ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارضِ خدا کے کعبے سے
سب بُت اُٹھوائے جائیں گے
#عمران_ہی_ہوگا@ImranKhanPTI
بدقسمتی سے حکومت نے ایران جنگ کو ریوینیو شارٹ فال ختم کرنے کے لیے ایک Opportunity کے طور پر استعمال کیا اور صرف جنگ کے ڈیڑھ مہینے میں عوام اے 180 ارب بٹور لیے
🚨Tucker Carlson just went off on Trump on Easter morning.
The full statement:
“No decent person mocks other people’s religions. You mock other people’s faith — you mock the idea of faith itself. We are not God. Only if you think you are do you talk this way.”
“This is not a mockery of Islam. This is a mockery of Christianity. To send a tweet with the F word on Easter morning promising the murder of civilians and then saying ‘praise be to Allah’ — you are mocking every other Christian and me.”
“That is evil. That is an intentional desecration of beauty and truth — which is the definition of evil.”
ڈاکٹر معید پیرزادہ نے کلمہ پڑھ کر کہا، عمران خان جیسا ایماندار انسان نہ پاکستان کی سیاست میں پیدا ہوا ہے اور نہ پیدا ہوگا۔
اس شخص کی شخصیت میں اتنی کشش ہے کہ اسے پیسوں کی کوئی بھوک نہیں ♥️
چلو اب سعدیہ امام کے خلاف بھی شروع ہو جاو، اسے بھی شو کاز نوٹس بھجواو، ڈائریکٹرز کو فون کرو کہ کوئی اسے اپنے ڈرامے میں کاسٹ نہ کرے، چیک کرو اگر ایکٹنگ کے لیے بھی کوئی سینٹرل کنٹریکٹ ہوتا ہے تو اسے بھی منسوخ کراو۔ چلو شاباش BanSadiaImam کا ٹرینڈ بناو، جلدی کرو
مبارک ہو اسلامک جمہوریہ پنجاب بن رہی ہے۔ وفاقی ایف آئی اے نہی چاہیے بلکہ اپنی سائبر کرائم فورس ہو گی۔ جس نے بھی اک تنقیدی ٹویٹ کیا یا ناپسندیدہ یو ٹیوب کیا اسے رات و رات اٹھا لیا جائے گا۔ اپنی جیل ہو گی اور اپنی عدالت۔ پہلی کیا کسر رہ گئی ہے۔ جس کو چاہے پنجاب پولس چادر اور چار دیواری کو روند کر اٹھا لیتی ہے۔ پولس مقابلے میں سیاسی مخالفوں کو ٹھوکنا پالیسی بن چکا ہے۔ افسران ترقی اور حکمرانوں کو خوش کرنے کے لئے ہر قانون توڑنے کے لیے ہر وقت تیار۔ سانوں موقع دیو باجی۔ سی سی ڈی گھر کی لونڈی ہو۔ PERA پیرا آ چکی ہے۔ جس کو مرضی ٹھوکا جا سکتا ہے۔ پیکا کو پورا استعمال جاری ہے۔ مرضی کی آئینی عدالتیں آ چکیں۔ ایف آئ اے کے برابر بھٹو کی طرز پر ایف ایس ایف چکی ہے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے نام پر۔ کوئ روکنے والا ہے ان کو۔ کتنا ظلم کرنا چاہتے ہیں یہ آخر!
اقرار الحسن ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ زبانی حلف اٹھا کر اعلان کر رہے ہیں کہ وہ خود اس جماعت کا کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی حکومتی منصب حاصل کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو ایک ایسی سیاسی جماعت فراہم کرنا ہے جوموروثيت جاگیرداری اور سرمایہ داری کے اثرات سے پاک ہو اور ایک حقیقی انقلاب کی راہ ہموار کرے۔
آج کا نوجوان بلا شبہ سمجھدار ہے، لیکن اقرار الحسن کی باتیں سن کر مجھے اپنی جوانی کے دن یاد آ گئے۔ 1989 میں، جب میں صرف سترہ سال کا تھا، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ کا وجود نہ تھا۔ موبائل فون صرف اشرافیہ کے پاس ہوتے تھے۔ معلومات کا ذریعہ صرف کتابیں، اخبارات، ریڈیو پاکستان، یا پی ٹی وی تک محدود تھا۔ اس دور میں ہم نے بھی ایسی ہی بلند و بانگ دعووں کی باتیں سنیں۔ اقرار الحسن تو صرف زبانی حلف لے رہے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ ایک شعلہ باز مقرر قرآن ہاتھ میں اٹھا کر موچی دروازہ لاہور میں ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان یہ کہہ کر کررہا ہے وہ کبھی کسی حکومتی منصب کا امیدوار نہیں بنے گا ۔ وہ رہنما ڈاکٹر محمد طاہرالقادری تھے، جن کی اس وقت عمر 38 سال تھی۔ وہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے قیام کا اعلان کر رہے تھے۔
ان کا پروگرام کتنا انقلابی تھا! کیا للکار تھی، کیا نعرے تھے، اور کیا جذبات تھے! مجھ جیسے ہزاروں نوجوانوں نے ان کے وژن پر یقین کرتے ہوئے اپنی زندگیاں اس مقصد کے لیے وقف کر دیں۔ ہم نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ہمارے خاندانوں کے بزرگ اور تجربہ کار افراد ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں، لیکن ہم نے ان کی باتوں کو شکست خوردہ ذہنیت قرار دیا۔ ہم سمجھے کہ وہ انقلاب کی طاقت کو نہیں جانتے۔
وقت گزرتا گیا ڈاکٹر صاحب نے آہستہ آہستہ اٹھائے گئے حلفوں کا کفارہ دینا شروع کیا اور ہم بھی وزیر اعظم پروفیسر کے نعروں پر بھنگڑا ڈالتے رہے۔ ۔ 1989 سے 2019 تک تیس سال گزرے۔ اس عرصے میں کتنے الیکشن لڑے گئے، کتنی مہمات چلیں، کتنے لانگ مارچ ہوئے، کتنے منصوبے بنے، کتنی قربانیاں دی گئیں، کتنے کیریئر داؤ پر لگے، اور کتنے لوگ شہید ہوئے—یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن 2019 میں ڈاکٹر صاحب نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب لانا تو کبھی ان کی ذمہ داری تھی ہی نہیں؛ یہ تو بس ان کی خواہش تھی۔ ان کا اصل مشن تو دین کی تجدید تھا۔
انہوں نے بھی نعرہ لگایا تھا
یہ مہر تاباں سے کوئی کہہ دے کہ اپنی کرنوں کو گن کر رکھ لے
میں صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوں
یعنی میں نوجوانوں نے مشتمل نئی قیادت قوم کو تیار کر کے دوں گا۔ سیاست کو روایتی سیاستدانوں کے چنگل سے آزاد کرواوں گا۔
لیکن سیاسی دور میں وہ کبھی غلام مصطفے جتوئی سے سبق لیتے رہے تو کبھی نوابزادہ نصراللہ خان کے ساتھ 1992 میں ایک سیاسی اتحاد کے وائس چیرمین بن گئے۔ کبھی وہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ملکر عوامی اتحاد میں شریک ہوئے تو کبھی جنرل مشرف کے ریفرنڈم میں ہاں ملک کو آپ کی ضرورت کے بینرز لگواتے رہے۔ کبھی الطاف بھائی کی مدد سے عوامی مارچ کے ذریعے انقلاب کے متمنی رہے تو کبھی جنرل ظہیر الاسلام کی سرپرستی میں گجرات کے چوھدری برادران کے ساتھ ملکر انقلاب مارچ میں ستر دنوں تک اسلام آباد براجمان رہے۔ لیکن ان کے 1989 میں قرآن اٹھا کر حلف نے ہمیں اتنا عقیدت مند بنائے رکھا کہ ہم اس سب کو مصلحت و حکمت سمجھ کر ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو رد کرتے رہے۔
یہ تو بھلا ہو قبلہ ڈاکٹر صاحب کا انہوں نے 2019 میں سیاست سے ریٹائرمنٹ اور انقلاب سے دستبرداری کا اعلان کردیا اور ہمیں بھی خوابی دنیا سے باہر دھکیل دیا ورنہ شاید ہم آج بھی کسی ہدہد بے سدھ کر طرح ان کی موجودہ خاموشی کو ایک حکمت قرار دے رہے ہوتے اور عمران خان کو راہ انقلاب کی آخری رکاوٹ سمجھ کر اس کے بعد ایک نئے انقلابی مرحلے کا چورن بیچ رہے ہوتے۔
لیکن حقیقت کیا ہے؟ دیکھنے والے بتاتے ہیں، اور ہم جیسے کارکن گواہی دیتے ہیں کہ عوام کی تقدیر بدلی یا نہ بدلی، ڈاکٹر صاحب اور ان کی نسلوں کے لیے ایک "ہمہ گیر انقلاب" ضرور آ گیا۔ 1989 میں وہ قرض لے کر تعمیر کردہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک کنال کے گھر کے مالک تھے۔ انہوں نے نعرہ لگایا تھا کہ جس کا ایک کنال سے بڑا گھر ہوگا، اس سے وہ گھر چھین لیا جائے گا، کیونکہ جب کروڑوں عوام کے سر پر چھت نہ ہو تو بڑے محلات رکھنا حرام ہے۔ لیکن آج ان کے بیٹوں کے پاکستان، آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ، اور ترکی میں کروڑوں ڈالر کے اثاثے اور کاروبار ہیں۔ دنیا بھر میں منہاج القرآن کے نام پر بنائے گئے اربوں کے اثاثہ جات ان کے بیٹوں اور پوتوں کی بائیں جیب میں ہیں۔
ہم نے تیس سال بعد سمجھا کہ وہ "حقیقی انقلاب" کیا تھا، جس کے لیے ہم جیسے ہزاروں نوجوانوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال وقف کر دیے۔ ہم نے ڈاکٹر صاحب کے قرآن پر اٹھائے گئے حلف اور قسموں پر بھروسہ کیا تھا۔ لیکن قسموں کا کیا؟ ایک جھوٹی قسم کا کفارہ تین روزے ہیں، اور وہ بھی قسم توڑنے والے نے اپنی مرضی سے رکھنے ہیں۔ وہ چاہے تو کہہ دے کہ روزے رکھ لیے، یا کینیڈا اور یورپ کے دسمبر کے مختصر دنوں میں سحری کے بعد 8 بجےسو جائے، 3 بجے اٹھ کر ظہر و عصر جمع کر کے پڑھ لے، اور شام چار بجے افطار کر لے۔
اس لیے، میری قوم کے نوجوانو! حلفوں اور قسموں پر مت جاؤ۔ ہم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس حدیث کو بہت دیر سے سمجھا جس کے مطابق جھوٹے آدمی کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بات بات پر قسمیں اٹھاتا ہے۔ آپ کوشش کریں کہ یہ سبق ابھی سیکھ لیں۔
نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ وعدوں اور قسموں کی بجائے سیاسی رہنماؤں کے اعمال اور نتائج کو پرکھیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ بلند و بانگ دعووں سے زیادہ کردار اور عمل اہم ہیں۔
ہماری ذندگی کے سیاسی و تحریکی تجربات و مشاہدات تو ہمیں یہ بتاتے ہيں کہ اگر انقلاب و تبدیلی کسی رہنما کے ذریعے آسکتی ہے تو وہ رہنما وہ مرد حر ہے جو دو سالوں سے جیل میں اس لئے کہ اس نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اس کے ماضی پر آپ دس سوال اٹھا سکتے ہیں لیکن گزشتہ 3 سالوں سے اس اور اس کے مخلص کارکنوں کی استقامت و جوانمردی اور بے مثال قربانیوں کا انکار نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں حقیقی تبدیلی تب ہی ا سکتی ہے جب 70 سالوں سے پاکستان پر مسلط اسٹبلشمنٹ کے پنجوں سے ملکی نظام آزاد ہوگا۔ یہ تسلط ختم ہوگا تو کسی جمہوری جماعت کے قیام کی راہ نکلے گی ورنہ اب تک تو حکومت اور اپوزیشن میں شامل سب جماعتیں اس اسٹبلشمنٹ کی نظر التفات کی امیدوار ہوتی ہیں۔ اور اس 70 سالہ تسلط کو اگر کسی نے صحیح معنوں میں چیلنج کیا ہے تو وہ قیدی نمبر 804 عمران احمد خان نیازی نے۔ اگر آپ اس کا ساتھ نہیں دے سکتے تو بہتر ہے کہ فی الوقت چپ کرکے اپنے کیرئیر پر توجہ دیں کیونکہ اقرار الحسن بھائی ہوں یا شاہد خان آفریدی ان میں سے تو کوئی اسٹبلشمنٹ کے لیفٹیننٹ کو بھی چیلنج نہیں کرنے کی سکت نہیں رکھتا!
ڈاکٹر رحیق احمد عباسی
27 اکتوبر 2025
5 myths about Imran Khan that should have been busted years ago.
Since a lie on-repeat becomes a given truth, let me correct the record on this:
1. Imran Khan is a "populist" leader
There is a difference between a popular and a 'populist' leader. You can be popular and not populist. In fact, if we go by Imran Khan's record, all his life he has taken anti-populist and contrarian positions even when he had to pay dearly for them: Building a free cancer hospital, peace dialogue with Taliban, going against the drones, empathy for the Afghan refugees and going to Russia weren't based on popular sentiment but definitely the morally right decisions to take. Populism is part of the right-wing western discourse which is anti-immigration and diversity; Imran Khan represents the exact opposite.
2. Imran Khan was made by the Army
Unless the Army taught him to bat and throw yorkers, win a World Cup, built his cancer hospitals, injected empathy in him for the people, and trained him to never give up fighting, there is none whatsoever contribution of the Army in Imran Khan's rise. He did benefit from the falling out of the Army with Nawaz Sharif, but to say he is a product of the army is pretty laughable. Even until 2018, Shehbaz Sharif was Gen Bajwa's favourite candidate for the PM, not Imran Khan. IK, as a PM, was a product of circumstances; he made himself inevitable. He was a big global name, long before he touched politics.
3. Imran Khan is anti-West
Again, one of the myths his 'liberal' detractors have pushed, by going around the world and presenting IK as an Islamist and anti-West leader. Imran Khan has always had appreciation for the West, but has no appreciation or tolerance for Western imperial wars, and human rights violations at scale. He wants a respectful engagement with the West, not serve as its tool for oppression and extraction. This is a postcolonial position on global politics and social reality; while others write about it, he actually practices it! Funny, that most Pakistani liberals celebrate such anti-imperialist leaders abroad, in the Middle East and elsewhere, but hate the similar traits in a leader back home.
4. Imran Khan is a narcissist
Narcissists don't build cancer hospitals, or have empathy for the poorest, or fight against monstrous powers while paying dearly. Narcissists are weak and they cut deals at first sign of pressure. Imran Khan is a larger than life leader, which can be confused with narcissism.
5. Imran Khan does not believe in a compromise with the other side.
Again, this goes contrary to all the data. He is way more compromising and believes in course correction than anyone else. He will talk to anyone for the betterment of people of Pakistan but he will neither be bullied and will not succumb to pressure, and especially not allow the rot to be shrugged under the rug in the name of a 'compromise'. He will make any compromise, but not the one that goes against his core values and principles.
ن لیگ کی حکومتوں نے ساہی وال کول پلانٹ، نندی پور پلانٹ اور اورنج ٹرین ایسے منصوبے بیرونی مہنگے قرضوں پر بنا کر پاکستان کو قرضوں کے پہاڑ تلے دبایا۔ ان کا خمیازہ عوام آئی ایم ایف کے مزید قرضوں اور مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
میری ذاتی رائے میں، یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ پاکستان میں بھاری عوامی حمایت ہونے کے باوجود، ایک بڑے صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی اور سینیٹ میں اچھی تعداد میں منتخب اراکین ہونے کے باوجود، عمران خان کے بیٹوں کو اپنے باپ کی ناحق قید اور اُنکی رہائی کی تحریک کے لئے پاکستان آنا پڑ رہا ہے— افسوس صد افسوس!
مجھ سے کوئی یہ فضول بحث نہ کرے کہ وہ انکے بیٹے ہیں، اپنے باپ کے لئے ہی تو آئینگے تو اِس میں کیا برائی، وغیرہ وغیرہ!
اچھے حالات ہوں، اپنی ٹکٹوں، وزارتوں اور عہدوں کی بات ہو تو لوگوں کی بکواس بند نہیں ہوتی کہ موروثیت فلاں تے اقربا پروری ڈِمکاں — اور جب حالات سخت ہوں، تو بُزرگ بہنوں اور بچّوں کو آگے کردیا کہ جی سب تسی کرو آسی کچھ نہیں کرنا!
کیا عمران خان پاکستان میں سیاست اپنی بیوی، بچّوں اور بہنوں کے لئے تاج محل بنانے کے لیے کررہے تھے؟ کیا عمران خان 703 دن سے قید تنہائی میں اپنے بچّوں کے لئے فیکٹریاں لگانے کے لیے ہیں؟!!!
خدا کی قسم، کرتوتیں اور منافقتیں دیکھ کر اب بولنے کا بلکل بھی دل نہیں کرتا ہے؛ اب عمران خان کی بہنیں اور بچّے دلوائیں گے حقیقی آزادی؟!!! اگر ایسا ہی ہے تو پھر لوگ غلام ہی رہیں!
ہم جب نوجوان تھے تو سوچا کرتے تھے کہ پاکستان بھی پندرہ بیس سال میں جنوبی کوریا، سنگاپور کی طرح معاشی ترقی کرتا جائے گا۔ بتدریج ایک جمہوری ملک بن جائے گا لیکن۔۔۔۔
وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾
(آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں)اللہ اللہ! حضرت نورانی کا کیا مقام تھامگر اولاد اتنی لاعلم ،غبی ؟کم از کم قرآن مجیدتو ترجمے کے ساتھ پڑھا جاتے۔
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
آنکھ کھولی تو کاشتکاری ہمارا پیشہ تھا۔ شاید کئی ہزار سال سے یقیننا کئی سو سال سے۔ معقول سی زرعی زمین۔ دو ڈھگے تین چار بھینسیں دو تین گائیں کبھی ایک کبھی دو گھوڑیاں ایک عدد کھوتی۔ کچھ زمین نہری پانی کی رسائی سے دور تھی تو وہاں ایک کھوہ میں پتریروں کے ساتھ سانجھ گیرا۔ وساخ تک بہار جوبن پر رہتی۔ ہر طرف سبزہ۔گرمی کی شدت قابل برداشت۔ ہمیشہ سے میرا پسندیدہ موسم۔
وساخ شروع ہونے سے پہلے لوہار سے درانتیاں تیز کروا لیتے۔ فجر کے وقت وہ اپنی بھٹی گرم کرلیتا۔ رات گئے تک کاشتکار آتے رہتے اور وہ دندنے نکالتا رہتا۔ جب گندم اتنی خشک ہوجاتی کہ ناڑ دوہرا کرنے سے کڑک کی آواز کیساتھ ٹوٹ جاتا تو کٹائی شروع ہوجاتی یہ وساخ کی پہلی دوسری تیسری تاریخ ہوتی ۔ دیسی گندم کاشت ہوتی تھی۔ کمر تک آتی ہوئی۔ میکسی ، چھیاسی ، کائنات ، اور پتہ نہیں کتنے ناموں کی گندم میرے دیکھتے ہوئے آئی اور دیسی گندم کی کاشت ختم ہوئی۔ اب تو ڈھونڈے سے نہ ملے۔
دوستوں ، رشتہ داروں ، تعلق داروں ، ورتن والوں کی منگ ہوتی تھی۔ بیس تیس لوگ ایک کی فصل ، پھر دوسرے کی فصل پھر تیسرے کی فصل سنبھالتے چلے جاتے۔ جس روز منگ ہماری طرف آتی وہ سال کا مصروف ترین دن ہوتا تھا۔ بڑے بڑے کڑاہے نکالے جاتے۔ ان میں دیسی مرغ پکتے اور ساتھ گڑ کا حلوہ۔ کئی سالوں تک ایک چھوٹی سی درانتی میری بھی تھی۔ بار بار منگ کے ساتھ گندم کاٹنے کو بیٹھتا۔ پھر چند ہی منٹوں میں دل چڑھ جاتا تو پانی لانے کے بہانے ، روٹیاں لانے کے بہانے اٹھ کھڑا ہوتا۔ بزرگ ، بچے اور بعض حالات میں خواتین اسی گندم ، ڈھب یا پرالی کی رسیاں بنا کر گندم کی گڈیاں بناتے اور گندم سمیٹتے چلے جاتے۔
تھریشر آرہی تھی۔ پھلے ختم ہورہے تھے۔ جب ساری گندم کاٹ لی جاتی تو تھریشر کا بندوبست کیا جاتا۔ تب ابھی اپنا ٹریکٹر نہیں خریدا تھا۔ گہائی کا دن ایک تہوار کی مانند ہوتا تھا۔ کیونکہ اس روز آدھے سال کی محنت کا پھل آنکھوں کے سامنے آتا تھا۔ دیسی گندم کی پیداوار تھوڑی ہوتی تھی۔ ایکڑ سے پندرہ بیس من۔ نئے بیج آئے تو تیس چالیس من ہونا شروع ہوئی۔ یہ بھی اپنی طرز کا انقلاب تھا۔ تھریشر بھی انقلاب تھا۔ ٹریکٹر بھی انقلاب تھا۔ جتنے انقلاب میری نسل نے دیکھے ہیں اتنے پانچ ہزار سال کی تہذیب نے نہ دیکھے ہوں گے۔ ہاتھوں درانتی سے سمارٹ فون کا پانچ ہزار سالہ سفر پچھلے تیس چالیس پچاس سال میں طے ہوا ہے۔ میں انہی چالیس پچاس سالوں کا شاہد ہوں۔ خیر آگے چلیں۔
کمہار دانے کھوتیوں پر لاد کر گھر لے آتے اور ہمارا انتظار ختم ہوجاتا۔ گندم سمیٹی جاتی۔ صاف ہوتی رہتی۔ مختلف دیہی اسٹیک ہولڈرز میں تقسیم ہوتی۔ سنبھالی جاتی۔ بھڑولوں میں ڈالی جاتی۔ ہم ماہر چور کا روپ دھار لیتے۔ جس کا کام گھر سے دانے چوری کرکے ہٹی سے پتاسے ، ٹکیاں ، مرونڈااور ولایتی بسکٹ لینا ہوتا تھا۔ گاوں میں پھیری والوں کے پھیرے بڑھ جاتے۔ ایک جھولی گندم کی دوقلفیاں۔ دو جھولی گندم کا بڑا لفافہ نمکو یا پتیسے کا۔ بہت احتیاط کرتے کہ بھڑولے سے دانے چوری کرتے وقت نشان ختم کردیے جائیں۔ کبھی وہ رہ جاتے۔ کبھی کپڑوں پر قلفی کا نشان لگ جاتا۔ کبھی جیب سے بسکٹوں کا بھور برآمد ہوجاتا۔ بہت زیادہ چوری کرتے تو ہٹی والا ہی یا کوئی پڑوسی ہٹی کے پھیرے لگاتا دیکھ لیتا تو شکایت لگا دیتا۔ چور پکڑا جاتا اور سزا پاتا۔
سب ختم ہوا۔ مجھے زمانے سے بس ایک گلہ ہے۔ جو رسم و رواج موسم فصلیں سینکڑوں سال میرے جینز میں چلے آئے وہ میرے آنے تک بدل کیوں گئے؟دنیا یہ ساری ترقی میرے مرنے کے بعد کرلیتی یا میں سو پچاس سال پہلے پیدا ہوجاتا۔اس موسم میں سارا دن گندم کی کٹائی کرکے کسی کھیت کے کنارے کسی کنوئیں کی منڈیر پر کسی ٹاہلی کے نیچے بیس لوگوں میں بیٹھا روٹیاں کھاتا رہتا اور کسی بے نام سے سال میں مر جاتا۔
Something amazing happened in Nebraska. 💛
A young man showed up to an auction, hoping to buy back his family's 80-acre farm that they’d lost during hard times. But with over 200 local farmers in attendance, he didn’t stand much of a chance... or so he thought.
What happened next? Nobody bid.
Not one person.
They all stayed silent — letting him buy the land back without competition.
No drama. No applause. Just quiet, powerful solidarity.
It wasn’t about profit. It was about doing the right thing.
Faith in humanity: restored. 🌾❤️
ایسے ہی ناقابل تردید ثبوت و شواہد لے کر دو سال سے بیٹھے صرف بیانیہ بنا نے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ عدالتوں میں گونگے ہو جاتے ہیں۔یئیں یئیںں کرتے رہتے ہیں۔
Islam is not a new religion. It is the religion of Adam, the religion of Noah, the religion of Abraham, the religion of Isaac, the religion of Jacob, the religion of Moses, and the religion of Jesus Christ. It is also the religion of the last Prophet, Muhammad (ﷺ).
Only fools send their children to America to be educated. Only fools bank their personal or sovereign wealth in America - or Europe - and expect it to be secure. Build your own universities and your own banks. Stop worshipping the west. Have some dignity.