سیاسی مخالفین کی بیماری پر مذاق اڑانے ٹھٹھہ لگانے سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دینے اور نوازشریف کی بیماری والی تصویر دکھا کر جگتیں مارنے والے آج اپنی آنکھ کی بیماری کیلئے مرے جارہے ہیں
مکافات عمل کی چکی بہت باریک پیستی ہے
یہ وطن صرف انکا ہے جو وطن عزیز کی خاطر اپنا گرم لہو پیش کر رہے
حنیف عباسی میجر رضوان کا آخری وٹس اپ
میسج سناتے آبدیدہ ہو گئے
شہدائے افواج پاکستان کو سلام💚🙏
پیارے پاکستانیوں!!!
#دین
وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہئیں۔
بہت ہو چکا مساجد کے در و دیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلا کے سنگِ مرمر پر، قمقموں، فانوس و جھومر پر، ایئر کنڈیشن اور ایئر کولرز پر، اور نفیس قالینوں پر خرچ۔
مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
چند تجاویز پیش خدمت ہے۔
1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سینٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو۔
2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔
3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو۔
4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔
5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کے لیے عطیہ کرنے کی غرض سے مسجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔
6۔ آپس میں رشتے ناتے کرنے کے لیے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔
7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیے جانے کو ترجیح دی جائے۔
8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔
9۔ بڑی جامع مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔
10۔ ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو جہاں اسلامی و عصری کتب مطالعے کے لیے دستیاب ہوں۔
قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس کارِ خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں۔
ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے۔ ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں بھی موجود تھی۔
جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا، ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
خدارا
اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔
اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گزار سکیں۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین
بابا کھڑے ہوجاؤ
آج آپ کو لیکر جاؤنگا
بابا یہ کھالو
بابا کیا کررہے
بابا آج آپکو ہم پنڈی لے جائیں گے
بابا کتنے وزنی ہوگئے
بابا یہ دیکھو آپکا نام بھی لکھا ہوا ہے،
بابا یہ آپکے کمرے کی چابی،
ایک شہید کے بچوں کا اپنے باپ کی قبر پر مکالمہ💔🇵🇰😭
میں سخت زبان استعمال کرنے پر انتہائی معزرت خواہ ہوں لیکن سہیل آفریدی کی پشتو تقریر سن کر مجھے بیغیرت کے علاوہ کوئی لفظ ذہن میں نہیں آیا کیونکہ یہ مہا بیغیرت ثابت ہو رہا ہے۔
اس ویڈیو میں ایک ایک ثبوت لگا کر ان بیغیرتوں کی طبیعت صاف کی ہے، آپ سب سے گزارش ہے کہ اسکو شئیر کریں۔
حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے آنحضورؐ کے ساتھ تمام جنگوں میں شرکت کی توفیق پائی۔ دورانِ جنگ آپؓ کی تمام تر توجہ آنحضورؐ کی طرف مبذول رہتی تھی۔ جب بھی آپؓ کو محسوس ہوتا کہ اس وقت آنحضورﷺ کو میری ضرورت ہے تو آپؓ ایک وارفتگی کے عالم میں آنحضورﷺ کی طرف لپکتے۔ آپؓ ان چند صحابہ میں سے ہیں جو غزوہ احد میں آنحضورؐ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں:جنگ احد میں جب آنحضورﷺ کو تیر لگا اور آپؓ کے گال مبارک میں خَود کی دو کڑیاں پیوست ہو گئیں تو میں آپؐ کی طرف بھاگا، ایسے میں مَیں نے ایک انسان کو دیکھا کہ وہ مشرق کی جانب سے اُڑتا چلا آتا ہے، اس پر مَیں نے دعا کی کہ یا اللہ! اسے اطاعت بنا دے۔ یعنی اللہ خیر کرے کوئی دشمن نہ ہو بلکہ آپؐ کا کوئی مطیع وفرمانبردار ہو۔ جب ہم دونوں وہاں پہنچے تو ابوعبیدہ مجھ پر سبقت لے جاچکے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابوبکر مَیں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ یہ کام مجھے کرنے دیں اور یہ کڑیاں مَیں آنحضورؐ کے رُخ انور سے نکالوں۔ اس پر میں نے انہیں یہ کام کرنے دیا۔ اس پر انہوں نے اپنے دو دانتوں سے اس خود کی ایک کڑی کو پکڑ کر کھینچا، نتیجۃً کڑیاں دانتوں سمیت زمین پر گرگئیں، پھر آپ نے دوسری کڑی کو اپنے دوسرے دو دانتوں سے کھینچا سو وہ بھی کڑیوں کے ساتھ ہی گرگئے۔ اس موقع پر آپؓ نے فرمایا: وہ قوم کیسے فلاح پا سکتی ہے جو اپنے نبی کے رخ انور کو خون آلود کر دے، حالانکہ وہ انہیں ان کے ربّ کی طرف بلاتا ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو تین سو سوار دے کر سمندر کی طرف بھیجا تاکہ وہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کے لیے گھات لگائیں۔ ابھی یہ لوگ راستے ہی میں تھے کہ کھانے پینے کا سامان ختم ہونے لگا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا بچا کھچا زادِ راہ میرے پاس جمع کروادیں۔ اس طرح کھجوروں کا ایک بورا جمع ہوگیا۔ وہ اس سے مجاہدین کو تھوڑا تھوڑا تقسیم کرنے لگے حتی کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آگئی۔
بالآخر وہ بورا بھی ختم ہوگیا تو انھیں مجبوراً کیکر وغیرہ کی پھلیاں اور پتے کھانے پڑے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کو "جیش الخبط" (پتوں والا لشکر) کہا گیا، پھر لوگوں نے اونٹ ذبح کرنے شروع کر دیے۔ اونٹوں کے ختم ہونے کا خدشہ پیداہوا تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اونٹ ذبح کرنے سے روک دیا۔ پندرہ دن میں یہ لوگ ساحل سمندر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے وہاں ان کے لیے ایک ٹیلے جتنی مچھلی پھینک دی۔ اس قسم کی مچھلی کو عنبر کہا جاتا تھا ۔ انھوں نے پورے پندرہ دن اسے خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کا تیل بھی استعمال کیا۔ ان کے جسم پہلے سے زیادہ طاقتور اور خوب موٹے تازے ہوگئے ۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پسلی کی ہڈی کھڑی کی تو اونٹ سوار شخص اس کے نیچے سے صاف گزر گیا۔ مسلمانوں کو وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں کرنی پڑی۔ وہ واپس مدینہ منورہ آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے مچھلی والا واقعہ بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
(كُلُوا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللهُ، أَطْعِمُونَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِّنْهُ)
" یہ رزق تھا، اللہ تعالیٰ نے تمھارے کھانے کے لیے بھیجا تھا۔ خود بھی کھاؤ اور اگر اس میں سے کچھ باقی ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ۔"
ایک صحابی نے آپ ﷺ کی خدمت میں اس مچھلی کا گوشت پیش کیا تو آپ نے تناول فرمایا۔ ((صحيح البخاري، المغازي، باب غزوة سيف البحر۔۔۔، حديث: 4360۔4362، وصحيح مسلم، الصيد والذبائح، باب إباحة ميتات البحر، حديث: 1935، والفتح الرباني: 21/142،141۔ ابن اسحاق نے اسے بسند حسن روایت کیا ہے، دیکھیے: السيرة النبوية لابن هشام: 4/372،371۔))
عمواس کے علاقے میں طاعون پھوٹی تو اس وقت اسلامی فوج وہاں تھی جس کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ فرما رہے تھے۔ حضرت عمرؓ کو ان کے بارہ میں خدشہ پیدا ہوا۔ انہوں نے آپ کو لکھا کہ اگر میرا یہ خط شام کو ملےتو صبح سے قبل میرے پاس چلے آؤ اور اگر صبح کو ملے تو شام سے قبل چلے آؤ، مجھے آپ سےایک ضروری کام ہے۔حضرت ابوعبیدہؓ معاملہ فہم تھے فوراً اس کی تہ تک پہنچ گئے کہ آپ مجھےطاعون سے بچانا چاہتے ہیں،اس لیے بڑے باادب انداز میں معذرت لکھ بھیجی کہ مجھےحضور کا خط ملا ہے اور اس سےمَیں آپ کا قصد جان گیا ہوں، لیکن مَیں چونکہ اس وقت مسلمانوں کی فوج میں ہوں، میں ان کو اس مصیبت کے وقت چھوڑ نہیں سکتا، سو ازراہ کرم مجھے اس حاضری سےاجازت مرحمت فرمادیجیے۔ جب حضرت عمرؓکو آپ کا خط ملا تو وہ رو دیے۔لوگوں نے پوچھا کہ کیا حضرت ابو عبیدہؓ کی وفات کی خبر آئی ہے؟تو آپ نےفرمایا کہ اگر نہیں بھی آئی تو آ جائے گی کہ اس بیماری سے نجات کی کوئی راہ نہیں۔مسلمان فوج کے بہت زیادہ عظیم لوگ اس میں شہید ہو گئے۔
حضرت ابوعبیدہؓ اردن کے ایک چھوٹے سے گاؤں غور میں دفن ہوئے۔ وفات کے وقت آپ کی عمر58 برس تھی۔آپؓ کی نماز جنازہ حضرت معاذ بن جبلؓ نے پڑھائی۔
(منقول)
کیا آپ نے کبھی خلا میں سرخ رنگ کا گلاب دیکھا ہے؟
چودہ سو سال پہلے، جب ٹیلی سکوپ نہیں تھی، اللہ نے سورۃ الرحمٰن میں فرمایا:
فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ وَرْدَةً کَالدِّھَانِ
پھر جب آسمان پھٹ جائے گا، تو وہ سرخ گلاب کی طرح ہو جائے گا، جیسے تیل کی تلچھٹ
آج ناسا نے تین ہزار نوری سال دور ایک ستارے کے پھٹنے کا منظر دیکھا ہے،اس کا نام Cat's Eye Nebula ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ہو بہو ایک سرخ گلاب کی طرح نظر آتا ہے
حضور ﷺ کی ولادت پر ہونے والے معجزات
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی ولادت کے سلسلے میں آیات و کرامات بے شمار ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایوان کسریٰ لرز اٹھا اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے اور دریائے سادہ خشک ہو گیا اور اس کا پانی زیر زمین چلا گیا اور رود خانہ سادہ جسے وادی سادہ کہتے ہیں جاری ہو گیا حالانکہ اس سے قبل اسے منقتع ہوئے ایک ہزار سال گزر چکا تھا اور فارسیوں کا آتشگدہ بجھ گیا جو کہ ایک ہزار سال سے گرم تھا۔
(مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۷)
جب حضور ﷺ پیدا ہوئے تو اللہ تعالٰی نے آپ کو پاکیزہ بدن اور تیز بو کستوری کی طرح خوشبودار اور ختنہ شدہ، نان بریدہ، چہرہ نورانی ، آنکھیں سرمگیں دونوں شانوں کے درمیان مہرہ نبوت درخشاں پیدا فرمایا۔ (سیرت رسول عربی ص ۳۴)
حضور ﷺ کی ولادت پر اللہ تعالٰٰی نے آپ کی والدہ ماجدہ پر ایک روشن بادل ظاہرفرمایا کہ جس میں روشنی کے ساتھ گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اڑنے کی آوازیں تھیں اور کچھ انسانوں کی بولیاں تھیں اور اعلان ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرق و مغرب اور سمندروں کی بھی سیر کراؤ تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام اور حلیہ اور ان کی صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق یعنی جن و انس ملائکہ اور چرندوں پرندوں کے سامنے پیش کرو اور تمام انبیاء اکرام کے اخلاق حسنہ سے مزین کرو اور اس کے بعد وہ بادل چھٹ گئے ستارے قریب آ گئے اور منادی نے اعلان کیا کہ واہ واہ کیا خوب محمد ﷺ کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا اور کائنات عالم کی کوئی چیز باقی نہ رہی کہ جو ان کے قبضہ اقتدار و غلبہ اطاعت میں نہ ہو پھر تین شخص نظر آئے ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا دوسرے کے ہاتھ میں سبز زمرد کا طشت تیسے کے ہاتھ میں ایک چمکدار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبی دھو کر حضور کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت لگا دی پھر آپ کو ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر آپ کی والدہ ماجدہ کے سپرد کر دیا گیا۔
(مدارج النبوۃ ج ۲ ص ۲۴، ۲۵، ۲۶، الخصائص الکُبریٰ ج ۱ ص ۹۷۔ سیرت مصطفٰی ص ۵۹، ۶۰۔ قصص الانبیاء ص ۴۰۱)
ولادت شریف کے وقت غیب سے عجیب و غریب امور ظاہر ہوئے اور آپ ﷺ کے نور سے حرم شریف کی پست زمین اور ٹیلے روشن ہو گئے اور آپ کے ساتھ ایک ایسا نور خارج ہوا کہ شام کے محلات نظر آ گئے اور آسمانوں پر پہلے شیاطین چلے جاتے تھے اور کاہنوں کو بعض مغیبات کی خبر دے دیتے تھے اور وہ لوگوں کو کچھ اپنی طرف سے ملا کر بتا دیا کرتے تھے لیکن حضور ﷺ کی آمد سے آسمانوں میں ان کا آنا جانا بند ہو گیا اور آسمانوں کی حفاظت شہاب ثاقب سے کر دی گئی تو اس طرح وحی اور غیر وحی میں غلط ملط ہو جانے کا اندیشہ جاتا رہا۔
شہر مدائن میں محل کسریٰ پھٹ گیا اور اس کے چودی کنگرے گر پڑے اور فارس کے آتشکدے ایسے سرد پڑ گئے کہ ہر چند ان میں آگ جلانے کی کوشش کی گئی مگر نہ جلتی تھی ۔ بحیر سادہ جو ہمدان و قم سے درمیان ایک بلکل خشک ہو گیا وادی سادہ جو شام و کوفہ کے درمیان تھی جو کہ بلکل خشک ہو پڑی تھی لبالب بہنے لگی۔
(سیرت رسول عربی ص ۳۶، دین مصطفیٰ ص ۸۵)
واللہ اعلم بالصواب ۔اگر کوئی کمی بیشی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین۔
اس پوسٹ کے لیے ایک ہی گزارش ہے کہ میرے اور آپ کے کریم آقا ﷺ کی ذات پاک پر درود پاک کا نظرانہ پیش کریں دل اجازت دے تو تو یہ محبت کا پیغام دوسروں کے ساتھ شئیر کریں۔
قرآن میں ہےکہ جس دن سورج لپیٹ دیا جائے گا،سائنس کہتی ہے ایک تارہ اپنے آخری دن میں Collapse ہوکر خود کو invert کھینچ لیتا ہے،قرآن کہتا ہے پہاڑ روئی کے گالے کی طرح اڑ کر بکھر جائیں گے،جیالوجی کہتی ہےجب planet کی کرسٹ unstable ہوتی ہے تو پہاڑ ٹوٹ کر بخارات بن جائیں گے،سمندر heat کی وجہ سے اوشن literally بھاپ بن کر آسمان کی جانب اٹھتے ہیں،قرآن کہتا ہے ہم آسمان کو ایسے لپیٹ دیں گےجیسے کوئی رجسٹر لپیٹتا ہے،سائنس کہتی ہے اگر ڈارک انرجی ریورس ہوجائے تو پورا یونیورس فولڈ ہوکر واپس زیرو پر جاسکتا ہے
جب کوئی چیز مفت ملے تو سمجھ لیں کہ اس کی قیمت ہمیں کہیں نہ کہیں ضرور چکانی پڑتی ہے۔
نوبل انعام یافتہ (امن 1984) ڈیسمنڈ ٹوٹو نے ایک بار کہا تھا:
"جب عیسائی مشنری افریقہ آئے تو ان کے پاس بائبل تھی اور ہمارے پاس زمین۔
انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے لیے دعا کرنے آئے ہیں۔
ہم نے آنکھیں بند کر لیں۔
جب آنکھ کھلی تو ہمارے ہاتھ میں بائبل تھی… اور ان کے ہاتھ میں ہماری زمین۔"
بالکل اسی طرح جب سوشل نیٹ ورکنگ سائنس آئی، تو ان کے پاس فیس بک اور واٹس ایپ تھے اور ہمارے پاس آزادی اور رازداری۔
انہوں نے کہا: یہ سب مفت ہے!
ہم نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور جب آنکھ کھلی تو ہمارے پاس فیس بک اور واٹس ایپ تھے… اور ان کے پاس ہماری آزادی، ہماری رازداری، اور ہماری ذاتی معلومات۔
دنیا کا اصول سادہ ہے:
جب کچھ مفت ملے تو اس کی اصل قیمت ہمیشہ آزادی، رازداری اور اختیار سے ادا کرنی پڑتی ہے۔
منقول
چالیس برس کی عمر کے بعد حضور نے کوئی دنیاوی کاروبار نہیں کیا ،بہت بڑے تاجر تھے،امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس،شام قافلہ لیکر جارہے،وہاں سے لےکر آرہے،یمن قافلہ لیکر گئے،لیکر آئے،الخبر میں پتا چلتا بہت بڑا تجارتی میلہ لگا،وہاں جارہے لیکن جب حکم آگیا کہ اے لحاف میں لپٹ کر لیٹنے والے،کمر کس لو،لوگوں کو خبردار کرو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر تم سے حساب لیا جائے گا،جنگیں اس حال میں لڑیں کہ فاقوں سے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے،کیاحضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا دل نہیں چاہتا تھا کہ ان کا بھی اچھا سا گھر ہو،بچے ،بیوی کے ساتھ اچھی زندگی گزاریں؟
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ❤️
جامن کی لکڑی مطلب جامن کے درخت کی ٹہنی اگر پانی کی ٹینکی میں ڈال دیں تو پانی قدرتی طور پہ فلٹر ہوتا رہے گا ، پانی کو فنگس، کائی اور بیکٹیریا سے محفوظ رکھے گی