اب تک ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر چار ہزار ارب روپے کا تانبا یعنی Copper بیچ چکے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ معدنیات لے کر جانے کے وقت نہ دھشتگرد ہوتے ہیں اور نہ کوئی قسم کا خطرہ
شہباز گل کی زبانی تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سننے کے بعد یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تحریک انصاف پر مکمل جرنیلی قبضہ ہو چکا ہے۔ بیرسٹر گوہر سمیت اکثریت عمران خان کا سودا کر چکی ہے۔
ان کی بذدلی اور مفاد پرستی نے عاصم منیر کو اتنا طاقتور بنا دیا کہ وہ آج پوری پارٹی کنٹرول کر رہا ہے۔ احتجاج کو لٹکانا، روکنے کے لیے نت نئے حیلے بہانے تراشنا اور احتجاج کو ناکام بنانا، مزاحمت کا گلا گھونٹنا اور تحریک کو اندر سے کھوکھلا کرنا یہ سب جرنیلوں نے تحریک انصاف کی قیادت کو استعمال کرتے ہوئے فریب کاری سے مکمل کر لیا ہے ۔
ان چار سالوں میں عاصم منیر کے ہاتھ مضبوط فارم 47 کی حکومت نے نہیں، خود تحریک انصاف کی قیادت نے کیے ہیں۔ عمران خان کو سب سے بڑا دھوکا باہر کے دشمنوں نے نہیں، اس کے اپنے آستین کے سانپوں نے دیا ہے۔
اللہ خان کا حامی و ناصر ہو💔
جو آگ 9 مئی کے بعد پنجاب میں لگی تھی آج اس آگ نے مکمل طور پر خیبرپختونخوا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے
پختون کلچر کی روایات کو اڑایا جا رہا ہے
گھروں کی دیواریں بغیر کچھ سوچے سمجھے پھیلانگی جا رہی ہیں
فیصل آباد: چناب چوک کی مسجد والی گلی میں ٹریفک وارڈنز کی چھپ کر موٹر سائیکل سواروں کو پکڑنے اور چالان کرنے کی مہم کا ایک اور خطرناک واقعہ سامنے آ گیا۔
مبینہ طور پر وارڈنز کی طرف سے اچانک موٹر سائیکل کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کا توازن بگڑ گیا اور وہ سڑک پر گر کر ساتھ کھڑی ایک گاڑی سے جا ٹکرایا ۔ اس حادثے کے بعد موٹر سائیکل کا انجن آئل بھی لیک ہو گیا۔
خوش قسمتی سے شہری محفوظ رہا لیکن غصے میں آ کر اس نے موقع پر ہی وارڈن کو پکڑ لیا۔ اس دوران وہاں موجود دوسرے وارڈن کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ "میں آپ کا نقصان پورا کرتا ہوں
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلیوں میں چھپ کر چالان کرنے کی اس غیر قانونی روش اور وارڈنز کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کا فوری نوٹس لیا جائے۔
کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں۔ اس وقت تنقید کا کیا فائدہ ہے۔ پارٹی تقسیم ہوگی۔ دشمن کا فائدہ۔ اپنا نقصان۔ سہیل کو باہر آنے دیان۔ ہاں یہ سوال اچھا ہے تو سنیں جواب
اس وقت چپ رہنا۔ خان سے غداری ہے۔ ایک جرم ہے۔ ایک بے غیرتی ہے۔ وہ کیسے۔ :
اس وقت کیا صورتحال ہے کہ کوئی نہیں نکلا۔ پی ٹی آئی فارغ ہو گئی۔ مخالفین کہہ رہے ہیں خان کی کہانی ختم۔ آج اسمبلی میں ن لیگ اور پی پی پی قہقے لگا رہے تھے۔ کہ سب ختم۔ Kp میں میں کہانی ختم ہو گئی۔ اپنے ورکز بھی مایوس ہیں۔
سیاسی لیڈر کی کیا طاقت ہوتی ہے ؟ توپ ٹینک بندوق ؟ نہیں۔
اس کی طاقت ہوتی ہے اس کے ساتھ کتنے لوگ ہیں۔ کتنے لوگ نکال سکتا ہے۔ سٹریٹ پاور کیا ہے۔
آج اس کا کیا امیج بنا ہے ؟ تو یہ امیج رہنے دوں کہ خان کمزور ہو گیا ہے ؟
اب میرے پاس دو چوائس ہیں۔
خاموش رہوں اور سب کو سمجھنے دوں کے واقعی کہانی ختم۔ واقعی خان کے لئے کوئی نہیں نکلا۔ اب کوئی نہیں نکلے گا۔ اور اللہ نہ کرے یہ اس اوور کانگیفیڈنس یا فرعونیت میں خان کو کوئی نقصان پہنچا دیں کہ اب تو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
دوسرا راستہ۔ کھل کر چیخ کر سچ بولوں کے چوکیدار چور کے ساتھ مل گئے۔ ورکر Kp کی عوام آج بھی خان کے ساتھ ہے۔ جو نظر آیا یہ سچ نہیں ہے۔ لوگ آج بھی خان کے ساتھ ہیں۔ یہ خان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ لوگ نکلنے کو تیار تھے۔ لیکن پلان اے بی اور سی والے ملے ہوئے تھے۔
میرا ایمان کہتا ہے یہ سچ بولوں۔ تا کہ خان کے فارغ ہونے والی کہانی کو رد کر سکوں۔ بتاؤں کہ لوگ آج بھی خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ محبت کرتے ہیںُ۔
سچ وقت پر بولنے کے لئے ہوتا ہے جیسے میں نے وقت پر ٹاؤٹ مروت کو ایکسپوز کیا تھا۔
میری زمین سے سونا نکلا وہ سرکار کا ہو گیا، پستول نکلا وہ کیسے میرا ہو گیا ہے؟
زمین تیری اے ناں۔۔۔
اب عوام میں سمجھ گئی اے سارا رولا پختونوں کی معدنیات لوٹنے کا یے۔
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
شہباز گل کا یہ سوال کہ پلان B کہا ہے بالکل بجانب ہے 70 دن تیاری میں لگائے اور پلان B تو دور کی بات لانگ مارچ اپنے صوبے سے باہر ہی نہیں نکلا پھر سوال تو بنتا ہے ۔۔!
جنرلز کی خواہش پر پچھلے ایک سال میں KP حکومت نے 22 ارب خرچ کئے دہشت گردی کے خلاف آپریشن پر۔
اب ہماری قسمت دیکھیں۔ آج وہی جنرلز اور ٹاؤٹ کہتے ہیں یہ Pti والے دہشت گردی پر تعاون نہیں کرتے۔ اس سے پہلے گنڈاپور نے بھی 9 ارب اسی کام کے دئیے۔
ہم نے انکو ننگا کیوں نہ کیا اس سب پر۔ یہ اصل فگرز ہیں
یہ گلف اسٹریم اکثر بغیر کسی منزل کے پرواز کیوں کرتا رہتا ہے، اور پھر واپس اسی جگہ آ کر کیوں اتر جاتا ہے جہاں سے اس نے پرواز شروع کی تھی؟ وقاص
#pakistan@worqas
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔