میں سمجھا تھا کہ سلیمان بٹ کرکٹر ہے لیکن اُس کی بات سُن کر لگا کہ وہ ڈفر ہے، اُسکے بیان پر جواب حاضر ہے۔
عمران خان کا ذکر دُنیا کے ہر اُس سپورٹس چینل پر ھو گا جو کرکٹ پر بات کرتا ہے، جبکہ فلسطین کا ایشو دُنیا کے ہر نیوز چینل پر ہوگا جو عالمی سیاست اور کرنٹ افئیرز پر بات کرتا ہے۔
لیکن فلسطین پر بات کرنے کی سب سے پہلے ہماری ہے، ہماری حکومت اور میڈیا کی کہ وہ ہر روز فلسطین میں اسرائیل کے مظالم دکھائیں، پروگرام کریں، لیکن سواۓ سابق سینیٹر مشتاق کے کوئ پاکستانی چینل فلسطین پر بات نہیں کرتا اور اگر کرے گا پوری سنسر شپ کے ساتھ۔
بس اتنا سا فرق ہے۔
عدالت نے عمران خان کی بہنوں کا کیس جلد سننے سے معذرت کرلی ہے۔ سماعت 17 ستمبر کو ہی ہوگی۔ آئندہ اگر آپ عدالتی آبزرویشنز ، ریکارڈ مانگ لیا ، کیک بھیج دیا ، سعودی عرب نے کہہ دیا ، ترکی نے کہہ دیا جیسی خبروں پر یقین لائیں تو جس رجسٹر میں آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج ہے اس رجسٹر پر لعنت۔
پاکستان نے دیامیر بھاشا ڈیم سے پاور جنریشن ٹنلز ، یعنی بجلی پیدا کرنے کا آپشن ختم کردیا ہے۔ تاکہ آپ شریف ، زرداری و دیگر مافیا کے آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدتے رہیں اور انکی دیہاڑیاں چالو رہیں۔
دنیا میں اس لاچارگی سے کبھی کوئی نہیں لٹا جیسے پاکستانی لٹے ہیں۔
عمران خان کو تو شہد اور باداموں والا کیک بھی بھیجا گیا تھا ، عمران خان کو سعودی عرب اور ترکی نے ہسپتال منتقل کرنے کا بھی کہا تھا ، عمران خان نے تو 5 اگست کو “ بڑی اہم ملاقات “ بھی کی تھی۔ اور آپ ان سب شرلیوں پر ایمان بھی لے آئے تھے۔ اگر آپ کی ٹبری تھوڑی سی ٹائٹ ہو اور آپ ہوا روک کر رکھا کیجیے تو بھی ڈھیر سارے مسئلے پیدا ہی نا ہوں۔
لیجیے ناظرین آپ کو دن چڑھنے کا بھی انتظار نہیں کرنا پڑا۔ سید عاصم منیر کا بایاں “ ہاتھ “ سید قمر رضا لندن میں پرامن شہریوں کے ہاتھوں گالیاں کھا چکا ہے۔
نوٹ ؛ یہ وہی سید قمر رضا تھے جو جولائی میں قرآن پاک ہاتھ میں تھامے راولا کوٹ سامنے آئے اور فرمایا کہ کہ لانگ مارچ روک دیا جائے انہیں سید عاصم منیر نے مذاکرات کا اختیار دیکر بھیجا ہے۔
بائیکاٹ مہم شروع ہونے کے بعد سرحد یونیورسٹی کی انتظامیہ مختلف لوگوں سے رابطے کرکے بتا رہی ہے کہ کسی طالبعلم کو نکالا نہیں گیا ، کسی طالبعلم کی ہلاکت نہیں ہوئی۔ یہ خوش آئند ہے۔
سرحد یونیورسٹی کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ آئندہ یونیورسٹی میں برطرفیوں اور تعیناتیوں کا میرٹ کسی فوجی افسر سے شناسائی نہیں ہونا چاہیے اور غیر متعلقہ و مسلح افراد کو یونیورسٹی کے گیٹ پر روکا جانا چاہیے۔
ابھی سکائ نیوز پر عمران خان کے بیٹوں کے انٹرویو پر سوگ اور آہ و پکار ختم نہیں ہوئ تھی کہ آسٹریلیا کے موجودہ ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے کرکٹ کے کپتان پیٹ کمنز نے عمران خان کی حمایت میں ٹوئیٹ کر دی
“میں یہاں گریگ چیپل اور دوسرے سابق بین الاقوامی کپتانوں کی حمایت میں شامل ہو رہا ہوں۔ امید ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق میڈیکل معائنہ مکمل ہونے دیا جائے گا، اور خاندانی ملاقاتیں جاری رہیں گی۔ امید ہے کہ عمران خان کے ساتھ وہی عزت اور وقار کیا جائے گا جس کا ہر انسان مستحق ہے”
لگتا ہے کہ کرکٹ کے ہر میدان اور ہر کھلاڑی سے اب عمران خان کو بنیادی انسانی حقوق دینے کا مطالبہ جاری رہے گا۔اب سابق کرکٹر نہیں موجودہ کرکٹر دُنیا بھر میں عمران خان کی حمایت میں بول رہے ہیں۔ کیا ہم یہ بدنامی اسی طرح لیتے رہیں گے؟ یا سدھریں گے؟ پاکستان کا امیج تار تار ہو گیا ہے۔
ووٹ کو عزت دو کا میرا لگایا ہوا نعرہ اپنانے والے میاں نواز شریف نے آج ووٹ کی عزت کو ایک بار پھر دفن کر دیا۔ عاصم منیر کے حکم کے آگے سر جھکا دیا!
آزاد کشمیر کی اسمبلی تو نہیں چلے گی، اور عاصم منیر بھی چلا جائے گا۔ مگر یہ دھوکا عوام نہیں بھولے گی۔
شیر زمان ٹکر کی لکھی ہوئی نظم کا عنوان ہی یہی نعرہ بن گیا:
اک نعرہ لگانا چاہتا ہوں، قاضی کو سنانا چاہتا ہوں،
ووٹ کو عزت دو۔
کرنل کی وجہ سے ذلیل ہوئے ، پھر کٹھ پتلیوں کو اقتدار اور وزیر صحت بنانے پر ذلیل ہوئے ، پھر سکائی نیوز کو روکتے روکتے ذلیل ہوئے۔ کل نیا دن ہوگا اور بارہ جماعت پاس پھدو دماغ کسی نئی وجہ سے ذلیل ہوں گے۔ انتظار فرمائیے۔
پاک فوج نے چالیس سال اس ملک پر براہ راست حکومت کی ہے۔ پچھلے چار سال سے ایک بار پھر فوج قابض ہے۔ لیکن ملک کے سکول اے پی ایس سکولوں جیسے نہیں ملک کے اسپتال سی ایم ایچ اسپتالوں جیسے نہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ مافیا ایسے ہی کام کرتا ہے۔ دوسروں کے گلے گھونٹ کر اپنے لیے مراعات اور سہولیات پیدا کرتا ہے۔
وہ اور ہم ایک نہیں ہیں۔
آج سوشل میڈیا پر حالات دیکھ کر یہ دیکھ پا رہاُہوں کہ اگرچہ آج بہت ساروں کے اندر کا کمینہ انسان خوش ہے ، لیکن ہم سب کے پاس ایک عدد دماغ ہے جو کہہ رہا ہے کہ تم نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہارے بچوں نے اس ملک میں رہنا ہے۔ تمہاری شناخت اس جگہ سے منسلک ہے۔ یوں فوجی افسر کو تھپڑ پڑنے پر قہقہے پھوٹنا اس ملک کے برباد مستقبل کی نشانی ہے۔ یہ اس کی موجودہ تباہ کن فیصلوں کی عکاسی ہے۔ معلوم ہے کوئی فرق نہیں پڑنے والا لیکن کہنے میں کیا ہرج ہے؟ پاگل فیصلہ سازو ! انسان بن جاؤ۔
عزت عوام سے ملتی ہے۔ عزت احترام سے ملتی ہے۔ عزت آئین کی پاسداری سے ملتی ہے۔ عزت ، عزت دینے سے ملتی ہے۔ عزت آئی ایس پی آر ، نیوز چینلز ، یا بجٹ نہیں لیکر دیتا۔ عوام کو عزت دو۔ ڈنڈا نہیں۔ عوام سے دھوکہ کرنا بند کرو۔ آئین توڑنا۔ مینڈیٹ چوری کرنا بند کرو۔ اس ملک کے آئین کو عزت دو۔ جمہوریت اور آزاد عدالتوں کو عزت دو۔ عمران خان کو عزت دو۔ پاکستان کو عزت دو۔
ورنہ
دیا سبھی کا بجھے گا ، ہوا کسی کی نہیں۔
اگر انصاف کے نظام نے 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو تختہ دار پر لٹکایا ہوتا تو اج ان نمک حراموں کو مادر فروشوں کو فوجی افسر کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہوتی
یہ سب کچھ عمران خان کی تربیت کا شاخسانہ ہے جس کی سزا اج پوری قوم بھگت رہی ہے
تو ہوا کچھ یوں ہے کہ کرنل صاحب کی بیگم نے ایچ او ڈی کو معطل کروایا۔ اس سیٹ کا اضافی چارج اپنے ہاتھ کیا۔ یہ سب یقینا “ میرٹ “ پر ہوا ہوگا۔ پھر کرنل صاحب اسلحہ تانے یونیورسٹی بھی پہنچ گئے کہ طلباء اس “ میرٹ “ پر احتجاج کررہے تھے۔ باقی پھر تاریخ ہے۔