بجٹ پارٹ ون
تنخواہ دار طبقہ
اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے عائد کردہ 10 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے فائدہ ہوگا۔
جن افراد کی سالانہ تنخواہ 70 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ٹیکس ریٹ تو برقرار رکھا گیا ہے، لیکن 10 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔
پہلے جس شخص کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ روپے تک پہنچتی تھی، وہ براہِ راست 35 فیصد ٹیکس سلیب میں چلا جاتا تھا، جس سے اس پر اچانک زیادہ ٹیکس لگ جاتا تھا۔
اب حکومت نے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبس متعارف کرائی ہیں، تاکہ اس طبقے پر یکدم 35 فیصد ٹیکس نہ لگے بلکہ کم شرح پر ٹیکس ادا کرنا پڑے۔
اب اس آمدن کے حصے پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے نئے ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، جس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو نمایاں ریلیف ملے گا۔
35 فیصد ٹیکس اب صرف اس آمدن کے حصے پر لاگو ہوگا جو 70 لاکھ روپے سالانہ سے اوپر ہو، جبکہ اس سے کم آمدن پر پہلے والی کم شرحیں ہی لاگو رہیں گی۔
حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے۔
برآمدات اور صنعت کے لیے بڑا ریلیف
برآمدات پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہیں، اسی لیے ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
500 ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
500 ملین روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ صنعت اور برآمدات کو مزید فروغ ملے۔
پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی ہے۔
5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کر کے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
50 ملین (5 کروڑ) روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔*
50 ملین سے 100 ملین (5 سے 10 کروڑ) روپے مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
100 ملین (10 کروڑ) روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اہم ریلیف
حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔
یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی، ان کی سرمایہ کاری میں اضافے اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
شپنگ انڈسٹری کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے شپنگ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے اس شعبے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کی ترقی، کاروباری لاگت میں کمی اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواتین اور عوامی صحت کے لیے اہم اقدام
حکومت نے خواتین کے لیے ٹیمپونز، سینیٹری پیڈز پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
- اسی طرح حکومت نے کنڈومز اور مانع حمل (contraceptive) ادویات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو مکمل ختم کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ خواتین و مردوں کی ضروریات، عوامی صحت اور معاشی ریلیف تینوں پہلوؤں کو مدنظر
رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر کے لیے اہم ریلیف
حکومت نے آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے خوش آئند فیصلہ کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25 فیصد رعایتی شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اس شعبے کو پالیسی کا تسلسل اور اعتماد حاصل ہوگا۔
یہ اقدام آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوان فری لانسرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی مزید ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
ڈیجیٹل اور آن لائن ادائیگیوں کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے پاکستان سے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے اور پاکستان میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ریفائننگ سیکٹر کے لیے بڑا ریلیف
حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپگریڈیشن اور متعلقہ درآمدات (Imports) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے
جاری ہے
وہی پرانا طریقہ واردات
وہی قتل عام والا جھوٹ
وہی حکومت کی وضاحتیں اور مدافعتیں
وہی ترقی کے باوجود مختلف عہدوں پر قابض افسروں کے اثاثے
وہی سوشل میڈیائی لاگرتھم
وہی ان یوتھڑوں کے مقابلے کے نام پر فارم ہاوسز
وہی بہانے کہ "ان کا سوشل میڈیا پر قبضہ ہے"
وہی اربوں روپے کا مزید مطالبہ
وہی پرانا تماشہ
چاچو اور حافظ صاحب مل کے جو عزت کماتے ہیں
یہ نیچے سارے مل کر اسے ٹھکانے لگاتے ہیں
جو ان نالائقوں کی نشاندہی کرے
اسے محفل سے باہر بھگاتے ہیں
ساری توانائیاں اس پر لگی ہوئی ہیں
صبح بخیر زندگی
خالد جاوید چیمہ چالیس سال سے امریکہ کے شہر کینساس میں کھربوں روپے کا کاروبار کررہے تھے
چند سال قبل اپنے پنجاب کے آبائی شہر وزیر آباد کی محبت میں اربوں روپے کا کاروبار شروع کیا، کاروبار کے توسط سے سینکڑوں مقامی لوگوں کو نوکریاں ملی، آٹے کی ماڈرن ملز لگائیں، کاروبار چل پڑا
جہاں قدم قدم پہ انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کیا، وہی صاف ستھرا کاروبار شروع کیا، تمام کاروبار کے بارے میں ٹیکس حکام، پنجاب حکومت اور مقامی انتظامیہ کو پیشگی ریکارڈ دیا، این او سیز لیے اور کاروبار شروع کردیا
لیکن پچھلے کئی ہفتوں سے انکا کاروبار مقامی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ٹھپ ہے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح اوورسیز پاکستانیوں کے یہاں سلوک ہورہا ہے
ایک معزز اوورسیز پاکستانی خالد جاوید چیمہ کا مسیج پڑھیے اور آگے پھیلائیے
“A'A sir I m overseas pakistani last 40 years stay in usa and don all kind of labor and save some money & bring in to pakistan i build a flour mill name Al- qadir flour and General Mills located @ gujranwala ali pur chatha road near Ali pur chatha food department Wazirabad sealed my mill since 7 day's i did not even sell my products in the godam which going to spoil the department always demand money because I m new in the business so I don't no that before eid I must see dfc & dd it's my request to madom Maryam nawaz please take over my mill and i she'll go back to America thanks.
Khalid Javid Cheema
Son of haji ghulam۔”
@MaryamNSharif@AmjadHafeez19@PMLNPunjabPk@GovtofPunjabPK@CMComplaintCell@ChShafayHussain@Khalidc04230594
Alert 🚨 ملک بھر میں پی ٹی سی ایل صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں سست روی کا سامنامتوقع ہے۔ پی ٹی سی ایل کے مطابق 11 مئی سے 18 مئی تک سب میرین کیبل کی مرمت کا کام جاری رہے گا۔ انٹرنیٹ میں سست روی کی وجہ سب میرین کیبل میں مرمت کا ہونا ہے،شام کے اوقات میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا امکان ہے۔بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کی جانب سے سب میرین کیبل پر مینٹیننس سرگرمی ہوگی ۔ پی ٹی سی ایل نے صارفین سے ممکنہ تعطل پر معذرت کی ہے۔
#PTCL
ایمانداری سے کہتا ہوں…
پاکستان میں پہلی بار پوری قوم واقعی “ون پیج” پر آ گئی ہے،
مگر کسی قومی کامیابی پر نہیں…
بلکہ خالی جیب، مہنگی روٹی، بجلی کے بل اور بچوں کی فیس کے درد پر۔
آج ہر گھر خاموشی سے چیخ رہا ہے۔
باپ حساب لگا کر ہار چکا ہے،
ماں ضرورتیں چھپا رہی ہے،
اور عوام زندہ رہنے کو ہی کامیابی سمجھنے لگی ہے۔
یہ وہ “ون پیج” ہے جہاں
نہ کوئی جیالا ہے، نہ پٹواری، نہ یوتھیا…
صرف مہنگائی سے ٹوٹی ہوئی قوم ہے۔
حکومت کو پتہ ہے کہ ایک ایسی کلاس ہے ان پر آپ جتنا بھی ٹیکس لگاؤ وہ نہیں بولیں گے تو ان پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالتے جاؤ۔ خطے میں کوئی ایسا ملک نہیں جو عالمی منڈی میں ہونے والی تیل کی قیمتوں کا فائدہ عوام کو نہ دے رہا ہو۔ کیا حکومت کو یہ انسان صرف نمبرز نظر آتے ہیں؟ شہباز رانا
مہنگے پیٹرول پر ٹیکس پر چھوٹ لینے کی بجائے اس ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کی نفی بھی جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر نہیں منتقل کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم سے کم ترین سطح پرلایاجائے۔
@CMShehbaz
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو کمائی کا بڑا ذریعہ بنالیا، پیٹرول اور ڈیزل مہنگی ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں۔ فی لیٹر پیٹرول پر 198 روپے اور ڈیزل پر 113 روپے سے زائد کے ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں۔
پیٹرول کی ٹیکسز کے بغیر قیمت 216 روپے 68 پیسے بنتی ہے، پیٹرول کی قیمت میں 29 روپے فی لیٹر پریمیم بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 113 روپے 71 پیسے ٹیکسز شامل ہیں، ٹیکسز کے بغیر اس کی فی لیٹر قیمت تقریباً 301 روپے بنتی ہے، ڈیزل پر 42 روپے 60 پیسے لیوی،32 روپے 48 پیسے کسٹم ڈیوٹی شامل ہے۔
ڈسٹری بیوشن مارجن کی مد میں تیل کمپنیوں کو 7٫87 روپے اور منافع 8٫64 روپے دیا جارہا ہے، 7 روپے 25 پیسے فریٹ مارجن، ڈھائی روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی شامل ہے۔
#SamaaTV #Pakistan #PetrolPrice #PetroleumPrices #PetrolPriceHike #dieselprices
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے میں صرف ایک مثبت بات سامنے آئی۔
کہ کم از کم میں نے تو ایسا کوئی اندھا بھگت کارکن یا صحافی نہیں دیکھا جو حکومت کے ظلم کا دفاع کر رہا ہو۔
ایک حکمران جماعت کے لیڈر کا کہنا تھا یہ حکومت وہ ماں بن گئی ہے کہ جس کے گھر معذور پیدا ہو تو بھیک سے مال بنانے لگ جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف آپ کی حکومت نے لوگوں پر آخر کس طرح پیٹرولیم لیوی مزید بڑھا دی یہ ظلم ہے قیمتوں میں کمی کرنے کئ بجائے اسے ٹیکس لگا کر اور بڑھانا ، وزیراعظم اس فیصلے کو فوری واپس لیجئے صرف یہی لیوی نہیں مزید بھی کمی کیجئے یہ کیا ہے کہ ایف بی آر کی ناکامیوں کا بدلہ عام آدمی سے لینا کہاں کی تک ہے
آج کچھ دیر پہلے میں نے اسلام آباد میں NCCIA
(نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کے ھیڈکوارٹر واقع سری نگر ھائی وے وزٹ کیا ھے -
پیکا ایکٹ (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) 2016 کے تحت ان عناصر کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جا رھی ھے جنہوں نے
کانسٹیٹیوشن - ون پراجیکٹ میں میری ، میرے خاندان ، میرے کسی سٹاف ممبر یا نام نہاد میڈیا مینیجر کے نام پر یا ھماری جانب سے کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری یا اثاثوں کے حوالہ سے ھماری کردار کشی کی مذموم مہم چلائ ھے ،
میرا کوئ میڈیا مینیجر نہیں ھے ، اس حوالے سے میں نے کوئ بیان نہیں دیا ۔۔!
کوئ کسی کا پالتو ھے یا کلٹ فالور ۔۔!!
ان شا اللّٰہ جھوٹ اور سازش کی بنیاد پر بہتان تراشی کرنے والے سبھی بے نقاب ھونگے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاۓ گا ۔۔۔
اگر ششٹم کا باپ جیل میں بیٹھ کے سارا نظام چلا رہا ہے تو گویا پھر پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی ششٹم کے باپ نے ہی کیا ہو گا۔ آپ خوامخواہ چاچو کو بددعائیں دے رہے ہیں۔
رکھ ایتھے
متحدہ عرب امارات کا اوپیک تنظیم سے نکلنے کے بعد پاکستان کا اوپیک میں شمولیت کیلئے درخواست ۔۔۔
اوپیک منتظمین نے پوچھا آپ لوگ کہاں سے تیل نکالتے ہیں؟
پاکستان کا جواب : عوام سے
جناب شیخ سہیل اعظم کی عطا