مجھے ایک سینیر پٹواری نے چیلنج کیا ہے کہ ان تین شہزادوں کی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اب پہلے جیسے نہیں رہی ۔
اس سروے کے نتیجے سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ مقبولیت بڑھی یا کم ہوئی ؟
#ہمیں_صرف_خان_چاہیے
مجھے یاد ہے 2003 میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تو سب سے پہلے عمران خان نے کیپیٹل ٹاک میں انکے لئے آواز اٹھائی اسوقت کے وزیرداخلہ فیصل صالح حیات نے انہیں دہشت گرد قرار دیا بعد میں ریاست نے انکی گرفتاری سے انکار کر دیا تین سال بعد پتہ چلا کہ وہ بگرام جیل میں ہے اور پھر وہ امریکہ کی جیل میں پہنچ گئیں
قاضی فائز عیسی صاحب کے بلا واپس لینے والے فیصلے کی وجہ سے تحریک انصاف کی مخصوص نشستیں دوسری جماعتوں کو ملیں اور دو تہائی اکثریت کا امکان پیدا ہوا۔ باقی نمبر تحریک انصاف کی نشستیں چھین کر پورا کیا جا رہا ہے۔ اب قاضی صاحب کی مدت میں توسیع کی خبر سے ثابت ہو رہا ہے کہ مشترکہ مفادات کے حصول میں سارا کھیل چل رہا ہے۔ آئین اور جمہوریت کے نام پر جو کھیل اس ملک میں کھیلا جا رہا ہے اس سے کبھی ملک کا بھلا نہیں ہو گا۔ بلکہ یہ قانون سازیاں کل کو گلے کا طوق بنیں گی۔ ایک عمران خان سے نمٹنے کے لیے ہر حد سے گزر جانا دانشمندی نہیں ہاتھوں سے لگائی گرہیں بعض اوقات دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں۔
میرا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں انکے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکاہے
اس کے بعد
جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کافر ہے اور اسکی تائید کرنے والا بھی کافر
مرزا قادیانی کل بھی کافر تھا اور آج بھی کافر ہے
@Ulama_E_Duband
دو گاڑیوں میں دھرنے سے واپسی پر جب میرے فیملی،بچے میرے ساتھ تھے اسلام آباد پولیس (باوردی اور سادہ کپڑوں میں )نے میری گاڑی کا تعاقب کیا،میرے ڈرائیور اور بیٹے سے موبائل۔چھیننے کی کوشس کی،میری گاڑی رکوادی،مجھے کہا گیا کہ اپنا شناختی کارڈ دکھاو،میں نے دکھا دیا،پھر دھمکیاں دی اور غیر مہذب زبان استعمال کی ،میں نے انہیں کہا کہ بدتمیزی نہ کریں گرفتار کرنا ہے تو کریں میں تیار ہوں،
آج پولیس نے پلاسٹک پائپوں سے دھرنے کے لیڈرشپ پر تشدد کیا لیکن میں نے شرکاء کو ٹھنڈا کیا اور ہم باوجود بدتمیزی اور تشدد کے پرامن رہے۔اسلام آباد پولیس اپنی اتھارٹی اور وردی کو مس یوز کررہی ہے۔
مجھے ایک سینیر پٹواری نے چیلنج کیا ہے کہ ان تین شہزادوں کی مقبولیت میں کمی آ گئی ہے اب پہلے جیسے نہیں رہی۔
اس سروے کے نتیجے سے اندازہ ہو جائے گا کہ مقبولیت بڑھی یا کم ہوئی ؟
#قید_میں_بیٹھا_فاتح_لیڈر
شاہد آفریدی کو قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر انہوں نے ملک لوٹنے والوں سے لے کر مینڈیٹ چوری کرنے والوں تک کو مبارکبادیں دیں۔ لوگوں نے برادشت کیا مگر جب اپنی مقبولیت کی دھن میں مگن شاہد خان آفریدی نے پاکستان کے سب سے بڑے عوامی لیڈر پر کھل کر تنقید کرنا شروع کی تو لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ پاکستان میں شاہد آفریدی کی طرح ان سے کم تر اور ان سے بہتر بہت سے سٹارز موجود ہیں۔ جو آج بھی مختلف انداز میں خود کو عوام سے جوڑے ہوئے ہیں۔ ان سب کی بھی اپنی اپنی سیاسی سوچ ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی عوام کی دل آزاری نہیں کی۔ مگر شاہد آفریدی کی نظریں شائد کسی اور ٹارگٹ پر مرکوز ہیں۔ عہدوں کے حصول کے لیے عزت داؤ پر لگانا ایک ہیرو کو زیب نہیں دیتا۔ اگر بولنا ہی تھا تو شاہد آفریدی کو ظلم اور جبر کے خلاف بولنا چاہیئے تھا تاکہ جن لوگوں نے اسے پیار دیا انکی محبتوں کا حق ادا ہوتا مگر لالہ نے ہمیشہ غلط شارٹ کھیل کر خود کو آؤٹ کروانے کی روایت برقرار رکھی۔
Once again Poor shot selection Afridi.
حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں:
مجھے رسول الله ﷺ کے لئے، آپ کی کسی بیوی پر ایسا رشک نہیں ہوا جیسا حضرت خدیجہ (رضی الله عنہا) پر ہوا. اس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کو بہت کثرت سے یاد کرتے تھے، حالانکہ میں نے انہیں کبھی دیکھا تک نہ تھا.
مسلم 6280
ایک 18 سالہ نوجوان سے ملا۔ اس نے ووٹ بھی خود رجسٹر کروایا، ایک واٹس ایپ گروپ بھی بنایا، خاندان کے بڑوں سے ووٹ ڈالنے سے پہلے مشورہ بھی نہیں کیا، برادری کے امیدوار کو کوئی گھاس نہیں ڈالی۔ ووٹ ڈالنے کے بعد پولنگ سٹیشن پر موجود بھی رہا، فارم 45 کی تصویریں بھی لیں اور اپنے گروپ میں شیئر بھی کیں۔آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس نے ووٹ کس جماعت کو دیا ہے، ساتھ یہ بھی بتایا کہ اپنے قیدی لیڈر کو ووٹ نہیں دیا میں نے تو نظام کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
مکمل کالم: https://t.co/qdOjGXrrQq
#فاتح_قیدی_عمران_خان