@Ahmad_Noorani@HaqaiqDotCom@FactFocusFF نورانی اللہ نے تمہارا نور چھین لینا ہے جمعہ کے دن یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر۔مالک اپنی جگہ کرائے پر دے سکتے اورسرکاری ملازمین بھی یہ حق رکھتے ہیں، کرائے دار وہاں پکوڑے بیچے یا سموسے کیا فرق پڑتا ہے۔۔کوئی کسی کو اپنی کھانسی نہیں دیتا تم بول رہے کمرشل جگہ کا کرایہ لے رہے کمال ہے
@Ahmad_Noorani@HaqaiqDotCom@FactFocusFF نام نورانی ہے پر کرتوت تمہارے کالے ہیں۔ تم جو fact focus پہ کہا کہ الیکشن کمشنر کرایہ لے رہے ہیں تو اب یہ کہ رہے مفت کے پیسے لے رہے۔دوغلے پن کی بھی کوئی حد ہوتی ہے مالکان کمرشل جگہ مفت میں دیں تم جیسوں کو کیا جبکہ فٹ کےحساب سے کرایہ ہے لاہور میں۔
@saqibbashir156 الیکشن کمیشن اپنا ریکارڈ اپڈیٹ مسلسل کر رہا ہوتا ہے نہ کرے تو آپکے 4 جگہ ووٹ ہوں پھر آپ نے ہی رونا کہ ادارے کام نہیں کرتے۔۔ جب کرتے تو بھی آپکو مسئلہ ہے۔۔ ممبران آئین کے پابند نہ ہوں تو کبھی اتنی جاہلانہ تنقید نہ سنیں آپ بھی قانون کا احترام سیکھ لیں
@writetofahim خبر میں یہ تاثر دینا درست نہیں کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات یا کسی ریفرنڈم کی تیاری کر رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اور پولنگ اسٹیشنز کی فہرستیں وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرنا الیکشن کمیشن کی معمول کی انتظامی کارروائی ہے، اسے کسی اور مقصد سے جوڑنا گمراہ کن تاثر پیدا کرتا ہے۔
@BOLNETWORK خبر میں یہ تاثر دینا درست نہیں کہ الیکشن کمیشن عام انتخابات یا کسی ریفرنڈم کی تیاری کر رہا ہے۔ سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اور پولنگ اسٹیشنز کی فہرستیں وقتاً فوقتاً اپڈیٹ کرنا الیکشن کمیشن کی معمول کی انتظامی کارروائی ہے، اسے کسی اور مقصد سے جوڑنا گمراہ کن تاثر پیدا کرتا ہے۔
@SdqJaan قانون کی خلاف ورزی پہلے ہوئی—اثاثہ جات و واجبات کے لازمی گوشوارے جمع نہیں کرائے گئے۔ جب قانون نے اپنا راستہ لیا تو اچانک “ادارے ایکٹو” نظر آنے لگے۔ ادارے کسی کے کہنے پر نہیں، قانون کے تحت ہر وقت ایکٹو ہوتے ہیں۔
@PakhtunDigital آئین کسی بھی ملک کا سب سے پہلا قانونی ڈھانچہ ہوتا ہے جو باقی تمام قوانین کے لیے راستہ بناتا ہے اسکا اگر آپ احترام نہیں کرتے تو آپ ملک کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے اور آپ اس ملک کے آئینی ادارے کی بات کر رہے آپکو نہیں لگتا یہ بھی ملک سے غداری ہے
@PakhtunDigital تنقید کرنا آپ کا حق ہے، مگر قانون کو نظرانداز کرنا حق نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 213 اور 215 نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری، مدتِ ملازمت اور عہدے پر تسلسل کا واضح طریقۂ کار دیا ہے۔ اختلاف ہو تو آئینی طریقہ اختیار کریں، محض سیاسی بیان سے آئینی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی
@TTAP_OFFICIAL@YousafzaiHusain الیکشن کمیشن کا فیصلہ پسند نہ آئے تو “سیاسی انتقام”، پسند آ جائے تو شاید “آئینی ادارہ”؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اداروں کو اصولوں سے نہیں، اپنے فیصلوں کے نتائج سے ناپتے ہیں۔ جنوری 2025 کے بعد بھی CEC اور ارکان کا عہدے پر رہنا آئینی تسلسل کے تحت ہے، محض “ایڈہاک ازم” نہیں
@azzkhann مذکورہ افسر کو سال 2021 میں الیکشن کمیشن میں بطور الیکشن آفیسر (EO) تعینات کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے ذریعے FIA میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تقرری حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے الیکشن کمیشن کی ملازمت چھوڑ دی۔
@ShaukatPiracha1@ShafiJanPTI@RubarooAajTv ہر ہار کے بعد “فارم 47” کا ورد کرنا ایسا ہی ہے جیسے میچ ہار کر اسکور بورڈ کو ہی جعلی کہہ دیا جائے۔ الیکشن کے فیصلے ٹاک شوز یا نعروں سے نہیں ہوتے ہیں۔ اگر ثبوت تھے تو قانونی فورمز موجود تھے، صرف سیاسی بیانیے کے پیچھے کب تک چُھپیں گے
@shahzadparcha کون لوگ ہو تم ۔۔۔۔ابھی کہیں باتھ روم بنے گا اس پہ بھی رونے لگو گے کیا ۔ جم تو وہاں بہت پرانا ہے جو سارے ملازمین کے لئے ہے۔ تم لیٹ ہو گئے ہو
@iSaleem_khan34 عیسیٰ موسیٰ بھائی بھئی۔۔۔مولانا تاجی کھوکھر کے ڈیرے پہ 😁
دو سال بعد یاد آیا کہ الیکشن قبول نہیں۔ مولانا کو خاندان سمیت ساری موجودہ حکومت سے دور ہو جانا چاہیے ۔۔ گھر سے سیٹ تو لے نہیں سکے۔۔ انہیں جس دور میں سیٹ نہیں ملتی وہ الیکشن انہیں قبول نہیں ہوتا۔۔۔😁😁