Chairman Distric Sherani, Balochistan.
Provincial V President PK MAP Khyber Pashtunkhowa. Struggling for the rights of Pashtuns. RT is not endorsement.
صحت کیلئے رکھے بجٹ جو ہر شہری کیلئے سکہ رائج الوقت مبلغ 21 روپے رکھا ہوا ہے
کیا مریم نواز کی سرجری اس 21 روپے سے ممکن ہو پائے گی؟
اگر کمی بیشی ہے تو میرے حصے کے 21 روپے بھی میں نے بخش دئیے ہیں تاکہ اسکی علاج ہو سکے
دنیا میں اگر پیٹرول مفت بھی ہوجائے پاکستان میں پھر بھی 300 روپے لیٹر ہوگا یہ ملک لٹیروں کے ہاتھ میں ہے ظالموں کے ہاتھ میں یہاں کے حکمرانوں سے اچھائی کی توقعات رکھنا اس طرح ہے جیسے خسرے سے بچہ پیدا کرنا
:
خوشحال خان خٹک کے مزار پر ایک یادگار تصویر
جب میں من صوفی کی ریکارڈنگز کے لیے خوشحال خان خٹک کے مزار پر گئی تو یہ دیکھ کر دل افسردہ ہو گیا کہ مزار کو پنجرہ نما آہنی جالیوں نے گھیرا ہوا ہے،
ایک ایسا شاعر، جو ساری زندگی اپنے لفظوں، فکر اور جرات کے ذریعے آزادی، خودداری اور انسانی وقار کی جنگ لڑتا رہا، اُس کے مزار کے گرد قید کا یہ ڈھانچہ کس نے تعمیر کروایا تھا.
مقامی لوگوں نے بتایا کہ مزار آبادی سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور جانوروں کے داخلے اور غلاظت سے بچانے کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا.مجھے یہ منظر خوشحال خان خٹک کی آزاد روح اور ان کے پیغام سے ہم آہنگ محسوس نہ ہوا.
اسی احساس کے تحت واپسی پر میں نے جنگ میں ایک کالم لکھا اور ڈپٹی کمشنر سمیت متعلقہ سیاسی حکام سے درخواست کی کہ مزار کی حرمت اور خوبصورتی کے تحفظ کے لیے اردگرد مناسب شیشے اور دروازوں کا انتظام کیا جائے تاکہ یہ تاریخی مقام محفوظ بھی رہے اور پنجرے کا تاثر بھی ختم ہو جائے.
اب یہ معلوم نہیں کہ میری اس درخواست پر کوئی عملی پیش رفت ہوئی یا نہیں، لیکن آج بھی جب یہ تصویر دیکھتی ہوں تو خوشحال خان خٹک کی آزادی پسند فکر اور اس پنجرہ نما حصار کے درمیان موجود تضاد ذہن میں ایک سوال بن کر ابھرتا ہے.
شادی آفریدی امریکہ میں ایک نہاری ہاوس کا افتتاح کرنے آیا، ایک منٹ میں اس نے کوئی 70 دفعہ ماشاءاللہ الحمد اللہ کہا ھو گا
یہ کھوتے ب چ ماشاءاللہ جزاک اللہ الحمد اللہ کے علاوہ کچھ بول ہی نہیں سکتے
ہم کو قوم پرست لوگ پسند ہے اور اپ نے بہت مضبوط اور دلیرانہ بات کی میں خود پشتون قوم دوست وطن پرست ہوں احمد شاہ ابدالی میرویس کے اولاد ہیں جیسے پنجابی اپنے اباو اجداد رنجیت سنگھ پر فخر کرتے ہیں
پنجابی نیشنلسٹ ہوں، پنجابی میری مادری اور قومی زبان ہے، پنجاب میری شناخت، میری ثقافت ،میری روح، میرا دل اور میری محبت کا مرکز ہے.
پنجاب سے میرا تعلق محض جغرافیے کا نہیں بلکہ صدیوں کے عشق کا ہے.رنجیت سنگھ، دُلا بھٹی، بھگت سنگھ اور احمد نواز کھرل جیسے عظیم پنجابی کردار میری تاریخ اور اجتماعی شعور کا چانن ہیں.
جو لوگ ان شخصیات کو نفرت،تعصب یا سیاسی مقاصد کے تحت گالی بنانے کی کوشش کریں گے میں پوری قوت سے ان کے بیانیے کو چیلنج کرتی رہوں گی ، اپنے ہیروز کے تاریخی اور ثقافتی مقام کا دفاع کرتی رہوں گی اور پنجابیوں کےاستحصال کے خلاف آواز بلند کرتی رہوں گی
شالا جیوے پنجاب ، شالا جیوے پاکستان
#Punjab
حب علی نہیں بعض معاویہ میں مبتلا پنجابی رنجیت سنگھ کو باپ بنا رہے
محمود غزنوی احمد شاہ ابدالی کے مقابلے میں
پشتونوں کے نفرت کی وجہ سیکھوں اور ہندوں کو باپ ماننے پر تیار ہیں
ایک پرانا کالم۔ رنجیت سنگھ پر تنقید کا مطلب سکھ مذہب پر تنقید نہیں ہے۔ وہ پنجابی اور کشمیری اُسے اپنا ہیرو نہیں مانتے جنہیں پتا ہے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں اذان پر پابندی لگائی گئی اس نے ہزاروں کشمیری قتل کئے پنجاب کا ہیرو رنجیت سنگھ نہیں بھگت سنگھ ہے https://t.co/s2eBOYWGqi
اگر منتخب ہوکر خواتین آئیں گی تو ان کی بات میں وزن ہوگا۔ کوئی پارٹی لیڈر اپنی داشتاؤں، کنیزوں اور رکھیلوں کو اسمبلی نہیں بھیجے گا اور پھر بہت سے خواتین کے معاشقے بن جاتے ہیں بہت سوں کے گھر ٹوٹ جاتے ہیں الیکشن میں 30 فیصد کوٹے سے قابل ترین خواتین اسمبلیوں میں پہنچیں گے
کافی سال ہو گئے ہیں ایک آمر کی عنایت سے فائدہ اُٹھاتے،
اب کیوں نہ ہر پارٹی تینتیس فیصد ٹکٹ خواتین کے لئے مختص کرے ،
خواتین الیکشن لڑ کر اسمبلی پہنچیں گی تو جمہوری اصولوں ، آئینی معاملات اور اپنے حلقے کے مسائل سے آگاہ ہو کر بہتر کام کریں گی . ورنہ بہنیں ، بیٹیاں ، بیگمات ہی خانہ پُری کرتی رہیں گی .
اللہ کی شان اس گدھے ووڈا کی باتیں بھی لوگ سنتے ہیں اور پروگرام میں بھلانے ہیں اس تو وہ شمیل گل چاہت یا رمل علی بھی بہتر ہے نہ اس کی شکل دیکھنے کی قابل نہ اس کو بولنے کا دنگ یہ اس میں لحاظ ہے
بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جب تک فیصل واڈا جیسے غیر منتخب،غیر جمہوری اور غیر سیاسی مہروں کو کسی کے اشارے پر پارلیمان میں لانے سے گریز نہیں کریں گے، ٹی وی اینکرز بھی اپنے پروگراموں میں حقیقی عوامی نمائندوں کی بجائے انھی شعبدہ بازوں کو ترجیح دیتے رہیں گے .
@Democracy
ایک زمانہ تھا جب مدارس علم و تحقیق کے مراکز سمجھے جاتے تھے، جہاں دینی علوم کے ساتھ الجبرا،ریاضی، فلکیات، طب، فلسفہ اور دیگر سائنسی مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے.یہاں سے پڑھنے والوں نے تحقیقی میدان میں نمایاں اضافے کئے .جبکہ
آج یہ ادارے رٹے اور استحصال کے مراکز بن کر رہ گئے ہیں اور یہاں سے پڑھ کر جانے والوں کیلئے ملازمت کے مواقع بھی نہیں ہوتے.
مدارس کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے دینی تعلیم کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی،تحقیق، تنقیدی فکر اور فنی مہارتوں کو بھی نصاب کا حصہ بنانا بہت ضروری ہے.
مدارس کو مناسب وسائل اور فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ وہ جدید تعلیم کے مراکز بن سکیں اور ان کے طلبہ دین و دنیا دونوں میدانوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں.علم کا فروغ، تحقیق کی حوصلہ افزائی اور معاشرے کی ترقی ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو مضبوط ، مہذب اور باوقار بناتا ہے.
سچی بات ہے کہ امریکہ،ایران اوراسرائیل کے درمیان جنگ کو عالمی جنگ بننے سے روکنے کے لیے سب سے زیادہ کاوشیں پاکستانیوں نے ہی کی ہیں ،
ھماری اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت اپنا ہر کام بھول کر ثالثی پر لگی رہی اور ہم شہری دعاوں پر .
دعا ھے کہ
امن قائم رہے،جنگیں ختم ہوں اور پٹرول سستا ہو تاکہ ہر شے کی قیمتیں نیچے آئیں اور لوگ سُکھ کا سانس لیں .اس سے بہتر جشن اور کیا ہو سکتا ہے بھلا.
یہ سید کیا ہوتا،ہے اور اس کے سینگ تو ہم نے نہیں دیکھے
جب پیغمبر اسلام نے خود آخر خطبہ حج میں کہا کہ تمام انسان برابر ہے نہ کالے کے سفید پر نہ عربی کی حجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے پھر یہ سید کس،نے بنائے
ہم سید ہیں اور ہم بخارا سے ہندوستان آئے تھے
اقرار الحسن
تواڈی پین دی سری، بخارا میں آج بھی گھوم پھر کر دیکھ لو وہاں ہر شخص چینوں کی طرح گول چہرے اور گول آنکھوں والا ھے، ان حرامیوں کا ڈی این اے کرو یہ سر سے پاؤں تک ہندوستانی نکلیں گئے
طالبان نے اس لڑ کی کو قتل کر دیا
طالبان کی دھمکیوں کے باوجود کا بل میں خواتین کے لیے کام کرنے والی فرشتہ احمدی جنہیں طالبان کے جنگجوؤں نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے
ہم تو 77 سال سے کہتے ہیں کہ بچے کا پہلا حق مادری زبان میں تعلیم ہے لیکن بد قسمتی سے لکھنو کے لونڈوں کی زبان ہم پر بھگوڑوں مہاجروں نے مسلط کر دی پشتو سندھی بلوچی سرائیکی اور پنجاب دن بدن پیچھے جا رہی اور ایلیٹ کلاس انگریزی اور نیم ماڈرن اردو کے پیچھے لگے ہوئے ہیں
دنیا کے 53 بڑے ممالک میں کسی دوسری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا کیڑا صرف پاکستانی قوم کو تباہ کررہا ہے ۔ آپ اس فہرست کو دیکھ لیں کہ وہ سب اپنی اپنی زبان میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہم زبانِ غیر میں تعلیم حاصل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم جہالت کے اعلی ترین درجے پر فائز ہیں۔
1000 ارب روپیہ صرف فوجی پینشن پر
جو صرف 7 لاکھ ہیں۔
جبکہ
200 ارب سویلین پینشن پر جو
25 کروڑ بلڈی ہیں۔
آجکل کوئی پٹواری اس پر بات نہیں کرتا
ورنہ 2022 تک ہر پٹواری بھونکتا تھا
حالیہ اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا 20 سے 25 لاکھ لوگ ملحد ہو چکے ہیں یعنی جو اسلام چھوڑ چکے ہیں اور اب کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے نہ کسی خدا کو مانتے ہے لیکن پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کی ڈر سے یہ لوگ کھل کر سامنے نہیں آتے آپکے خیال میں بڑھتی ہوئی ملحدین کی تعداد لے پچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے؟؟
میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ مولویت ہے جنہوں نے سوال پوچھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور زیادہ زور دینے پر گستاخی کا الزام لگا کر مار دیا جاتا ہے۔