا کس عقوبت خانے میں، کس حال میں اور کس اذیت سے گزر رہا ہوگا۔
ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے اجتماعی سزا کو بلوچ قومی و سماجی زندگی پر مسلط ایک مستقل عذاب بنا دیا ہے۔ بلوچ وطن کے طول و عرض میں اب شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کسی گھر ، محلے پر حملہ نہ ہو، کسی ماں کی گود نہ اجاڑی جائے، کسی بچے سے اس کا باپ اور کسی بہن سے اس کا بھائی نہ چھینا جائے۔ بلوچستان میں اب ایسے خاندان انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو ریاستی جبر، جبری گمشدگی، تشدد، فوجی یلغار کی اذیت سے محفوظ رہے ہوں۔ یہاں انسان صرف لاپتہ نہیں کیے جاتے، ان کے ساتھ پورے خاندانوں کی نیند، سکون، مستقبل اور زندگی چھین لیا جاتا ہے۔ مائیں برسوں دروازوں کی آہٹ پر چونکتی ہیں، بچے اپنے باپ کے انتظار میں جوان ہوجاتے ہیں اور خاندان اپنے پیاروں کی موت و زیست کے درمیان معلق روزانہ موت جیسی کربناک تجربات سے گزر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بلوچ قوم جبر، تشدد اور ریاستی دہشت گردی کے ان تمام مرحلوں سے حوصلے کے ساتھ ضرور گزرے گی لیکن جو لوگ پاکستانی نوآبادیاتی درندگی کے ظالمانہ نظام کا کسی بھی سطح پر حصہ ہیں، جو سامنے یا پسِ پردہ ریاستی جرائم میں معاونت کر رہے ہیں اور جو قومی سیاست کے دعویدار ہونے کے باوجود بلوچ گھروں سے اٹھتی چیخوں پر خاموش ہیں، وہ تاریخ اور بلوچ قوم کے احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔ ریاستی طاقت انھیں وقتی تحفظ، عہدے اور مراعات تو دے سکتی ہے مگر بلوچ سماج کی یادداشت سے ان کے کردار کو مٹا نہیں سکتی۔ جس دن بلوچ قوم نے انھیں اجتماعی طور پر مسترد کردیا، اس دن ان کے پاس اپنے کردار، اپنی خاموشی اور اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے روئے زمین پر کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔
🚨 #کیچ: ہوت آباد میں نامعلوم حملہ آوروں نے مبینہ طور پر ایک گھر پر دستی بموں اور فائرنگ سے حملہ کیا، جس سے مویشی ہلاک ہوئے جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مقامی ذرائع نے اس واقعے میں ڈیتھ اسکواڈ کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ علاقے میں مبینہ فوجی آپریشن جاری ہے۔
کیچ: خِیرآباد کے قریب مسلح افراد نے تمپ کے اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی کو مبینہ طور پر روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ گاڑی تمپ سے تربت جا رہی تھی۔ ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کو مبینہ طور پر حراست میں لے لیا گیا، جبکہ الگ گاڑی میں سفر کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر محفوظ رہے۔
چاغی کے علاقے برابچہ میں بلوچ سرمچاروں کا پولیس تھانے پر حملہ، اسلحہ ضبط
اطلاعات کے مطابق کل رات گئے بلوچ سرمچاروں نے چاغی کے علاقے برابچہ میں پولیس تھانے کا کنٹرول حاصل کرکے پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا۔
۔
BNP central leader Advocate Sajid Tareen (@SajidTareen4) criticized the issuance of Quetta local certificate to former federal minister @fawadchaudhry’s family, calling it a violation of Balochistan citizens’ rights and an example of an alleged fake domicile network.
#پنجگور: پروم میں پاکستانی فورسز کے لیے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو مسلح افراد نے مبینہ طور پر نذرِ آتش کر دیا، جبکہ ایک اور گاڑی مبینہ طور پر اپنی تحویل میں لے لی۔ دریں اثنا، چیدگی ماشکیل کور میں فورسز کی جانب سے نصب جاسوس کیمروں کو بھی مسلح افراد نے مبینہ طور پر تباہ کر دیا۔
بلوچستان کے ضلع خضدار سے اطلاعات ہیں کہ بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے سابق وائس چیئرمین کے بھائی کو پاکستانی فوج کے کیمپ کے قریب سے ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔