بجٹ آرپا ھے ۔ ٹیکسوں کا موسم ھے ۔ میرے پاس سگریٹ کے جائز کاروبار والے حضرات آر ہے ھیں۔ ان کا کہنا ھے کے ٹیکس کی شرح کم کریں تو اس سیکٹر میں ناجائز سیگریٹ کا کا روبار کم ھو گا اور ملکی خزانے کی آمدن زیادہ ھو گی۔ میں اس تاویل سے عمومی طور پہ اتفاق کرتا ھوں۔ماضی قریب میں ناجائز اور چوری کی سگریٹ فیکٹریوں پہ سختی کی گئی تو یہ ایک صوبے سے نکل کر باقی صوبوں پھیل گئی ھیں۔ پرانے زمانے میں لاھور کے ایک کونے میں ایک کاروبار ھوتا تھا۔ حکومتوں نے وہ کاروبار بند کروایا تو وہ سارے لاھور میں پھیلُ گیا۔ اب سنا ھے کے ناجائز سگریٹ بنانے والوں نے پولٹری فارموں کے اندر مشینیں لگا لی ھیں ۔
ایک اندازے کے مطابق سگریٹ کے informal یا ناجائز کاروبار پہ حکومت کو ٹیکس کی مد میں 300ارب روپے کا نقصان ھے ۔
ایک راۓ ھے کہ ٹیکس گھٹانے سے چوری کی ترغیب کم ھو جاۓ گی اور زیادہ لوگ ٹیکس ادا کرنے پہ راضی ھو جائیں گے۔ صرف ایک نقصان ھو گا ٹیکس collect کرنے والے بے ایمان حکومتی اھل کار حرام کی کمائی سے محروم ھو جائیں گے۔آپ ھماری مارکیٹوں کا سارے ملک میں حجم دیکھیں اور وہ ٹیکس کتنا دیتے ھیں وہ چیک کر لیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ھے ٹیکس ٹھیک جمع ھو تو ھم بین الاقوامی مالی اداروں کی غلامی سے آزاد ھو۔
اس ملک میں پنجاب سے یوں انصاف ہوتا ہے کہ کشمیر کے دریاؤں سے بننے والی بجلی کشمیریوں کو تین روپے یونٹ اور پنجابیوں کو 60سے 70 روپے
اور پنجابیوں کی گندم کشمیریوں کو 1000 کی اور پنجابیوں کو 4000 کی ۔
پھر بھی بضد ہیں کہ پنجاب ظلم کرتا ہے چھوٹے صوبوں پر
@Badass1ZQ1 یو اے آی کے قطر کی مدت ختم ہو رہی تھی اور چائنہ نے اپنی انرجی فرم کو پیمنٹ کرنے کا بولا ہے جو واجب الادا ہے اس میں نا کوئی بڑی خبر ہے نا ہی کوئی حیرت