تندور سے روٹی چوری کرنے کا مقدمہ اور پشاور کی عدالت کا انصاف بھرا فیصلہ دو روز قبل پشاور قصہ خوانی بازار میں عورت کا تندور سے روٹی چوری کرنے کا معاملہ سامنے آیا تندور مالک نے خاتون پے تشدد کیا اور پولیس کے حوالے کر دیا کل پشاور پولیس نے خاتون کو چوری کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ جج صاحب نے خاتون سے سارا معاملہ پوچھا عورت نے روتے ہوئے بتایا میرا نام گُل بانو ہے ایک حادثہ میں میرے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے میرے تین یتیم بچے ہیں جو دو روز سے بھوکے تھے گھر میں کوئی کمانے والا نہیں میں نے مجبوری میں تندور سے روٹی اٹھائی۔ گُل بانو کے جسم پے ت شدد کے واضح نشان نظر آ رہے تھے۔ جج صاحب نے سب سے پہلے تندور مالک کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جس نے غریب بیوہ عورت پر ت شدد کیا۔ تندور مالک کو دو سال جیل کی سزا اور 5 لاکھ روپے حرجانہ کا فیصلہ سنایا۔ s.h.o کینٹ کو تبادلے کا حکم دیا۔ اور ڈی-سی پشاور کو پابند کیا کے سرکاری خزانے سے بیوہ خاتون اور اس کے بچوں کی کفالت کی جائے۔
میں تلخیٔ حیات سےگھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سےگھبرا کے پی گیا
اتنی دقیق شےکوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سےگھبرا کے پی گیا
چھلکے ہوئے تھے جام ، پریشاں تھی زلفِ یار
کچھ ایسےحادثات سےگھبرا کے پی گیا
میں آدمی ہوں کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا
وہ شوق،وہ تڑپ، وہ عقیدت نہیں ریی
اب تو ہمیں کسی سے محبت نہیں رہی
مصروف کر دیا ہے سبھی کو حیات نے
جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
اب سوچتی ہوں زاد سفر پھینک ہی نہ دوں
چلنے کی اب تو پاؤں میں ہمت نہیں رہی
دیمک ہی چاٹ جاۓ نہ باقی خلوص کو
دیوار تو بچا لوں اگر چھت نہیں رہی
پتھر بھی کوئی مارنے والا نہیں تو کیا
پاگل کی اب جہان میں عزت نہیں رہی ؟
کرنی ہے میرے ہجر کی اب تو نے دیکھ بھال
پروردگار مجھ میں تو طاقت نہیں رہی
مہوش بکھر چکی ہیں تعلق کی کرچیاں
اس پر سمیٹنے کی بھی فرصت نہیں رہی
مہوش ملک
میں نے پوچھا:
بابا جی یہ تو بتائیں کہ مکّہ زیادہ افضل ہے یا مدینہ؟
بابا جی نے کہا:
پُتّر اپنا بٹوہ نکال۔
میں نے اپنا بٹوہ نِکالا اور بابا جی کے سامنے رکھ دیا۔
بابا جی نے میرے بٹوے کی طرف دیکھا اور کہا:
پُتّر فرض کر لے کہ تیرے اس بٹوے کی قیمت پانچ روپیہ ہے۔
اس میں اگر تو ایک لاکھ روپیہ کا ہیرا جڑ دے تو پِھر اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور بجائے پانچ روپے کے ایک لاکھ ہو جائے گی۔ اور پھر اگر بٹوے کے اندر پانچ پانچ ہزار کے بیس نوٹ رکھ لے تو تیرے بٹوے کی مالیت ایک لاکھ سے بڑھ کے دو لاکھ ہو جائے گی۔
پُتّر یاد رکھ۔۔۔ اللّہ تعالیٰ کے خزانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وجود حضور سرورِ عالم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر زمین پر ہوں تو زمین آسمان سے افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم آسمان پر ہوں تو آسمان زمین سے افضل۔اسی اصول کی بِناء پر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اگر مکّہ میں ہوں تو مدینہ سے مکّہ افضل اور اگر حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں ہوں تو مدینہ مکّہ سے افضل۔فضیلت کا موجب حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا وجودِ باجود ہے۔حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم مکّہ میں تھے تو خدائے تعالیٰ نے مکّہ معظمہ کی قسم یاد فرمائی اور فرمایا:
لَآ اُقْسِمُ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اس شہر ( مکّہ ) کی قسم ہے۔ (سورۃ البلد،آیت:۱ )
کیوں؟ کیا اس لیے کہ اُس میں اُس کا گھر ( کعبہ ) ہے؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اس میں صفا مروہ کی پہاڑیاں ہیں؟ نہیں! کیا اس لیے کہ اُس میں چاہ زم زم ہے؟ نہیں! تو پِھر خدا نے اس شہر کی قسم کیوں یاد فرمائی؟ اللّہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاَنْتَ حِلٌّ بِـهٰذَا الْبَلَدِ۔ اے محبوب! تم اس میں تشریف فرما ہو۔
( سورۃ البلد،آیت:۲ )
اللهم صل علی محمد و آلہ محمد
کہاں آنے تھے جہاز، کِس کا جھنڈا تھا ،اُسے بُھول جا !!
جو مِل گیا پٹرول ، اُسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا ، اُسے بُھول جا !!
وہ تیرے نصیب کا پٹرول ، کسی اور مُلک جو چلا گیا !
دلِ بے خبر ، میری بات سُن ، لائین میں لگ ، اُسے بُھول جا !!!
*السلام عليكم ورحمة اللّه وبركاته
تقبل الله منا ومنكم صالح الاعمال
میرے طرف سے آپکو اور آپکے اہل خانہ کو عیدالفطر کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔
*ﷲ تعالٰی آپ کی روزے اورعبادت اپنی دربار میں قبول فرماۓ یہ عیدآپ کے لیے خوشیوں،رحمتوں اوربرکتوں سے بھرپور بنائے۔آمین
*گیلانی *
🥀
لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ گئے
ہم لوگ خاک اوڑھ کے قبروں میں آ گئے
آ جا کہ اب تو سارا زمانہ بدل گیا
خانہ بدوش لوگ بھی شہروں میں آ گئے
مدت کے بعد آئینہ دیکھا تو رو پڑا
اندر کے درد چہرے کی جھریوں میں آ گئے
اتنی سُبُک روی سے چلی ہے یہ زندگی
رستے کے گرد باد بھی روحوں میں آ گئے
یہ کس کی یاد نے درِ دل کھٹکھٹا دیا
دریا کہاں سے بانجھ سی آنکھوں میں آ گئے
کس کم سخن کی خامشی پھیلی ہے صحن میں
یہ کس کے خدّ و خال گلابوں میں آ گئے
ایسی حوادثات کی لُو چل پڑی ہے یار
مخمل مزاج خاک کی بانہوں میں آ گئے
میثم علی آغا
حدیث:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“مومن کو جو بھی تکلیف، بیماری، غم یا پریشانی پہنچتی ہے حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔”
حوالہ:
صحیح بخاری، کتاب المرضى، حدیث: 5641
صحیح مسلم، حدیث: 2573
تو کیوں بے دخل کرتا ھے مکانوں سے مکینوں کو
وہ دہشت گرد بن جاتے ہیں جن کے گھر نہیں رھتے
یقینا یہ رعایا بادشاہ کو قتل کر دے گی
مسلسل جبر سے محسن دلوں میں ڈر نہیں رھتے
محسن نقوی
یہ ایک حقیقت ھے کہ 7 چیزیں عوام کے لیے انتہائی مہنگی ہیں
1۔۔بجلی
2۔۔گیس
3۔۔گاڑی
4۔۔پٹرول
5۔۔گھر
6۔۔علاج
7۔۔سفر
اور بدقسمتی سے یہی 7 چیزیں اشرافیہ کے لئے تقریبآ فری ہیں۔
جب یہ 7 چیزیں عام عوام کی پہنچ میں ہوں گی تبھی حقیقی معنوں میں انصاف ہو گا اور تبدیلی آئے گی۔