میں صرف ہاسٹل کیلئے سامان خریدنے گئی تھی. مگر اُس l دکان دار نے مجھے پوری رات رُلایا
یہ لاہور کی بات ہے
میں ہاسٹل منتقل ہو رہی تھی
امّی نے ایک لمبی فہرست ہاتھ میں پکڑا دی تھی
بالٹی لے لینا کپڑے لٹکانے والی کیلیں بھی۔
اور دیکھنا فضول خرچی نہ کرنا
میں اندرون شہر کی ایک پرانی دکان میں چلی گئی جہاں استعمال شدہ سامان ملتا تھا
وہاں ہر چیز میں وقت کی گرد جمی ہوئی تھی
پرانے لیمپ اُکھڑی ہوئی الماریاں چِھلے ہوئے برتن پُرانی کتابیں
اور کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھی ایک بوڑھی عورت سخت چہرہ تیز لہجہ
اور ایسی جھنجھلاہٹ جیسے پوری دنیا سے ناراض ہو
میں قطار میں چھٹے نمبر پر تھی
اور ہر گزرتے گاہک کے ساتھ اُس کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا
کسی نے قیمت پوچھ لی تو وہ جھلّا پڑی۔
کسی کے پاس کھلے پیسے نہ ہوئے تو اُس نے آنکھیں گھما لیں
پھر میری باری آئی
میری ایک ٹوکری پر قیمت نہیں لگی تھی
اُس نے ٹوکری زور سے کاؤنٹر پر پٹخی
لو جی اب میں پوری دکان چھوڑ کر یہ ڈھونڈوں؟
میں سہم گئی
سچ کہوں تو دل کیا سامان چھوڑ کر نکل جاؤں
مگر پھر نہ جانے کیوں
دل کے اندر عجیب سی کھٹک ہوئی
ایسا لگا جیسے کوئی کہہ رہا ہو
اس عورت کے ساتھ نرمی کرو
میں نے فوراً دل میں بحث شروع کر دی
یہ عورت تو بدتمیز ہے۔
میں کیوں اِس کیلئے کچھ اچھا کروں؟
مگر وہ احساس جا نہیں رہا تھا
آخر میں نے حساب ادا کیا
اور بٹوے کے پچھلے حصے میں رکھے چند نوٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھا دیے
وہ چونکی یہ کیا ہے؟
میں نے آہستہ سے کہا
بس دل چاہا آپ کیلئے چھوڑ دوں
وہ کافی دیر مجھے دیکھتی رہی
پھر اُس کی آواز پہلی بار نرم ہوئی
کیوں؟
میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
پتا نہیں بس دل نے کہا
قسم سے
اُس عورت کا چہرہ ایک لمحے میں بدل گیا
جیسے سخت مٹی کے نیچے کہیں پانی چھپا ہو
اُس نے آہستہ سے میرا ہاتھ پکڑ لیا
اور پھر دھیرے سے بولی
آج میری پچھترویں سالگرہ ہے
میں خاموش ہو گئی
وہ ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
صبح سے کسی بچے نے یاد نہیں کیا نہ بیٹے نے نہ بیٹی نے۔
بس بجلی کا بل آیا ہے
اُس کی ہنسی ٹوٹ گئی
پتا ہے؟
میں صبح سے ہر گھنٹی پر چونکتی رہی
میری آنکھیں بھر آئیں
پھر اُس نے ایک جملہ کہا جو آج تک میرے دل میں پھنسا ہوا ہے
انسان عمر سے نہیں ٹوٹتا بیٹا
بھولے جانے سے ٹوٹتا ہے
پتہ نہیں آس پاس کھڑے لوگوں کو کیسے خبر ہوئی
مگر اگلے چند لمحوں میں عجیب منظر تھا
قطار میں کھڑے ایک لڑکے نے کہا
سالگرہ مبارک، آنٹی
پھر ایک عورت بولی
اللہ آپ کو سلامت رکھے
پھر ایک بچے نے مٹھائی والے خانے سے ٹافی اٹھا کر اُنہیں دے دی
اور وہ عورت
جو پانچ منٹ پہلے پوری دنیا سے لڑ رہی تھی
اب کاؤنٹر کے پیچھے کھڑی خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھی
واپس آتے ہوئے میرے ہاتھ میں سستا ہاسٹل سامان تھا
مگر دل میں ایک عجیب سا بوجھ بھی تھا
ہم کتنی جلدی لوگوں کو سخت، زہریلا، بدتمیز کہہ دیتے ہیں
حالانکہ کبھی کبھی
انسان صرف اس لیے سخت ہو جاتا ہے
کیونکہ زندگی بہت دیر سے اُس کے ساتھ نرم نہیں ہوئی ہوتی ہے
قربانی کرنے کے بعد گوشت کے تین حصے ہوتے ہیں جس میں ایک حصہ گھر والوں کا ہوتا ہے باقی سب بانٹنے ہوتے ہیں اور لوگ پورے کا پورا گوشت فریزر میں رکھ لیتے ہیں خود ہڑپنے کے لیے ایسا کیوں ؟؟؟
بڑی قربانی میں اللہ نے سات حصے رکھے ہیں کسی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔اسی طرح ایک خاوند میں اللہ نے چار حصے رکھے ہیں پھر ایک بیوی اکیلا سارا خاوند کیوں ہڑپ کرنا چاہتی ہے؟
😂😂😂😃😃