رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
ڈنمارک کی پیٹرول کی قیمتیں پاکستانی روپے میں لکھنے والے درباری یہ بھی بتائیں کہ ڈنمارک میں سکول ، کالج کے علاوہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل مفت ہے اور ساتھ یونیورسٹی جانے والے ہر بچے کو ڈنمارک ایک ہزار ڈالر خرچہ بھی دیتا ہے یہ 2لاکھ 80ہزار پاکستانی روپے بنتے
کل جمعہ ہے!
نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جس نے جمعہ کے دن سورت یٰس اور والصافات پڑھی اور پھر اللہ سے کوئی چیز مانگی تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عنایت فرمائے گا۔
مشکوٰۃ المصابیح
فضائل قرآن کا بیان
حدیث نمبر 2200
#جمعہ#یس#صافات#فضائل
رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا :-
” اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے ، تو جھٹ وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔“
(صحیح بخاری،۳۲۹۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ( مصیبت کے وقت ) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔
(صحیح بخاری،۳۵۱۹)
سوال
اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے آیتِ کریمہ دن میں کتنی بار پڑھنی چاہیے؟ اور پورا وظیفہ کتنا ہے؟ اور کتنے دن میں پورا کر سکتے ہیں؟
جواب
حدیث شریف میں ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں جو دعا مانگی”لا إِلٰهَ إِلاَّ أنتَ سُبحانَک إني کنتُ مِنَ الظَّالمِین“ کوئی بھی مسلمان کسی بھی چیز کے لیے اللہ تعالیٰ سے اس دعا کے ذریعے دعا کرے تو اللہ پاک اس کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔ تاہم آیتِ کریمہ کے وظیفے کے لیے کسی روایت میں کوئی خاص تعداد مقرر نہیں کی گئی، بزرگوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف حاجات کے لیے مختلف تعداد بیان کی ہے، لہٰذا ایک مجلس میں 111 مرتبہ بھی پڑھ سکتے ہیں، اور بعض بزرگوں نے مشکلات کے حل اور دعا کی قبولیت کے لیے رات کی تاریکی اور حجرے کی تنہائی میں 313 مرتبہ یہ آیتِ کریمہ پڑھ کر دعا کرنے کو مجرب کہا ہے۔ اور اگر لمبا وظیفہ کرنا ہو تو ستر ہزار یا سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ مرتبہ پڑھ لیں۔ اس صورت میں ضروری نہیں کہ ایک شخص ایک ہی مجلس میں پڑھے، مختلف لوگ مختلف مجالس میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
”عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه عن النبي صلی الله علیه وسلم قال: دعوة ذي النون إذ هو في بطن الحوت ”لا إِلٰهَ إِلاَّ أنتَ سُبحانَک إني کنتُ مِنَ الظَّالمِین“ لم یدع بها مسلم ربه في شيء قط إلا استجاب له"․ (روح المعاني، ۹/۸۱، دار الکتاب، بیروت)فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144010200397
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ دنیوی چیزوں میں سے بیوی اور خوشبو مجھے بہت پسند ہیں ۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے ۔‘‘
(سنن نسائی : 3391)
جب لوگ سونے چاندی کے ذخائر جمع کرنے میں مصروف ہوں تو تم (دنیا پرستی کے بجائے) ان کلمات کو ذخیرہ کرنا، یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے رہنا ۔۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس دعا کے ہر جملہ کو ایک خزانہ قرار دیا ہے۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
حضرت علی ؓ نے خبر دی کہ:
نبی کریم ﷺ نے اُنہیں حکم دیا تھا کہ:
1) آپ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں،
2) اور یہ کہ آپ ﷺ کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز، گوشت، چمڑے، اور جھول خیرات کر دیں،
3) اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں.
بخاری 1717
(بخاری 1716؛ مسلم 3180، 3183)
قالَ النبی ﷺ:
تم میں سے جو شخص بھی منکَر (برائی) دیکھے تو:
(1) وہ بدل دے اُسے اپنے ہاتھ سے،
(2) اگر اتنی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (اُسے بدل دے)،
(3) اگر اِس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل سے (اُسے بدلنے کی تدبیر، منصوبہ بندی، عزم کرے)، اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے.
مسلم 177
آپ ﷺغزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو علیؓ کومدینہ میں اپنا نائب بنایا۔علیؓ نےعرض کیا کہ آپؐ مجھے بچوں اورعورتوں میں چھوڑےجا رہے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا، کیاتم اس پرخوش نہیں ہوکہ میرے لیے تم ایسے ہوجیسے موسیٰ کےلیے ہارون تھے۔لیکن فرق یہ ہےکہ میرےبعدکوئی نبی نہیں ہوگا۔
(بخاری،۴۴۱۶)
حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دُنیا جہان کے لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے۔
﴿سورۃ آل عمران، ۹۶﴾