This is neither Nawabshah, Larkana, Kashmore, Sukkur nor Hyderabad this is Karachi, the heart of Sindh, where the people are declaring loud and clear:
The Division of Sindh is unacceptable
اتنا ظلم، اتنی درندگی، میری سندھ کو یہ کیا ہو گیا ہے؟ آج پھر ایک ماں اور بیٹی قتل کر دی گئیں، اگر اب بھی خاموش رہے تو نہ جانے کتنی بیٹیاں روز ظلم کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی. شاہدہ جتوئی اور نغمہ جتوئی کے خون کا حساب دو، انصاف دو 💔⚖️
#JusticeForShahidaJatoi#JusticeForNaghmaJatoi #EndHonorViolence #Sindh
محمد میڈیکل کالج میر پور خاص میں ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ فہمیدہ لغاری کی المناک موت نے غم و غصے کو جنم دیا ہے اور تعلیمی اداروں کے اندر احتساب کے مطالبات کی تجدید کی ہے۔
یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر اساتذہ کی طرف سے ہراساں کیے جانے کے بعد اپنی جان لے لی، یہ ایک انتہائی پریشان کن واقعہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ایک نوجوان عورت جو کبھی دوسروں کو ٹھیک کرنے کی خواہش رکھتی تھی اس نے اپنی ہی جان لے لی۔
فہمیدہ لغاری محمد میڈیکل کالج کی پوزیشن ہولڈر طالبہ تھیں، جنہیں وہاں کے اساتذہ عابد لغاری اور عبد اللہ مسلسل ہراساں کرتے رہے، ایک پیشہ ور ڈاکٹر طالبہ کے ساتھ تعلیمی ادارے کے اندر ایسا سلوک ہونا حکومتی اور ادارہ جاتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے، تعلیمی اداروں میں بھی ہماری بچیاں محفوظ نہیں ہیں۔
فہمیدہ لغاری کا انتقال صرف ایک کیس نہیں ہے یہ ایک ایسے بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے جس کا سامنا طلباء کو ہو سکتا ہے جو خاموشی سے شکار ہو رہے ہوں، پوری قوم کو شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
صرف 5 فیصد بچیاں تعلیمی اداروں تک پہنچتی ہیں، جن میں سے بھی کئی بچیاں درندہ صفت لوگوں کا شکار بن جاتی ہیں، کچھ اپنی تعلیم بچانے کے لیے یہ ظلم برداشت کرتی رہتی ہیں، کچھ تعلیم چھوڑ کر گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، جبکہ کچھ ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی طرح ہراسگی کا شکار ہو کر اپنی زندگی کا چراغ بجھا دیتی ہیں۔
اداروں کی انتظامیہ اور اسٹوڈنٹ افیئرز اس طرح کے معاملات کو اس لیے دبا دیتے ہیں تاکہ ادارے کی ساکھ برقرار رہے، فہمیدہ لغاری کے لیے انصاف اور طلبا کے لیے محفوظ جگہوں کو یقینی بنانے کا مطالبہ ہے، جہاں عزت، احترام اور تحفظ پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں ونڈ ٹربائنز سے پیدا ہونے والی بجلی قومی گریڈ میں شامل تو ہوتی ہے، لیکن ان کے سائے میں رہنے والے ہزاروں خاندان بجلی کی عدم فراہمی کے سبب تاریک زندگی گزار رہے ہیں۔اس لیئے تو اسلام آباد کی لاڈلی جماعت پی پی ہے