@RShahzaddk کچھ لوگوں نے غفلت پر کوس لیں لیکن اس قسم کی بدعاکسی ک لیے مناسب نہیں کوئی کسی اور کو مارنا چاہے گا؟ اس طرح کے حادثات لوگوں کے گھروں میں بھی رپورٹ ہوئے وہاں کمرے لاک بھی نہ تھے وہ صحت مند بھی تھے بھاگ کر جان بچا سکتے تھے لیکن موت مہلت نہیں دیتی ۔ لکھی ہوئی کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
@RShahzaddk زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے یہ وہی سٹاف اور ڈاکٹر ہونگے جنہوں نے ہزاروں جانیں بچائیں بھی ہوں گی لیکن صرف ایک حادثے کی وجہ سے سب کچھ فراموش کر دیا گیا۔
المقطع الاكثر حذفًا في تويتر من امبارح
المقطع ده الفيفا بتطارده بحقوق النشر من امبارح وكل اللي بينشره بيتقفله حسابه او المقطع ينحذف
ده باختصار ملخص الاخطاء التحكيمية امبارح وملخص المدعرة اللي عملها الحكم القذر ضد مصر
اتفرجوا بعينكم … ظلم بيّن وسرقة
ایک لاکھ تنخواہ والا جو تقریباً روز 50 کلومیٹر گاڑی چلاتا ہے
مہینے کا 45 ہزار صرف پیٹرول بھر رہا ہے۔
کرایہ، بجلی، بچوں کی فیس کے بعد آدمی گروسری سے پہلے ہی خسارے میں جا چکا ہے۔
تنخواہ دار طبقہ صرف سانس لینے کا ریلیف مانگ رہا ہے
میاں صاحب مجھے اتنا بتا دیں کہ میں اپنے خرچے کیسے پورے کروں؟
نہ کوئی اوپر کی۔ کمائی ھے نہ ھی کوئی بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ نہ ھی کوئی رحمت کارڈ ھےنہ ھی کوئی موٹر سائیکل کا ۲۰۰۰ کا ریلیف، نہ ھی بجلی کی قیمت میں ۲۰۰ یونٹ سے کم ھونے پر کوئی ریلیف؛ نہ ھی فری بس پر سفر کرسکتا ھوں
گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، پیٹرول کا خرچہ، فون کا بل، گیس کا بل سب کچھ ڈبل ھو گیا ھے مگر میری انکم نہیں بڑھی کیونکہ کچھ ایسا ھوا ھی نہیں کہ انکم بڑھ سکے !
بتائیں میں کب تک کہاں تک خود کو گھسیٹوں گا؟
کیسے زندہ رھوں گا ؟
آپ کے لیے بہت آسان ھے یہ کہہ دینا کہ ھائے اللہ یہ ھو گیا تو یہ بڑھ گیا پتھر رکھ لیا آپ نے مجھے سمجھائیں میں کہاں سے لاوں پتھر اپنے سینے پر رکھنے کے لیے ؟
اس وقت ملک میں بجلی بنانے کی 45 % صلاحیت چینیوں کے پاس، 40 فیصد حکومت کی ملکیتی آئی پی پیز کے پاس اور باقی 15 فیصد چھوٹے موٹے آئی پی پیز کے پاس ہے جن کو آپ دن رات, کھا گئے , لٹ گئے کہتے رہتے ہیں۔ اب اگر بجلی کی قیمت کم کرنی ہے تو ان کو دئیے جانے والے کیپیسٹی چارجز روکنا ہوں گے تا کہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ چینیوں کے تو آپ روک نہیں سکتے وہ ساورن گارنٹی ہیں، جب کہ نجی 15 فیصد آ ئی پی پیز کو جتنا نچوڑ سکتے ہیں وہ ہم نچوڑ چکے ہیں تو ایسے میں حکومت اپنی 40 فیصد کیپیسٹی چارجز لینا بند کردے تو مسئلہ قابل برداشت حد تک ہو سکتا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسے میں ان سرکاری ملکیت کے آئی پی پیز کے قرضوں کی واپسی کیسے ہو گی؟؟ تو جناب قرضوں کی واپسی براہ راست قومی خزانے سے کردی جائے اور یہ رقم متعلقہ صوبوں سے وصول کرلی جائے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے ایک قابل عمل تجویز بنا لی تھی لیکن بھولڑو نے اپنا حصہ دینے سے انکار کر دیا اور یوں مصدق ملک صاحب کو اس منصوبے سے ہٹا دیا گیا۔
موجودہ بجلی بحران اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا کہ کچھ آئی پی پیز جن کے پاور پرچیز ایگریمنٹ اس سال اکتوبر میں ختم ہونے ہیں ان میں توسیع دی جا سکے۔ اس سازش میں پاور ڈویژن کی بیوروکریسی شامل ہے جن کو آج تک مصدق ملک اور شاہد خاقان عباسی کے علاوہ اور کوئی سمجھ نہیں سکا۔
🚨بھائیو اور بہنو! دل دہلا دینے والا ظلم ہو رہا ہے بجلی کے بل دینے والوں کے ساتھ!
اویس لغاری صاحب نے پہلے تو نیٹ میٹرنگ کو عملاً ختم کر کے گراس میٹرنگ (نیٹ بلنگ) تھوپ دیا۔
اب آسان الفاظ میں سمجھ لو:
جب آپ واپڈا سے بجلی خریدیں گے تو 50-55 روپے فی یونٹ دیں گے۔ جب آپ اپنی سولر بجلی گرڈ کو دیں گے تو صرف 10 روپے فی یونٹ ملیں گے!
یونٹ ٹو یونٹ ایڈجسٹمنٹ ختم! 2016-17 کی پرانی پالیسی میں ایسا ظلم نہیں تھا۔
پھر میاں نواز شریف کے نوٹس پر کہا گیا “پرانے صارفین متاثر نہیں ہوں گے” حالانکہ وہ تو پہلے ہی نیپرا کے 5-7 سالہ کنٹریکٹس میں محفوظ تھے۔
اصل کھیل یہ ہے: جیسے جیسے ان کے کنٹریکٹس ختم ہوں گے، انہیں ایک ایک کرکے 10 روپے والے نئے جال میں ڈال دیا جائے گا۔ بالآخر ہر سولر والا اسی مہنگے خریدنے اور سستے بیچنے کے چکر میں پھنس جائے گا۔
اب اویس لغاری نے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ٹیکس لگا دیے اور لائسنسنگ کی شرط ڈال دی کہ عام آدمی سولر سسٹم لگا ہی نہ سکے!
نتیجہ صاف ہے:
سولر سسٹم ختم ہو جائیں گے، لوڈشیڈنگ بڑھے گی، اور پھر مہنگی بجلی گھروں سے خریدنے کا راستہ کھلے گا جہاں کمیشن بھی بنے گا، کیونکہ سولر سے تو کوئی کمیشن نہیں بنتا تھا۔
یہ سیدھا نون لیگ کے ووٹ بینک اور متوسط طبقے پر کاری وار ہے۔
میاں نواز شریف صاحب!
وزیراعظم شہباز شریف صاحب!
فوری نوٹس لیں، اس ناقابلِ تلافی نقصان کو روکیں۔
ورنہ لوگ سولر لگانے کا خواب بھی چھوڑ دیں گے اور مہنگی بجلی کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے اور ووٹ تو آپ بھول ہی جائیں بدعائیں روز ملیں گی
اس کو کہتے ھیں پڑھا لکھا باشعور شخص کا تجزیہ۔
کمال مزمل شاہ کمال
ایک سے ڈیڑھ منٹ میں یوتھیوبرز جن کی دکانیں جھوٹ پر چلتی ھیں ان کو ایکسپوز کرکے رکھ دیا ۔