پائی جی! ڈڈیال میں خواجہ مہران کا گھر مسمار ہوا تو سمجھو ہمارا گھر مسمار ہوا، ایکشن کمیٹی سے جڑے ہر فرد کا گھر مسمار ہوا۔بھرپور ردِعمل آئے گا۔ ہمارے پاس کوئی کوٹھیاں اور بنگلے نہیں جن کی ہمیں فکر ہو۔
#ajkrightmovement@AJEnglish@BBCUrdu@UNHumanRights@UN@WIONews
میری شوکت نواز میر صاحب سے ملاقات صرف 1 انٹرویو کیلئے مظفرآباد ہوئی تھی، آج وہ مشکل میں ہیں اور اگر یہ بات سچ ہے کہ مظفرآباد میں کوئی وکیل اُنکا مقدمہ نہیں لے رہا (مجھے کنفرم نہیں) تو میں بغیر معاوضہ اُنکا کیس ہر عدالتی فورم پر بطور فوجداری وکیل لڑنے کو تیار ہوں.@Ajk_Updates_
شوکت نواز میر صاحب کو گزشتہ رات ہسپتال سے واپس لے جایا گیا ہے۔ آج ان کی پیشی ہے، انہیں ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے۔
اگر انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا تو متعلقہ حکام عوام کو ان کی صحت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کریں۔
اور اگر مظفرآباد کے صحافی اور وکلا واقعی زندہ ہیں تو مظفرآباد میں بیٹھے ذمہ دار حکام سے سوال کریں کہ 30 جون سے زیرِ حراست شخص کو آج تک عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟ اس کی صحت کے بارے میں واضح معلومات کیوں نہیں دی جا رہیں؟ اور اہلِ خانہ کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی؟
6 ستمبر، باغ چتر ٹوپی کوپرہ کا سانحہ — اور اس کے بعد پیش آنے والے مبینہ واقعات نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔
6 ستمبر کو باغ چتر ٹوپی کوپرہ کے مقام پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک ایف سی اہلکار اور ایک ایکشن کمیٹی کے کارکن کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بلکہ انسانیت، مذہبی اقدار اور قبر و میت کی حرمت پر ایک سنگین سوال ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ 6 ستمبر کے واقعے اور اس کے بعد میت کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ سلوک کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔میت سے دشمنی نہیں کی جاتی۔
میت سے بدلہ نہیں لیا جاتا۔
میت کی توہین بہادری نہیں