ڈنمارک میں پیٹرول بحران سے سائیکل کلچر آیا
ڈنمارک میں 1960 کی دہائی میں انڈسٹریل ریولوشن کے بعد خوشحالی آئی تو سب نے گاڑیاں خرید لیں شہر سے سائیکل لین ختم کرنے کا سوچا جا رہا تھا مگر پھر 1973 کے عالمی تیل بحران عرب تیل پابندی نے صورتحال بدل دی تیل کی قیمتیں چند دنوں میں چار گنا بڑھ گئیں۔ ڈنمارک اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 80 فیصد درآمدی تیل پر منحصر تھا۔ حکومت نے پٹرول کی قلت کی وجہ سے اتوار کو کار فری دن (car-free Sundays) نافذ کیے اور پٹرول راشننگ کی اور لوگوں نے سائیکل چلانے شروع کئے اور اس کے بعد یہ اس قدر مقبول ہوا کہ اب ڈنمارک دنیا میں سائیکل کلچر کے لئے مشہور ہے کوپن ہیگن میں ساڑھے چھ لاکھ آبادی کے شہر میں ساڑھے سات لاکھ سائیکل ہے اور شہر کی آدھی تعداد کام پر سائیکل پر ہی جاتے ہیں
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا
اطہر من اللہ صاحب بتا رہے ہیں کہ جی ایچ کیو نے شکایت کے ازالے کیلئے جب پہلی دفعہ قانونی راستہ اختیار کیا (ایمان مزاری نے جنرل باجوہ بارے غلط زبان استعمال کی اور جی ایچ کیو نے ایف آئی آر کرا دی) تو انہوں نے بحیثیت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ غیر قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے جی ایچ کیو کا قانونی راستہ روک دیا (ایمان کی ایک ہزار مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لیا جس کا موصوف کے پاس اختیار نہیں تھا)، دوسرے الفاظ میں جی ایچ کیو کو یہ سبق پڑھایا کہ آپ غیر قانونی ہتھکنڈوں پر واپس چلے جائیں قانون کیطرف آئینگے تو ہمیں آگے بیٹھا پائینگے
اگر سندھ اسمبلی سندھ کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانے سے انکار کرتی ہے، تو یہی اصول پنجاب پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ کسی ایک صوبے کو تقسیم کیا جائے اور دوسرا اس سے مستثنیٰ رہے، یہ درست نہیں۔ جو بھی ازسرِ نو تشکیل کی جائے، وہ یکساں انداز میں کی جائے، نہ کہ صرف پنجاب کو تجربہ گاہ بنایا جائے، کیونکہ یہ ریاست کے وسیع تر مفاد میں نہیں۔ ہر فیصلہ تمام صوبوں کی حقیقی سیاسی مفاہمت سے ہونا چاہیے۔
@AzazSyed سارے وزیر اعظم ہی کمزور تھے لیکن اپنے منہ سے دو ہی بندوں نے مانا ہے ایک نواز شریف مجھے کیوں نکالا اور دوسرا عمران خان کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں تھاا باجوہ سپر کنگ تھا۔ لیکن ان دونوں کے بعد کمزوری کو بام عروج پہ پہنچا دیا ہے شہباز شریف نے
@wolf_ofvalor@AthSal01 سب کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر آج اپنی دوکانداری کے لیے کوئی عبدالقادر جیلانی یا علی ہجویری کے جعلی واقعات سناتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ بزرگ نہیں۔ باقی یہ ذکر اس وقت کے علماء کا ہی کر رہے تھے
@inayatafridi093@AbdulWasey_IYW بہت بڑی انویسٹمنٹ ہوتی یے مائننگ میں تب جا کے کچھ نکلتا ہے۔ مقامی بندے اور ویاں کے مشران وہاں کے لوگوں کے باعزت روزگار کا زریعہ بن سکتے ہیں پر افسوس سے۔ کہنا پڑتا ہے کہ جو لوگ وہاں روزگار مہیا کرنا چاہتے ہیں ان کو یہ مقامی لوگ لوٹنا چاہتے ہیں
@inayatafridi093@AbdulWasey_IYW مشران نے قوم کمیشن اور رائلٹی کے نام پہ ٹھیک ٹھاک پیسے لیے ہوئے ہوتے ہیں وہاں سے ایک پتھر بھی پیسے دئیے بغیر کوئی نہیں لے کے جا سکتا
@CSMR786 اب تو یہ لگتا ہے کہ کاش کینگرو کی طرح تھیلی ہو جس میں بندہ بچے کو ڈالے رکھے۔ کس معاشرے میں جی رہے ہیں کس سطح کی یہ ہوس ہے کہ ان معصوموں پہ جن پہ صرف لاڈ پیار آ سکتا ہے ان پہ بھی یہ درندے جنسی حملے کرتے ہیں۔ کس کس سے بچوں کو بچایا جائے
@HamidMirPAK مطلب جو جماعت کالعدم قرار دی گئی اور جو پاکستان مخالف نعرے لگا رہی ہے۔ یہ نام نہاد صحافی اس کے حق میں نعرے مار رہا ہے تو پولیس کو کیا کرنا چاہیے؟
@Afsaral19225093@fawadchaudhry ساری تحریک چلی ہی بنگال پنجاب اور سندھ میں تھی۔ کہیں اور جلیانوالہ باغ جیسا واقعہ ہوا یے؟ آپ صرف یی پتہ کرائیں کہ گوروں نے آخری قبضہ برصغیر میں کس جگہ اور کس ریاست پہ کیا اور پنجاب کے ساتھ کتنی لڑائیاں ہوئیں۔ صرف پنجاب میں چوہدری نہیں بنے ہر جگہ ہی وطن فروش خان وڈیرے جاگیردار بن
@chsandhilaa بالکل جہاں دین اسلام میں حکومت کی زمہ داریوں کا ذکر ہے وہاں پڑوسیوں کے حقوق کا بھی ذکر ہے۔ مجھ سمیت اکثریت اس بات کو بھول چکی ہے کہ ہم نے اپنے اعمال کا جوابدہ ہونا ہے نا کہ دوسروں کے۔
@Wabbasi007 کیا آئینی طور پر کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ اظہار یکجہتی یا سپورٹ کے لیے جایا جا سکتا ہے؟ یہ ساری کوشش ان مظاہرین کے بتدریج ناکام ہوتے احتجاج کو نئی توانائی دینے جا رہے ہیں۔ پاکستان کی بد قسمتی دیکھیں کہ اپوزیشن لیڈر کون ہیں ایک افغانستان کا ہمدرش ایک ایران کا۔
بی بی سی یہ نہی بتائے گا اس دور میں برطانیہ میں بھی ملکہ یہی کام کرتی تھی ایلزبتھ آف یارک (Elizabeth of York)، جو ہنری VII کی ملکہ تھیں اور ایک برطانوی بادشاہ کی ماں وہ ساتواں بچہ پیدا کرتے ہلاک ہوئی تھی برطانیہ کی ایک اور ملکہ کوئین اینی کے اٹھارہ حمل تھے وہ بھی زچگی کی پیچیدگی اور انفیکشن سے ہلاک ہوئی تھی
یہ اس زمانے کا چلن تھا مشہور برطانوی ملکہ وکٹوریا کے پورے نو بچے تھے جو پھر پورے یورپ کے شاہی خاندانوں میں بیاہنے ہوئے اس لیے اسے گاڈ مدد آف یورپ کا ٹائٹل دیتے
بی بی سی کبھی یہ سب نہی لکھے گا