کسی پاکستانی رپورٹرز کو اسکی اجازت نہیں کی وہ یہ دیکھا سکے کہ 11 دن کا شٹ ڈاؤن مقامی معیشت اور مقامی معاش کو کیسے تباہ کر رہا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا پاکستانیوں کے کاروبار تباہ ہونے پر چیخ اٹھا
سارا پاکستان سود خور ہوگیا۔
2023 سے 2025 تک بینکوں کا سرمایہ 21 ٹریلین سے 37 ٹریلین ہوگیا
پاکستانی بینک میں پیسے رکھتے ہیں اس پر سود کھاتے ہیں کیونکہ اس میں فائلر نان فائلر نہیں۔بینک وہ پیسے حکومت کو سود پر دیتا۔
اس طرح کبھی اکانومی نہیں بڑھتی ۔
وہی خان کا فارمولہ بتایا جارہا کہ صرف گھروں سے ہی پاکستان کی اکانومی میں 60 بلین ڈالر کا اضافہ ہوتا۔
وہ مشکل کردیا گیا کیونکہ پھر ڈی ایچ اے وغیرہ کی ویلیو وہ نہیں رہنی۔
احسن اقبال آپ کی ساری زندگی جھوٹ پر مبنی ہے۔ میں نے وقت لیا آپ کو جواب دینے میں۔ کچھ لحاظ کے تقاضے تھے۔ مگر اب جواب دے رہا ہوں۔ نواز شریف کی جس ترقی کے سفر کا ڈھول آپ پیٹ رہے ہیں اس نے ملک کو تباہ کر دیا۔ آج پاکستان اس قرضوں کے جال میں ان کی غلط پالیسی اور آپ جیسے پلاننگ کے مشیروں کی وجہ پھنسا ہوا ہے۔ دو پراجیکٹ جس کے لیے وہ کریڈٹ مانگتے ہیں وہ پاکستان کا ناسور تھے۔ پہلا لوڈ شیڈنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلے نوے کی دہائ اور پھر اپنی تیسری گورنمنٹ (2014-15) میں کیے آئ پی پی کے کرپٹ معاہدے تھے۔ اس میں ریاست کا مفاد نہی دیکھا گیا اور ان سیٹھوں کو جو یا رشتہ دار تھے یا پارٹنر نوازا گیا۔ اب بھی ہم ان کو دو ہزار ارب سالانہ سے زیادہ منافع دے رہے ہیں چاہے وہ اک یونٹ بھی بجلی نہ بنائیں۔ چھیالیس ہزار میگا واٹ بجلی کی کہیسیٹی ہے مگر پچیس بھی نہی بنا پا رہے۔ اس جرم کا کون زمہ دار ہے۔ دوسرا جو سڑکوں کا جال بنانے کا تمغہ لیا جاتا ہے۔ مودی نے اسی ہزار کلومیٹر سڑکیں بھارت میں بنائیں مگر اپنے پیسے سے۔ ہم نے اس کے مقابلے بہت کم بنایا مگر ڈالر کے قرضے میں۔ میں مال بنانے کا الزام نہی لگا رہا مگر ملک اس وقت ان دو بڑے پراجیکٹ کی وجہ سے قرضے کے جال میں پھنسا ہے۔ ہمارا ڈیبٹ یعنی قرضہ بحران جس سے ہمارا کرنٹ اکائونٹ، تجارتی اور بجٹ خسارے جنم لیتے ہیں۔ یہ کہنا کہ موقع نہی ملا۔ کتنا موقع چاہیے۔ پچھلے چار سال سے پورا موقع تھا۔ نہ عدالت نہ اپوزیشن نہ پارلیمان نہ میڈیا۔ ایسا موقع تو آمریت میں نہی ملا۔ کیا کیا آپ نے۔ قرضے چتالیس ہزار ارب سے اسی ہزار ارب تک ہو گئے۔ پاکستان کی تاریخ چھوڑیں مونجھوداڑو کے زمانے سے پنتالیس فیصد غربت پانچ دریاؤں کے دھرتی میں نہی دیکھی گئ۔ بائیس فیصد بیروزگاری۔ پچاس سال میں پہلی دفعہ ساری بڑی فصلوں میں گراوٹ۔ اس پر بھی آپ شرمندہ نہی بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہمیں موقعہ نہی ملا۔ اگر میرے کسی خیال سے اختلاف ہو تو میں کئ دفعہ آپ کو ٹی وی پر بلا چکا کہ مجھے غلط ثابت کر لیں۔ محظ پراپیگنڈا نہ کریں۔ مزید جواب پر میں پھر حاظر ہوں۔ اب اس جواب کو کتنا تھراٹل کروائیں گیں۔
مفتاح اسماعیل کا انکشاف اور حساب کتاب:
امارات سے حساب کتاب کا وقت آ گیا:
متحدہ عرب امارات نے پی ٹی سی ایل کے اکاؤنٹ میں پاکستان کے 800 ملین ڈالر 2006 سے دینے ہیں۔اس پر منافع جمع کیا جائے تو اسے لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں ۔یہ پی ٹی سی ایل کی فروخت کی بقایا رقم ہے۔۔کیا ہمارے حکمران و منسٹری آف آئی ٹی اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اگر معاملات سیٹل نہیں کر سکی تو یہ غفلت کی انتہا ھے-
راجاسعد نے اس پہ کیلکولیشن کی ھے 6.5 فیصد شرح سود کے حساب سے- یہ رقم بڑھ کر اب 2800 ملئین یعنی 2 ارب 800 ملئین ڈالرز بنتی ھے- یعنی 2 ارب ڈالرز کا منافع:
پاکستان اپنی رقم کاٹ کے باقی پیسے دے دے:
مفتاع کی بات پہنچ گئی ہو گی لیکن عوامی مطالبہ بنانے کے لیے اس پوسٹ کو شییر کریں- اتنا ذیادہ کہ بات متعلقہ محکمے تک پہنچ جائے-
@CMShehbaz@MIshaqDar50@MohsinnaqviC42@alimdar82@PTCLOfficial@StateBank_Pak@FinancialTimes
بریکینگ نیوز 🚨
تباہی آرٹیکل 🔥
یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹربیون سے جرنیلوں نے ڈیلیٹ کروا دیا اِس کا اردو ترجمہ🔥👏
اسکو پھیلائیں 🛑 🛑🛑🛑
Title: It is over
Author: ZORAIN NIZAMANI
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔
یہ پرانا ہو چکا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس آصف سے سوال ۔ جج صاحب کیا روز محشر صلح ہوگی ؟ منکر نکیر سے صلح ہو گی ؟ یہاں سی سی ٹی وی فوٹیج غائب ہو گئی کیا وہاں منکر نکیر کا رجسٹر دھویا جا سکے گا؟ کیا میدان حشر میں آپ کا جسٹس ہونا کام آئے گا ؟ کیا وہاں اسلام آباد پولیس ہوگی جو سب کو روک لے ؟ کیا وہاں ابو ذر کو منکی کیپ پہنا کر چھپا سکیں گے؟ کیا ابو ذر کو کسٹڈی میں یہاں دی جانے والی سہولتیں وہاں بھی مل سکیں گی؟ کیا وہاں قانون توڑنے کا حساب نہیں ہوگا ؟ یہاں تو انڈر ایج ڈرائیونگ ، قتل سب دب گیا وہاں کیا ہوگا ؟