دبئی میں مقیم ایک پاکستانی رائیڈر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں اس نے ان لوگوں کو مؤثر جواب دیا ہے جو اسے برسوں سے کرائے پر رہنے اور جائیداد نہ بنانے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
رائیڈر نے بتایا کہ وہ گزشتہ 8 سال سے اپنی فیملی کے ساتھ دبئی میں رہ رہا ہے اور اس عرصے کے دوران تقریباً ڈیڑھ لاکھ درہم صرف گھر کے کرائے کی مد میں ادا کر چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اگر وہ یہ رقم بچا لیتا تو آج اس کے پاس پلاٹ، گھر یا جائیداد ہوتی، مگر وہ ان باتوں سے بالکل پریشان نہیں ہوتا۔
رائیڈر کے مطابق "مجھے پلاٹ نہیں چاہیے، مجھے اپنی بیوی اور بچے اپنے پاس چاہئیں۔" اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا حوصلہ اور دل کا سکون عطا کیا ہے کہ وہ خوشی سے اپنی فیملی پر خرچ کرتا ہے، نہ اسے پیسے ضائع ہونے کا افسوس ہے اور نہ ہی لوگوں کے طعنے اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ ساری زندگی پیسہ جوڑ کر بڑے بڑے گھر، پلاٹ اور محلات بنا لیتے ہیں، لیکن بعض کو ان میں رہنے کا موقع بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس وہ روزانہ محنت کرتا ہے، شام کو اپنے گھر واپس جاتا ہے، اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے اور اسی زندگی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہے۔
رائیڈر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر لوگ کمنٹس میں لکھتے ہیں کہ اس نے کچھ نہیں بنایا اور سارا پیسہ کرائے میں ضائع کر دیا، مگر اس کے نزدیک اصل دولت ذہنی سکون، اہلِ خانہ کی قربت اور اللہ کی رضا ہے، نہ کہ صرف جائیدادیں جمع کرنا۔
رائیڈر کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جہاں ہزاروں صارفین اسے قناعت، شکرگزاری اور خاندانی زندگی کو ترجیح دینے کا خوبصورت پیغام قرار دے رہے ہیں۔
سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال:
"کیا AI میری نوکری لے لے گا؟"
سیدھا جواب:
ہاں — اور نہیں بھی۔
AI وہ نوکریاں ضرور لے گا جن میں:
🔹 ایک ہی کام بار بار ہوتا ہے
🔹 سوچنے کی ضرورت کم ہے
🔹 فیصلہ انسان نہیں، routine کرتا ہے
لیکن AI ان لوگوں کو نئی نوکری بھی دے گا جو:
🔹 AI کو استعمال کرنا جانتے ہیں
🔹 AI سے کام کروا سکتے ہیں
🔹 اپنی سوچ کو AI کے ساتھ ملا سکتے ہیں
اصل خطرہ AI سے نہیں ہے۔
اصل خطرہ اس انسان سے ہے جو AI استعمال کرنا جانتا ہے۔
ایک مثال:
پہلے ایک website بنانے کے لیے developer چاہیے تھا۔
آج AI سے کوئی بھی منٹوں میں website بنا سکتا ہے۔
جس developer نے AI سیکھ لیا — وہ دس گنا زیادہ کما رہا ہے۔
جس نے نہیں سیکھا — وہ پریشان ہے۔
ہر دور میں technology نے نوکریاں بدلی ہیں:
کیمرے نے مصور کی جگہ نہیں لی — فوٹوگرافر پیدا کیا۔ پھر اسمارٹ فون نے فوٹوگرافر کی جگہ لے لی
کمپیوٹر نے accountant ختم نہیں کیا — نیا accountant بنایا
AI بھی یہی کرے گا
سوال یہ نہیں کہ AI آئے گا یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب آئے — آپ کس طرف ہوں گے؟
جو آج سیکھنا شروع کرے گا — کل اس کی نوکری محفوظ بھی ہوگی اور بہتر بھی۔
آپ کیا سوچتے ہیں — AI خطرہ ہے یا موقع؟ 👇
دونوں خواتین اپنے ملک روانہ ہو چکیں۔ مسلم لیگ ن نے تمام لیڈران نےاس کیس کے بابت مکمل خاموشی رکھ کراور وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے کو بچانے کی کیلئے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کر کے اپنی سیاسی قبر خود کھود دی ہے۔
اسپائڈر میں فلم کے آخر میں ایک جملے نے کئی سالوں پہلے مجھے بہت متاثر کیا:
“Big power, Big responsibility “.
یہ وزیر ،مشیر، جج و قاضی، سپاہ سالار اگر آپ بنتے ہیں آپکی ذمہ داری بھئ اتنی ہی بڑی ہوتی ہے۔ لوگوں کا سوال کسی حسد کے بنیاد پر نہیں ہوتا، آپ کے پاور اور پوزیشن کے بنیاد ہر ہوتی ہے۔ اگر جج آصف کا بیٹا اسلام آباد میں کسی شخص کو تب گاڑی کے نیچھے کچل دیتا جب اسکا باپ ہماری طرح وکیل ہوتا ، تب کوئی مسلہ نہ تھا، عام عوام بھی اسے فرد کا عمل تصور کرتے۔ مگر جج کے بیٹے نے یہ کیا آج بھئ عوام اسکے پاور اور پوزیشن بابت سوال کرتے ہیں۔
یہی سوال اسحاق ڈار فیمیلی سے بھی ہے ، اگر اسحاق ڈار عام کاروباری شخص ہوتا عوام کوکیس کے میرٹ پر خاص تشویش نہ ہوتی مگر اب جبکہ وہ پاور اور پوزیشن میں ہے تو لوگ سوال کریں گے۔
اسلئے صحافیوں کو خبر دینی چاہئے، چمچہ نہیں بنانا چاہئے۔
#ImamAli (AS) said:
‘The intelligent person is one who abstains from [the pleasures of] the lowly, perishing world and desires the sublime, everlasting, lofty Paradise’
- Ghurar Al-Hikam
ڈنمارک میں اس وقت بیچلر کے داخلے ہو رہے انجینرنگ اور آئی ٹی کے بہت پروگرام ہیں پھر ان کا CBSبزنس سکول ٹاپ کے بزنس یونیورسٹی ہے سکالر شپ بھی کافی مگر رات میں چیک کر رہا تھا پاکستان بارے انہوں نے لکھا کہ FA/FSc کو یہ تسلیم نہی کرتے یہاں یہ تعلیم تین سال ہوتی جبکہ پاکستان کے دو سال ہیں تو ایک سال ایکسٹرا ڈپلومہ چاہئے تب داخلہ دیتے ہیں
ویسے پاکستان کو اپنی تعلیم کا دورانیہ عالمی لیول سے میچ کرنا چاہیے اس سے بہت فائدہ ہو گا
پاکستانی صحافی: 5 سال میں پاکستان کہاں ہو گا؟
سنگاپور کے سابق سفیر: میں بہت دو ٹوک کہوں گا۔
پاکستان نے امریکہ ایران جنگ میں سفارتی موقع سے
🚨ذاتی 🚨فائدہ اٹھایا۔
لیکن یہ آپ کے لوگوں کو نہیں کھلائے گا۔
پاکستان ایک 🆘 تباہی 🆘 کے دہانے پر کھڑا ہے۔
ایک قائد، رہنما یا دانشور کی اصل پہچان دو چیزوں سے ہوتی ہے: پہلی اس کی کریڈیبلٹی اور دوسری اس کا ویژن۔ افسوس کہ آپ ان دونوں اوصاف سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ محض ڈائم اے ڈزن کتابیں شائع کر لینے سے کوئی شخص بڑا دانشور نہیں بن جاتا، بالکل اسی طرح جیسے شام کے اخباروں کی کثرت انہیں معیاری صحافت کی علامت نہیں بنا دیتی۔
Mashallah glad to hear about the efforts of Amir Nawaz Warraich Sb (Ex President KBA
& GS High Court Bar Association)
Rehman Korai Sb, (Ex GS KBA)
Ammar Haseeb Panhwar Sb (Ex Treasure KBA)
Imran Aziz Sb (Ex Joint Secretary KBA) & all legal fraternity in the bail process for Idrees Alvi Sb & Mohammad Suleman Sb. We hope that your legal guidance will help other workers of MQM in their release, who are booked in fake & concocted cases.
سندھ کا قیمتی جینیاتی سرمایہ 🐃
کنڈی بھینس سندھ کی ایک قیمتی مقامی دودھ دینے والی نسل ہے، جو اپنی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت، مضبوط جسمانی ساخت، معیاری دودھ اور زیادہ فیٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس نسل کا تحفظ اور سائنسی افزائش پاکستان کے ڈیری سیکٹر کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
#KundiBuffalo #shakirumargujjar #Sindh #DairyFarming #DCFAPakistan
کنڈی بھینس (Kundi Buffalo)
پاکستان بالخصوص صوبہ سندھ کا ایک انمول اثاثہ اور زرعی معیشت کا اہم ستون ہے۔ یہ بھینس اپنی مخصوص جسامت، سیاہ چمکدار رنگ اور منفرد مڑے ہوئے سینگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔
ذیل میں کنڈی بھینس کی اہمیت اور خصوصیات پر ایک اعلٰی تحریر پیشِ خدمت ہے:
کنڈی بھینس: سندھ کی زرعی پہچان
کنڈی بھینس محض ایک مویشی نہیں، بلکہ سندھ کے دیہی علاقوں کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کا نام اس کے مخصوص "کنڈی" نما مڑے ہوئے سینگوں سے منسوب ہے، جو اس کی خوبصورتی اور پہچان کی علامت ہیں۔
**١۔ جسمانی ساخت اور خصوصیات:**
کنڈی بھینس کا جسم گٹھا ہوا، رنگ گہرا سیاہ اور جلد چکنی ہوتی ہے۔ اس کی نمایاں ترین خصوصیت اس کے سینگ ہیں جو نیچے کی طرف جھک کر کنڈی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ بھینس گرم و مرطوب آب و ہوا کو برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، اسی لیے یہ دریائے سندھ کے کناروں اور آبپاشی کے علاقوں میں بہترین کارکردگی دکھاتی ہے۔
**٢۔ دودھ کی پیداوار میں مقام:**
کنڈی بھینس کو دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے ایک اعلیٰ نسل مانا جاتا ہے۔ اس کا دودھ اپنی چکنائی (Fat content) اور غذائیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پاکستان کی ڈیری صنعت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
**٣۔ کسانوں کے لیے معاشی سہارا:**
ایک کنڈی بھینس کا پالنا چھوٹے کسانوں کے لیے خوشحالی کا ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف دودھ کی پیداوار سے روزگار فراہم کرتی ہے بلکہ قدرتی کھاد اور دیگر ضمنی فوائد کے ذریعے فارمنگ کے نظام کو چلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ سندھ کے کسان اسے اپنی عزت اور سرمایہ سمجھتے ہیں۔
**٤۔ تحفظ اور فروغ کی ضرورت:**
اگرچہ کنڈی بھینس ہماری ثقافت اور معیشت کا حصہ ہے، تاہم جدید دور میں اس کی نسل کو بہتر بنانے اور بہتر غذائیت فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن (DCFA) جیسے ادارے اس سلسلے میں کوشاں ہیں تاکہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سہولیات فراہم کر کے اس نسل کو مزید ترقی دی جا سکے۔
**نتیجہ:**
کنڈی بھینس سندھ کی دھرتی کا وہ تحفہ ہے جو صدیوں سے ہمارے کسانوں کی خدمت کر رہا ہے۔ اس کا تحفظ اور اس کی نسل کو بہتر بنانا دراصل پاکستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے کے مترادف ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس انمول اثاثے کی دیکھ بھال میں جدید سائنسی اصولوں کو اپنائیں تاکہ ہمارا کسان اور ہمارا ملک مزید ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔
🐃 کنڈی بھینس (Kundi Buffalo)
پاکستان کی قیمتی مقامی دودھ دینے والی نسل
تحریر: شاکر عمر گجر
مرکزی صدر، Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)
کنڈی بھینس پاکستان، خصوصاً صوبہ سندھ، کی ایک نہایت قیمتی مقامی دودھ دینے والی نسل ہے۔ یہ نسل اپنی بہترین موافقت، گرمی برداشت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت، معیاری دودھ، مضبوط جسمانی ساخت اور مقامی موسمی حالات میں شاندار کارکردگی کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتی ہے۔ سندھ کے لاکھوں ڈیری فارمرز کی معیشت کا انحصار اسی نسل پر ہے، جبکہ ملکی دودھ کی پیداوار میں بھی کنڈی بھینس اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کنڈی بھینس کا تعلق دریائی بھینس (River Buffalo) سے ہے اور اس کی افزائش صدیوں سے سندھ کے مختلف علاقوں میں ہوتی آ رہی ہے۔ قدرتی انتخاب اور مقامی ماحول سے ہم آہنگی نے اس نسل کو ایک مضبوط، صحت مند اور پیداواری نسل بنا دیا ہے۔ آج یہ صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ پنجاب، بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی کامیابی سے پالی جا رہی ہے
کنڈی بھینس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا چمکدار سیاہ رنگ، گول اور مضبوط جسم، چوڑا سینہ، مضبوط ٹانگیں، درمیانے اور اندر کی طرف مڑے ہوئے سینگ، نرم جلد اور متوازن تھن ہیں۔ ایک اچھی کنڈی بھینس نہ صرف خوبصورت دکھائی دیتی ہے بلکہ اعلیٰ دودھ دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے
بالغ مادہ کنڈی بھینس کا وزن عموماً 400 سے 550 کلوگرام جبکہ بالغ نر کا وزن 550 سے 700 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ مناسب خوراک، جدید انتظام اور اچھی دیکھ بھال کے ساتھ اس کا جسمانی معیار مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے
دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے کنڈی بھینس پاکستان کی بہترین مقامی نسلوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایک صحت مند کنڈی بھینس اوسطاً 8 سے 15 لیٹر دودھ روزانہ دیتی ہے جبکہ اعلیٰ جینیاتی خصوصیات رکھنے والے جانور 18 سے 20 لیٹر یا اس سے زیادہ دودھ بھی دے سکتے ہیں۔ ایک لیکٹیشن میں تقریباً 1800 سے 3000 لیٹر دودھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے دودھ میں 6.5 سے 8.5 فیصد تک چکنائی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دہی، مکھن، گھی، پنیر اور دیگر ڈیری مصنوعات نہایت عمدہ معیار کی بنتی ہیں
کنڈی بھینس کا ایک بڑا امتیاز اس کی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت ہے سندھ کے شدید گرم موسم، محدود پانی اور نسبتاً کم معیار کے چارے میں بھی یہ نسل بہتر کارکردگی دکھاتی ہے۔ اگر اسے متوازن خوراک، صاف پانی، سایہ اور مناسب انتظام فراہم کیا جائے تو اس کی دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے
یہ نسل نسبتاً پرسکون مزاج رکھتی ہے، اسی لیے دودھ دوہنے، روزمرہ دیکھ بھال اور جدید ڈیری فارمنگ سسٹم میں اسے سنبھالنا آسان ہوتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے چھوٹے اور بڑے دونوں درجے کے فارمرز کے لیے موزوں بناتی ہے
اگرچہ کنڈی بھینس مقامی ماحول میں نسبتاً بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہے، لیکن پھر بھی منہ کھر (FMD)، گل گھوٹو (HS)، بلیک کوارٹر (BQ)، لمپی اسکن بیماری (LSD) اور اندرونی و بیرونی پیراسائٹس سے بچاؤ کے لیے بروقت ویکسینیشن اور ویٹرنری دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے
کنڈی بھینس کی پیداواری صلاحیت میں مزید اضافہ کرنے کے لیے سائنسی بریڈنگ پروگرام، مصنوعی نسل کشی (AI)، اعلیٰ جینیاتی ماداؤں کا انتخاب، دودھ کی پیداوار کا باقاعدہ ریکارڈ، جانوروں کی رجسٹریشن، جینیاتی تشخیص اور متوازن غذائی منصوبہ بندی ناگزیر ہیں۔ یہی اقدامات مستقبل میں پاکستان کے ڈیری سیکٹر کو عالمی معیار کے قریب لا سکتے ہیں
بدقسمتی سے آج کنڈی بھینس کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں غیر منصوبہ بند کراس بریڈنگ، خالص نسل کے جانوروں کی تعداد میں کمی، ناقص غذائی انتظام، تحقیقی سہولیات کی کمی، جینیاتی ریکارڈ کا فقدان اور بریڈنگ پروگراموں کی محدود دستیابی شامل ہیں۔ اگر ان مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں اس قیمتی مقامی نسل کا خالص جینیاتی سرمایہ متاثر ہو سکتا ہے
اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، تحقیقی ادارے، جامعات، نجی شعبہ اور کسان مل کر کنڈی بھینس کے تحفظ اور بہتری کے لیے قومی سطح پر جامع پروگرام شروع کریں۔ خالص نسل کے جانوروں کی رجسٹریشن، جینیاتی بہتری، مصنوعی نسل کشی، جدید ڈیری فارمنگ کی تربیت، بیماریوں کی مؤثر روک تھام اور فارمرز کی استعداد کار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کنڈی بھینس صرف ایک دودھ دینے والا جانور نہیں بلکہ سندھ اور پاکستان کا قیمتی جینیاتی سرمایہ ہے۔ اگر اس نسل کے تحفظ، سائنسی افزائش، جدید انتظام اور بہتر غذائی پروگراموں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو یہ نسل نہ صرف ملکی دودھ کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے بلکہ غذائی تحفظ، دیہی خوشحالی، کسانوں کی آمدنی اور پاکستان کی ڈیری برآمدات میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
🐄 Dairy & Cattle Farmers Association Pakistan (DCFA Pakistan)
Save Farmer • Save Pakistan
سابق امریکی سی آئی اے افسر نے انکشاف کیا :
میں اُس وقت حیران رہ گیا، جب بے نظیر جلاوطنی کے دوران دبئی میں 50 لاکھ ڈالر مالیت کے محل میں رہ رہی تھیں”
حیرت ہے کہ ایسی کرپٹ قیادت غریب قوم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیسے بات کرتی تھی۔
194 دن سے جاری غیر قانونی حراست ختم کریں اور نثار پنہور اور محسن پنہور کو رہا کریں۔
⏳ وقت چہروں کو نہیں، کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
جنہیں گمنامی سے نکال کر شناخت دی، اقتدار اور ایوانوں تک پہنچایا، انہی میں سے بہت سے لوگ آزمائش کی پہلی آندھی میں ساتھ چھوڑ گئے۔ مگر سندھ کے شہر شکارپور سے تعلق رکھنے والے نثار پنہور آج بھی وفاداری، استقامت اور نظریے کی علامت ہیں۔ ✊
میرے والد نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ سندھی ہیں، اس لیے انہیں PPP یا کسی بھی جماعت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے نہ زبان دیکھی، نہ قومیت، نہ مفاد۔ انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، 🤲⚖️ جہاں حق دیکھا، اس کا ساتھ دیا، اور جہاں باطل دیکھا، اسے باطل کہا، جس کا جواب ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا پڑے گا۔
💔 آج نثار پنہور اپنے جوان بیٹے محسن پنہور کے ساتھ 194 دن سے غیر قانونی حراست میں ہیں۔ نہ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا، نہ کسی قانونی تحویل میں ظاہر کیا گیا۔ ہمیں آج تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ ان کی سلامتی اور خیریت کے بارے میں ہماری تشویش ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار کے ساتھ اپنی وفاداریاں بدل لیتے ہیں، کیا وہ واقعی اپنے نظریے اور اپنے ملک سے سچے ہو سکتے ہیں؟
وفاداری زبان، نسل یا قومیت کی محتاج نہیں ہوتی۔ اقتدار کے ساتھ وفاداریاں بدل جائیں تو وہ سیاست ہے، لیکن جبر، آزمائش اور مصیبت میں بھی ساتھ نبھایا جائے تو وہ کردار ہے، اور کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے, یزید تھا، حسینؑ ہیں؛ باطل مٹ جاتا ہے، حق باقی رہتا ہے۔
📢 اگر نثار پنہور اور محسن پنہور پر کوئی الزام ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے، اور اگر کوئی الزام نہیں تو ان کی 194 دن سے جاری غیر قانونی حراست ختم کرکے انہیں فوری رہا کیا جائے۔
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#Pakistan
#SpeakUp