Injustices to PMS.. A Storm is Brewing
————————————————————-
PSB meetings are repeatedly convened and then postponed again and again. For PMS officers, this has turned into a continuous cat-and-mouse game and yet another “truck ki batti ke peechay” situation.
This persistent delay has created deep resentment, anger, and frustration among PMS officers. A storm is brewing. If this situation is not addressed urgently, it may lead to a serious administrative crisis in Punjab.
The current approach of the Chief Secretary Punjab reflects extreme discrimination and injustice toward PMS officers. We strongly demand to end this sheer injustice and discrimination.
@GovtofPunjabPK@MaryamNSharif@CS_Punjab
The newly elected body of the PMS Officers Association took oath today. The oath was administered by veteran provincial civil servant Rai Manzoor Nasir.
@MaryamNSharif@CS_Punjab#GoodGovernance
Behold Gen-Z Basant: where physics is optional and common sense is cancelled. Strings tied from the wrong side, the kite brutally executed, and gravity just watching in confusion. The kite didn’t lose the fight — it was never given a chance.
#Basant#Basant2026
I am deeply grateful to @MaryamNSharif and especially to @AmjadHafeez19, Head of SMU. A certain issue had been persisting for the past many days, and upon my complaint, they took notice and resolved it promptly. I appreciate their attention and dedication to public service.
Sir, I wanted to bring to your attention that this debris has been lying in the street for the past 10 days. I would like to request that you kindly direct the concerned dept to have the debris removed @DCLahore
31.527375,74.293249 (گلی نمبر 15، جہانزیب بلاک علامہ اقبال ٹاؤن
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
تحصیل پتوکی آج سوگوار ہے۔ 31 جولائی 2025 کو نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی، جناب فرقان محمد خان صرف ایک ماہ بعد، 31 اگست 2025 کو اچانک اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ اتفاق محض اتفاق نہیں، بلکہ زندگی کی ناپائیداری اور تقدیر کی حقیقت کا ایک جیتا جاگتا منظر ہے۔
مرحوم 1993ء میں مینا خیل، لکی مروت میں پیدا ہوئے۔ ذہانت اور محنت نے انہیں مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری تک پہنچایا، جہاں سے ایک کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ ملٹی نیشنل کمپنی میں خدمات انجام دینے کے بعد وہ محکمہ ریلوے سے وابستہ ہوئے۔ اسی ادارے میں ان کی ملاقات سی ایس ایس آفیسر محترمہ حافظہ زینب منور سے ہوئی اور 17 دسمبر 2022 کو دونوں نے زندگی کے سفر کا آغاز ساتھ کیا۔
اللہ کی مشیت سے وہ اولاد کی نعمت سے محروم رہے، شادی کے بعد انہوں نے سی ایس ایس امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی اور گریڈ 17 میں محکمہ صحت سے سرکاری خدمات کا آغاز کیا۔ بعدازاں وہ یو۔ٹی سرگودھا میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہوئے اور پھر 31 جولائی 2025 کو پتوکی کا چارج سنبھالا۔
اپنی تعیناتی کے فوراً بعد وہ تحصیل کے مسائل، خصوصاً سیوریج کی ابتر صورتِ حال سے نبرد آزما ہوئے۔ اس دوران دریائے راوی میں آنے والے سیلاب نے ان پر کام کا بوجھ اور بڑھا دیا۔ گزشتہ چند دنوں سے وہ ہیڈ بلوکی پر ڈیوٹی کے دوران ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔
آج صبح، ہیڈ بلوکی ریسٹ ہاؤس میں قیام کے دوران، شدید تھکن اور ذہنی دباؤ کے زیر اثر ان کی طبیعت بگ�� گئی اور وہ حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اس المناک خبر نے نہ صرف پتوکی بلکہ پورے ضلع قصور کو سوگوار کر دیا۔
یہ تحصیل پتوکی کی تاریخ کا المناک ترین تسلسل ہے، کیونکہ یہ تیسرا اسسٹنٹ کمشنر ہے جو دورانِ ڈیوٹی اپنی جان قربان کر گیا۔ اس سے قبل
1. سید مقبول حسین شاہ، پھولنگر کے قریب سڑک حادثے میں وفات پا گئے۔
2. راجہ قاسم علی جنجوعہ، ملتان روڈ پر گاڑی الٹنے کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
3. اور اب فرقان محمد خان، خدمت کے سفر پر نکلے اور تقدیر کی لکیر نے ان کا باب بند کر دیا۔
یہ سچ ہے کہ جو شخص دورانِ ڈیوٹی اپنی جان دیتا ہے، وہ شہداء کے زمرے میں آتا ہے۔ مرحوم کی زندگی اور قربانی یقیناً دوسروں کے لیے مثال ہے۔
ان کی صرف ایک ماہ کی مختصر تعیناتی، سیلاب کے دنوں کی انتھک محنت، اور پھر اچانک رحلت ایک تلخ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے، جبکہ اصل کامیابی ��للہ کی رضا اور آخرت کی سرخروئی میں ہے۔
تحصیل پتوکی کی عوام، ضلعی انتظامیہ اور تمام احباب ان کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی رحمتوں میں جگہ دے، ان کی لغزشیں معاف کرے اور درجات بلند کرے۔ آمین۔
@awaissaleem77 قوم کو شعلہ بیانی اور مصالحہ پسند ہے۔کسی بھی مسلک کے شعلہ بیان مقرر کے سامعین زیادہ ہونگے اور دھیمے لہجے میں بات کرنے والے کے سامعین کم ہونگے۔انجینئر صاحب ہمیشہ سے مصالحہ تیز رکھنے کے عادی ہیں کیونکہ ویوز زیادہ ملتے ہیں۔انہی زیادہ ویوز کی خاطر ایک دور میں عمرانی قصیدہ گو بھی تھے