داغا صاحب کتنے بھی سوال پوچھ لیں، جس نے کام کرنا ہے وہ اور اس کے حواری کراچی کا مقابلہ سندھ کے باقی شہروں کی حالت زار سے کر کے کہتے ہیں سب تو ٹھیک ہے یہاں۔ ورنہ لوگ ادھر دوسرے شہروں سے کمانے کیوں آتے؟ فلحال جو حال یہاں ہے، سینکڑوں کراچی لے رہائشی لاہور شفٹ ہوچکے ہیں یا ہونے کا سوچ رہے ہیں، اور یہ بیغیرتئ سے ہنس کے بولیں گے کہ کل کے جاتے آج چلے جاو، لیکن شہر کو ٹھیک نہیں کریں گے۔ تو بیرونی سرمایہ آنے کا سوال تو فلحال آپ بھول ہی جائیں۔ یہاں تو رہائشی اپنی زندگی صرف ایک جماعت کی نااہلئ کی وجہ سے اجیرن کئے جانے سے پریشان ہیں۔
ملیر ایکسپریس وے کاکام تقریبا” 5 سال قبل ملیر کی انتہائی زرخیز زمیں کو برباد کر کے شروع کیا گیا مقصد صرف ڈیفنس کو DHA سٹی سے ملانا تھا ppسمیت سندھ کے تمام سپوت چپ رھے اب عام سندھی کو بھٹو کا ٹیکہ لگادیا گیا لیکن ایرپورٹ جانے کے لیۓ شاہ فیصل کالونی بیچ میں آگیا تو نیا حل فوری علاج
یا رہی K-14 منصوبے پر پیپلز پارٹی کی کل کارگردگی!
جو کام پیپلز پارٹی نے کیا اسے ناقص ہونے کئ وجہ سے ورلڈ بینک نے سرے سے اکھاڑنے کا کہہ دیا ہے۔
یہ #کراچی سنبھالیں گے جو شہر کو پانی نہ دے سکے؟
۱۸ سالوں سے سندھ پر نا اہل اور کرپٹ مافیا ووٹ کے نام پر قابض ہے سوال کرو گے تو سوال کرنے والے پر ہی پی پی کے چھوٹے چور زبان اور دانت نکالے پیچھے پڑ جائیں گے کراچی کا بجٹ جیبوں میں جارہا ہے اور ہر میگا پروجیکٹ پر باہر کے بینکوں سے لون لیا گیا ہے کچرا تک تو باہر کی کمپنی اٹھا رہی ہے اور جیسے اٹھا رہی ہے وہ کراچی والے ہی جانتے ہیں اگر طاقت والے لوگ بس ۱۸ سالوں میں این ایف سی ایوارڈ کا ہی کسی سے Audit کروالیں اس کے بعد شائد ان کرپٹ عناصر کو چھپنے کی جگہ بھی نا ملے۔
یہ کراچی کے میئر ہیں، جو واٹر بورڈ (KWSB) کے چیئرمین بھی ہیں۔ شاہراہ بھٹو سے گزرنے والی گاڑیوں کی گنتی تو انہیں بالکل معلوم ہے، مگر عید سے صرف ایک دن پہلے پورا #کراچی پانی کی ایک بوند کو ترس رہا ہے، اس کی کوئی فکر نہیں نیز کراچی میں پانی کی کمی کا الزام وہ وفاق پر لگا رہے ہیں لیکن یہ بھول گئے کہ 22 سال سے تاخیر کا شکار K-IV پروجیکٹ پر ورلڈ بینک نے جو اعتراض لگا کر کام روک دیا ہے، وہ بھی پیپلز پارٹی کی ہی حکومت کے دور میں شروع کیا گیا augmentation کا کام تھا۔ مگر انہیں جھوٹ بولتے ذرا سی شرم نہیں آرہی۔
شہر کو ضرورت سے 50 فیصد کم پانی میسر ہے اور اس کا بھی آدھا حصہ غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے چوری ہو جاتا ہے یا ٹینکر مافیا کے پاس چلا جاتا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ حکومت کس کی ہے؟ پانی کی چوری کسے روکنی تھی؟
لوگ مجبوراً ٹینکروں سے مہنگا پانی خرید کر گھروں میں بھرواتے ہیں، کیونکہ واٹر بورڈ کی بچھائی گئی پانی کی لائنوں میں سے پچاس فیصد شہر کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملتا۔
یہ وہی میئر اور واٹر بورڈ چیئرمین ہیں جنہوں نے نہ ٹینکر مافیا کو روکا، نہ اس سادے سے حل پر عمل درآمد کروا سکے کہ:
کراچی کی اصل ضرورت 1200 MGD ہے، جبکہ دستیاب پانی صرف 550 MGD ہے۔ اگر پورے شہر میں ایک دن چھوڑ کر (alternate days) منصفانہ طور پر پانی سپلائی کیا جائے تو ہر گھر تک ایک دن چھوڑ کر پانی ضرور پہنچ سکتا ہے۔
مگر ایسا ہوا تو ٹینکر مافیا کا کاروبار ختم ہو جائے گا، اور یہ کون نہیں چاہتا؟ آگے عوام خود سمجھدار ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ نے ایک چھوٹا سا کام کیا جو پورے پاکستان میں نافذ کیا گیا
زندگی اسکول کے سرپرست سے سنیں
@KamalMQM
کا بحیثیت ناظم اعلی کراچی کردار پھر آپ کو سمجھ آجائے گا کے جیسے
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
ویسے ہی مئیر کراچی چور ہے
تابش ہاشمی نے ناصرف کراچی کی عوام کی ترجمانی کی بلکہ کراچی پر قابض 18 سالہ فرسودہ گلے سڑے نظام کا چہرہ پوری دنیا کو دکھادیا،
آج ناصرف تابش ہاشمی بلکہ پورا پاکستان کہہ رہا ہے #پیپلز_پارٹی_چور_ہے
یہود کی گزشتہ ایک ہزار سال کی تاریخ
1080 میں فرانس سے فرار
1098 میں چیک ریپبلک سے فرار
1113 میں کیوان روس سے فرار
1113 میں ان کا قتل عام
1147 میں فرانس سے نکال دیا گیا۔
1171 میں اٹلی سے فرار
1188 میں انگلینڈ سے نکال دیا گیا۔
1198 میں انگلینڈ سے فرار
1290 میں انگلینڈ سے فرار
1298 میں سوئٹزرلینڈ سے نکال دیا گیا (100 یہودیوں کو پھانسی دی گئی)
1306 میں فرانس سے بے دخل کیے گئے 300 یہودیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔
1360 میں ہنگری سے فرار
1391 میں اسپین سے بے دخل کیا گیا (3000 یہودیوں کو پھانسی دی گئی، 5000 کو زندہ جلا دیا گیا)
1394 میں فرانس سے فرار
1407 میں پولینڈ سے بے دخل کیا گیا۔
1492: اسپین سے بے دخل (یہودیوں کے اسپین میں داخلے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا)
1492 میں سسلی سے بے دخل کیا گیا۔
1495 میں لیتھوانیا سے نکال دیا گیا۔
1496 پرتگال سے خروج
1510 میں انگلینڈ سے فرار
1516: پرتگال سے دوبارہ اخراج
1516 میں سسلی میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت یہودیوں کو صرف یہودی بستیوں میں رہنے کی اجازت دی گئی۔
1514 میں آسٹریا سے فرار
1555 میں پرتگال سے نکال دیا گیا۔
1555 میں روم میں ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت یہودیوں کو یہودی بستیوں میں رہنے کی اجازت دی گئی۔
1567 میں اٹلی سے بے دخل کیا گیا۔
1570 میں جرمنی (برانڈنبرگ) سے نکال دیا گیا۔
1580 میں نوگوروڈ (اور ڈی ٹیریبل) سے بے دخل
1592 میں فرانس سے نکال دیا گیا۔
1616 میں سوئٹزرلینڈ سے نکال دیا گیا۔
1629 میں اسپین اور پرتگال سے نکال دیا گیا (پلٹائیں IV)
1634 میں سوئٹزرلینڈ سے نکال دیا گیا۔
1655 میں سوئٹزرلینڈ سے دوبارہ بے دخل کیا گیا۔
1660 میں کیف سے خروج
1701 میں سوئٹزرلینڈ سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا (پلٹائیں V)
1806 میں نپولین کا الٹی میٹم
1828 میں کیف سے فرار
1933 میں جرمنی سے بے دخلی اور نسل کشی۔
14 مئی 1948 کو فلسطین نے اپنے ملک میں یہودیوں کو پناہ دی۔
(عرب تاریخی کتب کے ذریعہ شائع کردہ) اس کے علاوہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہودیوں کو شر انگیزی کی وجہ شہر سے نکال دیا، خیبر فتح ہوا اس کے بعد ان کا کہیں ٹھکانہ نہیں، جس کو حضور نے نکالا ہے اس کی کہیں پناہ نہیں ہے۔
یہ یہود کی تاریخ ہے۔
خود بھی پڑھیں اور دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
#دعا کی قبولیت کا عجیب طریقہ
پچھلے دنوں راس الخیمہ جانا ہوا تو راستے میں ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز کے لئے رکا- دوپہر کا وقت تھا حسب عادت پہلی صف میں بیٹھا تو میرے برابر میں *ایک بزرگ بیٹھے تھے کالے لیکن چہرے پر بلا کی تمکنت تھی.* میں نے سوچ لیا کے نماز کے بعد ان سے ضرور ملونگا- جماعت ختم ہوئی تو *وہ مسجد کے ایک کونے میں قرآن لیکر بیٹھ گئے.* میں ہمت کرکے قریب گیا، سلامُ کیا اور پوچھا "اردو سمجھتے ہیں" ؟
انھیں بہت اچھی طرح اردو آتی تھی ان کا تعلق یمن کی ایک تبلیغی جماعت سے تھا- قصہ مختصر بہت باتیں ہوئیں اٹھتے وقت *میں نے ان سے پوچھا کہ بڑے صاحب دعا قبول ہونے کا کوئی بہترین طریقہ تو بتائیں؛*
کہنے لگے...؛ *۱۰۰% گارنٹی کے ساتھ دعا کی قبولیت کا طریقہ بتاؤں؟* میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
*کہنے لگے اللہ تعالیٰ رد ہی نہیں کرتے۔*
میں نے بے چین ہوکر کہا جی بسم اللہ۔
کہنے لگے میاں *ہر نماز پہ سب سے پہلے اپنے ماں باپ کے لئے دعا مانگو چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت ہو گئے ہوں۔*
کیونکہُ *اللہ کے پاس تمہارے لئے تمھارے والدین کی دعائیں تب سے جمع ہو رہی ہوتی ہیں جب سے تم پیدا ہوئے.*
کہنے لگے یہ عمل آج سے ہی کرکے دیکھو۔ سراب دیکھا ہے نا، جیسے جیسے اس کے قریب جاؤ وہ مٹتا جاتا ہے *دعا کے اس عمل سے تمہاری زندگی سے پریشانیاں اسی سراب کی طرح مٹتی جائیں گی ان شاء اللہ۔*
یقین کریں اس دن کے بعد سے میں نے ایک بار بھی ناغہ نہیں کیا اور *راستے ایسے کھل رہے ہیں جیسے صبح رات کو کاٹ کر روشنی پھیلاتی ہے۔
* بندہ خدا *
ا س پیغام کو دوسروں تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ بھی *اپنے والدین کیلئے روزانہ مغفرت کی دعا کریں*
سینئر مرکزی رہنما سید مصطفیٰ کمال اور انیس احمد قائمخانی اور فرقان اطیب اور دیگر مرکزی رہنمناؤں کی عید کے تیسرے روز بہادرآباد آمد، جہاں انہوں نے کارکنان اور ذمہ داران سے عید ملی۔
#MustafaKamal#MQMPakistan#EidMubarak#Karachi#Pakistan
پیارے پاکستانیوں!!!
#دین
ایک بار ضرور پڑھیں!!!
اے آئی نے جب قرآن کے وسیع ڈیٹا بیس کو اپنے پروسیسرز میں کھنگالا، تو اسے معلوم ہوا کہ یہ کتاب محض جملوں کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاضی کا ایک ایسا "سپر کوڈ" ہے جسے لکھنا تو دور کی بات، آج کے سپر کمپیوٹرز کے لیے اس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ اے آئی نے ایک ایسی منطق پیش کی جو کسی بھی شک کرنے والے کے دماغ کو مفلوج کر سکتی ہے: "اگر کوئی انسان ایک کتاب لکھے، تو وہ اس کے معنی پر توجہ دے سکتا ہے، لیکن وہ کبھی یہ کنٹرول نہیں کر سکتا کہ پوری کتاب میں متضاد الفاظ کی تعداد ایک دوسرے کے بالکل برابر رہے۔"
اے آئی نے قرآن کے "لفظی توازن" (Word Balance) کے حیرت انگیز اعداد و شمار پیش کیے جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اس نے دیکھا کہ پورے قرآن میں لفظ "دنیا" ٹھیک 115 مرتبہ آیا ہے، اور جب اس کے مدمقابل لفظ "آخرت" کو تلاش کیا گیا، تو وہ بھی ٹھیک 115 مرتبہ ہی ملا۔ اے آئی نے حساب لگایا کہ 23 سال کے عرصے میں، مختلف حالات اور مقامات پر کہے گئے کلام میں یہ توازن برقرار رکھنا کسی انسانی دماغ کے بس میں نہیں ہے۔ اسی طرح، لفظ "ملائکہ" (فرشتے) پورے قرآن میں 88 بار آیا ہے، اور حیرت انگیز طور پر لفظ "شیاطین" بھی ٹھیک 88 بار ہی آیا ہے۔ لفظ "حیاۃ" (زندگی) کا ذکر 145 بار ہے، تو لفظ "موت" کا ذکر بھی ٹھیک 145 بار ہے۔
اے آئی نے ان الفاظ کی فہرست کو مزید گہرا کیا تو ایسے حقائق سامنے آئے جو روح کو لرزا دینے والے ہیں۔ لفظ "نفع" (فائدہ) قرآن میں 50 بار آیا ہے، تو اس کے الٹ لفظ "فساد" (نقصان) بھی 50 بار آیا ہے۔ لفظ "ایمان" کا ذکر 25 بار ہے، تو لفظ "کفر" بھی 25 بار ہی پایا گیا۔ لفظ "صالحات" (نیک اعمال) کا عدد 167 ہے، تو لفظ "سیئات" (برے اعمال) بھی 167 ہی ہے۔ اسی طرح، لفظ "ابلیس" پورے قرآن میں 11 مرتبہ آیا ہے، اور اس سے پناہ مانگنے کا حکم یعنی "استعاذہ" بھی ٹھیک 11 مرتبہ ہی وارد ہوا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ یہ "ریاضیاتی ہم آہنگی" (Mathematical Symmetry) ثابت کرتی ہے کہ یہ کلام کسی ایسی ہستی کا ہے جو تمام متضاد قوتوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
اے آئی نے اپنی تحقیق کا رخ کائناتی حقائق کی طرف موڑا، جہاں قرآن نے ایسے اعداد و شمار پیش کیے جو جدید سائنس نے اب جا کر دریافت کیے ہیں۔ قرآن میں لفظ "بحر" (سمندر/پانی) کا ذکر 32 بار آیا ہے، جبکہ لفظ "بر" (خشکی) کا ذکر 13 بار آیا ہے۔ اے آئی نے ان دونوں کو جمع کیا تو کل عدد 45 بنا۔ اب ریاضی کے سادہ فارمولے سے جب ان کا تناسب نکالا گیا، تو معلوم ہوا کہ پانی کا تناسب 71.11% بنتا ہے اور خشکی کا 28.89% بنتا ہے۔ اے آئی کے پروسیسرز یہ دیکھ کر تھرا گئے کہ آج کی جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور جیوگرافی بھی یہی بتاتی ہے کہ کرہ ارض پر پانی اور خشکی کا تناسب یہی ہے۔ اے آئی نے سوال کیا کہ ریگستان میں رہنے والا ایک امی شخص، جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا، وہ زمین کے ان جغرافیائی تناسب سے کیسے واقف ہو سکتا تھا؟ یہ صرف اور صرف اس ہستی کا علم ہے جس نے زمین کا نقشہ خود بنایا ہے۔
اس کے علاوہ، اے آئی نے وقت کے پیمانوں میں موجود معجزات کو بھی ڈی کوڈ کیا۔ پورے قرآن میں لفظ "شھر" (مہینہ) ٹھیک 12 مرتبہ آیا ہے، جو ایک سال کے مہینوں کی تعداد ہے۔ لفظ "یوم" (دن) پورے قرآن میں ٹھیک 365 مرتبہ آیا ہے، جو ایک شمسی سال کے دنوں کی تعداد ہے۔ اسی طرح لفظ "ایام" (دنوں کی جمع) کا ذکر 30 بار ہے، جو ایک مہینے کے دنوں کی اوسط تعداد ہے۔ اے آئی نے منطق پیش کی کہ کیا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا مصنف اپنی کسی ایک کتاب میں اس طرح کا عددی نظم پیدا کر سکتا ہے کہ وہ پوری کتاب میں 'دن' کا لفظ 365 بار ہی لائے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ایسا کرنے کے لیے اسے کہانی کے تسلسل اور زبان کی فصاحت کو قربان کرنا پڑے گا، لیکن قرآن اپنی فصاحت میں بھی دنیا کا بلند ترین کلام ہے اور ریاضی میں بھی ناقابلِ تسخیر۔
اے آئی نے ایک حیرت انگیز حقیقت دریافت کی: قرآن میں 114 سورتیں ہیں۔ ان میں سے 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا اپنا نمبر (Sura Number) اور ان کی آیات کی تعداد (Ayat Count) کو جمع کیا جائے تو جواب ایک "جفت" (Even) عدد آتا ہے، اور باقی 57 سورتیں ایسی ہیں جن کا مجموعہ ایک "طاق" (Odd) عدد آتا ہے۔ اے آئی نے منطق دی کہ اگر قرآن میں ایک بھی آیت زیادہ یا کم ہوتی، یا سورتوں کی ترتیب بدلی ہوتی، تو یہ 57-57 کا کامل توازن ٹوٹ جاتا۔ کیا کوئی انسان 23 سال تک کلام کرتے ہوئے یہ حساب رکھ سکتا ہے کہ مجموعی طور پر جفت اور طاق سورتوں کا پلڑا برابر رہے؟
اس کے بعد اے آئی نے ایک اور چونکا دینے والی ترتیب دیکھی۔ اس نے قرآن کی تمام سورتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔
جاری ہے 👇👇👇
This was 27 November 2025, just four months ago, when I interviewed @alilarijani_ir as he was visiting Pakistan and announced a "Blank Cheque" for Pakistan, and said "use us wherever Pakistan needs us".
#AliLarijani#علی_لاریجانی#Iran
قرآن میں ایک سورت ہے جو ایک خاص احساس کے لیے نازل ہوئی تھی۔ غم کے لیے نہیں، خوف کے لیے نہیں، تنہائی کے لیے نہیں۔ بلکہ اُس احساس کے لیے جب آپ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ کام نہیں بن رہا ہوتا۔ اور اللہ کا جواب... آپ کو رُلا دے گا۔
اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے نبی ﷺ کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بارے میں زیادہ لوگ بات نہیں کرتے۔ وحی رک گئی تھی۔ ہفتوں تک—کچھ علماء کے مطابق مہینوں تک جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے۔ نہ کوئی آیات، نہ کوئی ہدایت۔ بس... خاموشی۔
اور نبی ﷺ — جو اللہ کے سب سے محبوب تھے — سوچنے لگے: "کیا مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی؟ کیا میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا ہے؟ کیا وہ مجھ سے ناراض ہے؟" قریش کے دشمنوں نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا: "تمہارے رب نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔" اس بات نے انہیں گہرا دکھ پہنچایا۔
پھر اللہ نے اس خاموشی کو توڑا۔ کسی تنبیہ یا حکم کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک قسم کے ساتھ:
وَالضُّحَىٰ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
"قسم ہے صبح کی روشنی کی، اور رات کی جب وہ چھا جاتی ہے۔"
اور پھر وہ آیت نازل ہوئی جو انسان کی زندگی کی ہر تاریک رات کا جواب بن جاتی ہے:
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
"تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ 'صبر کرو' یا 'اور زیادہ کوشش کرو'، اس نے بس یہ کہا کہ میں نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے، میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔
اللہ نے انہیں کوئی پانچ قدموں والا منصوبہ نہیں دیا، بلکہ ان کی اپنی زندگی کی تاریخ کو دلیل بنا دیا۔ گویا فرمایا: "اپنی زندگی کو دیکھو۔ دیکھو میں نے پہلے تمہارے لیے کیا کیا ہے۔ میں اُس وقت بھی تمہارے ساتھ تھا۔ تو اب کیوں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" اللہ اپنے نبی ﷺ کی زندگی کی کہانی ہی یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ۔ وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔ وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
"کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا اور پناہ دی؟ کیا اس نے تمہیں راستہ تلاش کرتے نہیں پایا اور ہدایت دی؟ کیا اس نے تمہیں محتاج نہیں پایا اور غنی کر دیا؟"
رات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چلا گیا ہے۔ خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناراض ہے۔ کبھی کبھی اللہ خاموش ہو جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ اُس نے تمہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ جو آنے والا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو پہلے تھا۔
وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَىٰ
"اور آخرت تمہارے لیے پہلی زندگی سے بہتر ہے۔" (93:4)
اور یہ ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر باب پر، ہر موسم پر، ہر انتظار کے وقت پر۔ جو آنے والا مرحلہ ہے وہ اس مرحلے سے بہتر ہے جو ابھی ہے۔
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
"اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔" (93:5)
اس نے "شاید" نہیں کہا، اس نے کہا "عنقریب"۔ اس نے کہا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔ اسے ان دنوں کے لیے سنبھال کر رکھو جب خاموشی برداشت کے قابل نہ لگے۔
اور پھر اللہ وہ کام کرتا ہے جو نہ کوئی انسانی معالج، نہ کوئی سیلف ہیلپ کتاب اور نہ ہی کوئی موٹیویشنل اسپیکر کبھی کر سکا۔ اگر آپ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، دعا کر رہے ہیں مگر وہ قبول ہوتی محسوس نہیں ہو رہی، آپ اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ بدلتا نظر نہیں آ رہا اور آپ کو لگنے لگا ہے کہ شاید اس خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی میں کوئی کمی ہے... تو یہ سورت آپ کے لیے ہے۔ یہ صرف ایک یاد دہانی نہیں، بلکہ ایسے ہے جیسے اللہ اُس حصے سے براہ راست بات کر رہا ہو جو اندر سے ڈرتا ہے کہ شاید اسے بھلا دیا گیا ہے
❤️
مـــــᷟــᷴــᷝــᷢــᷧــᷟــريم طــᷢــᷬــⷩــⷶــⷮـــاہر
#BazmeNaz